30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے کىا تلوارىں چلانے سے بھى زىادہ سخت ہىں ۔ رُوح قبض ہوتے وقت موت کا اىک جھٹکا تلوار کے ہزار وار سے بھى سخت ہے ۔ ([1])جانور کو واقعى تکلىف ہوتی ہے لىکن مَرنے والے اِنسان کو اس سے ہزاروں لاکھوں گنا زیادہ تکلىف ہوتى ہے البتہ اس کی تکلیف دوسروں کو سمجھ نہىں آتى ۔ ہم اللہ پاک سے عافىت کا سُوال کرتے ہیں ۔ نزع کے وقت محبوب کا جَلوہ اگر نگاہوں مىں ہوا تو ىہ تکلىفىں ہونے کے باوجود محسوس نہىں ہوں گى، جىسے ڈاکٹر جب بے ہوش کر کے آپرىشن کرتے ہىں تو بے ہوشى کى وجہ سے کاٹ پىٹ کى تکلىف محسوس نہىں ہوتی ۔ اِسی طرح عاشقِ رَسُول جب جَلوۂ محبوب دىکھے گا تو وہ جَلوؤں مىں ایسا گم ہو جائے گا کہ اسے کوئى ہوش نہىں رہے گا اور ىُوں بغىر تکلىف کے اس کى رُوح نکل جائے گى ۔ جس کے ساتھ اىسا ہوجائے وَاللہ اس کى قسمت پر رَشک ہے اوروہ بڑا خوش نصىب ہے ۔ اللہ پاک ہمىں بھى ىہ سعادت بخشے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم
سکرات مىں گر روئے محمد پہ نظر ہو
ہر موت کا جھٹکا بھى مجھے پھر تو مزا دے (وسائلِ بخشش)
روزانہ انڈا کھانا صحت کے لیے کیسا ہے ؟
سُوال: روزانہ صبح ناشتے میں انڈے کھانا صحت کے لیے کىسا ہے ؟
جواب: وہ دىسى مُرغى جو چُھوٹى پھرتى ہے اس کے انڈے اچھے ہوتے ہیں لہٰذا اس کے دىسى انڈے کھائے جائىں ۔ انڈا وىسے بڑا مفىد ہے اور اِس مىں کافی غِذائى اَجزا ہىں ۔ سفىدى کے الگ خواص ہىں، زردى کے الگ فوائد ہىں ۔ بندوں کی اپنى اپنى کىفىات ہوتى ہىں، اگر موافق ہوتو زردى اور سفىدى دونوں کھائى جا سکتى ہیں ۔ دونوں اکٹھے موافق نہ ہوں تو جنہیں سفىدى موافق آتی ہو وہ سفىدى کھائىں اور جنہیں فقط زردى موافق آتی ہو وہ زردى کھائیں ۔ عمر کے ساتھ ساتھ ہاضمے کی کارکردگی میں فرق پڑتا ہے لہٰذا جسے ایک انڈا ہضم ہو جاتا ہو وہ ایک کھالے اور جسے دو تىن بھى ہضم ہو جاتے ہوں وہ بھلے دو تىن کھالے ۔ ہر ایک کی جسمانی کىفىات الگ الگ ہوتی ہیں ، بعض اىسے بھى ہوں گے جنہیں انڈا کھاتے ہى خارش شروع ہو جاتی ہوگى یا انڈا پىٹ مىں قبضہ جما لىتا ہو گا اور ہضم نہ ہونے کے سبب پرىشان کرتا ہو گاتو اپنى اپنى کىفىت کے مُطابق انڈا اِستعمال کرنا چاہىے ۔ اگر کسی کو پورا انڈا ہضم نہىں ہوتا تو وہ آدھا کھالے ، آدھا بھى نہىں چلتا تو چوتھائى کھالے ۔ بہرحال کچھ نہ کچھ انڈا کھانا چاہىے کہ ىہ بھى اللہپاک کى نعمت ہے اور اس کے بھى اپنے فوائد ہىں ۔
سُوال: بعض لوگ دودھ مىں کچا انڈا ڈال کر پىتے ہىں ، کیا ىہ صحت کے لىے مفید ہے ؟
جواب: دودھ اور انڈا دونوں چیزیں مُفىد ہیں لہٰذا جس کو دودھ اور انڈا ہضم ہو جاتا ہو تو وہ دونوں کو مِلاکر اِستعمال کر سکتا ہے ، بلکہ ممکن ہے کہ جسے اکیلا انڈا کھانے سے Side Effect(منفى اثرات) ہوتے ہىں تو دودھ کے ساتھ ملا کر کھانے سے اس مىں کمى آجائے ۔ دود ھ اور انڈا دونوں ایک ساتھ موافق ہیں یا نہیں؟اس کی معلومات کی دو صورتىں ہىں: اىک ىہ کہ اپنا تجربہ ہو کہ انڈا اور دُودھ دونوں کو ملاکر اِستعمال کرنا اسے فائدہ دیتا ہے ىا نقصان ۔ دوسرى صورت ىہ ہے کہ اپنے طبىب سے مشورہ کر لیا جائے ۔ یاد رہے کہ ڈاکٹر ہمیشہ اىک رکھنا چاہىے ۔ کئى ڈاکٹروں کے پاس پھرنے والا کامىاب نہىں ہوتا کیونکہ بعض دوائىں Side Effect(منفى اثرات) بھى کرتی ہىں ۔ اىک ڈاکٹر مخصوص کر لیں گے تو اس کو مریض کی کىفىت پتا ہو گی کہ کون
سى دَوا اسے چلتى ہے اور کون سى دَوا سے اسے الرجى ہو جاتى ہے ؟کس دَوا سے اس کے پىٹ مىں گڑ بڑ ہو جاتى ہے اورکس دَوا سے اس کى نىند اُڑ جاتى ہے ؟ وغیرہ وغیرہ ۔ بہرحال اپنے طبىب سے مشور ہ کر لىا جائے کہ مجھے انڈا کھانا مفید ہے ىا نہىں ؟
اگر کوئی حادثے سے بچ جائے تو شکرانے میں کیا کرے ؟
سُوال: اگر کسى کے ساتھ کوئی حادثہ پىش آ جائے اور وہ اس حادثے میں موت سے بال بال بچے تو اُسے کىا کرنا چاہىے ؟ (ایک ویڈیو دِکھا کر سُوال کیا گیا جس میں موٹرسائیکل سوار بڑے ٹرالر کے نیچے آنے سے بال بال بچا ۔ )
جواب: جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے ۔ اللہ پاک بچانے والا ہے لیکن اِس مىں بھى عبرت ہے کہ کوئی کتنا بھى بچتا رہے آخر موت ہے ، کر لے جو کرنا ہے آخر موت ہے ۔ بہرحال حادثے سے بچ جانے والے شخص کو اللہ پاک کا شکر ادا کرتے ہوئے اپنى زندگى کو مزىد بہتر بنانے کى طرف رُخ کرنا چاہىے ۔ حادثے سے بچ جانے کو اپنا کمال سمجھنے کے بجائے اللہ پاک کى طرف سے دى ہوئى مہلت تَصَوُّر کرے ۔ بندہ یہ تَصَوُّر کرے کہ اللہ پاک کا کَرم ہو گىا اور اس نے مجھے سنبھلنے کا موقع دىا ہے ، اِس طرح کے حادثات میں نہ جانے کتنے کچل کر فوت ہو جاتے ہىں لىکن میرے ربّ نے مجھے بچا لىا اور ایک مہلت مزید دے دی کہ اب بھى باز آجا، اب بھى سرکشى چھوڑ دے ، اب بھى نافرمانى چھوڑ دے ، اب بھى نمازوں کى طرف آ جا، گناہوں کو چھوڑ کر نىکىوں کى طرف آ جا ۔ ورنہ پھر ظاہر ہے کہ جس نے زندگى کے پھول جمع کىے آخر کار موت کے کانٹے نے اُسے زخمى کىا ۔ جس نے خوشىوں کا گنج پاىا اُسے موت کا رَنج مل کر رہا ۔ بچنا تو کسى نے بھى نہىں ہے ۔ ہم سب نے موت کا کانٹا نگل لیا ہے جیسے مچھلى جب کانٹا نگل لىتی ہے تو اب درىا مىں اِدھر اُدھر بھاگتی ہے ۔ شکارى کے ہاتھ میں اس کی لگام ہوتی ہے اور گوىا اسے کہہ رہا ہوتا ہے کہ جتنا بھاگنا ہے بھاگ لے لیکن جب مىں نے جھٹکا دىا تو تُو نے آنا مىرے ہى پاس ہے ۔ ہمارى لگام بھی کسى اور کے پاس ہے ۔ اللہ پاک جب چاہے گا ہمارى رُوح قبض کر لى جائے گى ۔ بہرحال کسی حادثے سے بچ جانا ىہ مقامِ شکر بھى ہوتا ہے اور مقامِ توبہ بھى ہوتا ہے ۔ بندہ خود کو ڈرائے اورنىکى کى راہ لے ۔
[1] حلية الاولیاء، ذکر طبقة من تابعی اھل الشام، مکحول الشامی، ۵ / ۲۱۳، حدیث:۶۸۶۸ ماخوذاً دار الکتب العلمية بیروت-اللہ والوں کی باتیں(مترجم)، ۵ / ۲۴۰مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع