30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جو دِین بڑی شان سے نکلا تھا وطن سے پردیس میں وہ آج غریبُ الغربا ہے
فریاد ہے اے کشتیٔ اُمّت کے نگہباں بیڑا یہ تباہی کے قریب آن لگا ہے
پورے شَعْبَانُ الْمُعَظَّم کے روزے رکھنا کیسا؟
سُوال : کیا پورے شعبان کے روزے رکھ سکتے ہیں؟
جواب : اگر رَمَضان کے روزوں میں کمزوری کا اندیشہ نہ ہو تو شعبان کے پورے روزے رکھنے میں کوئی حَرج نہیں کیونکہ یہ ثواب کا کام ہے ۔ ([1])روزے رکھنے والے رکھتے بھی ہیں بلکہ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول میں کئی ایسے اسلامی بھائی ملیں گے جو رَجب، شعبان اور رَمضان پورے تین ماہ کے روزے رکھتے ہیں ۔
نفلى روزے کى نیت کب اور کس طرح کی جائے ؟
سُوال : نفلى روزے کى نىت کب تک کی جا سکتی ہے ؟نیز نفلی روزے کی نیت کس طرح کى جائے ؟
جواب : نفل روزے کى نىت سورج غُروب ہونے کے بعد رات مىں جب چاہىں کر لىں، یونہی نفل روزے کی نیت صبح صادق کے بعد بھى کى جا سکتى ہے اور اگر قصداً کچھ کھایا پیا نہ ہو تو نصفُ النہار(یعنی ضحوۂ کبریٰ کا وقت شروع ہونے سے پہلے جسے عوام زوال کا وقت کہتے ہیں اس ) سے پہلے پہلے بھی کی جا سکتی ہے ۔ اگر صبح صادق کے بعد نیت کرنی ہو تو اِس طرح نیت کریں کہ صبح سے میرا روزہ ہے ۔ ([2])اگر رات میں نیت کرنی ہو تو یوں نیت کریں کہ کل میرا روزہ ہے ۔ یاد رَکھیے !نیت کے لیے اَلفاظ کہنا شرط نہىں دِل مىں نىت ہونا کافى ہے ۔
رات کو روزے کی نیت کرنے سے کیا کھانے پینے سے رُکنا پڑے گا؟
سُوال : کسی نے غُروبِ آفتاب کے بعد روزے کی نىت کر لی تو کیا وہ صبح تک کچھ کھا پی نہیں سکتا؟(نگرانِ شُوریٰ کا سُوال)
جواب : رات کو نىت کرنے سے بقیہ رات کھانا پىنا موقوف نہىں ہو جاتا ۔ اگر نیت کرنے والا چاہے تو کھانا پىنا جارى رکھ سکتا ہے البتہ صبح صادق ہونے سے پہلے کھانا پینا بند کرنا ہو گا ۔ اگر کسی نے رات میں نیت کر لی اور پھر صبح صادق سے پہلے کچھ کھاىا پىا تو دوبارہ نىت کرنے کی ضَرورت نہىں جب تک کہ نىت تبدىل نہ کی گئی ہو یعنی ىہ طے نہ کر لىا ہو کہ کل روزہ نہىں رکھوں گا ۔ اگر نیت تبدیل کر لی اور پھر سے روزہ رکھنے کاذہن بنا تو اب دوبارہ نىت کرنى ہو گى ۔
سُوال : اِسلام کا کىا معنیٰ ہے ؟
جواب : اِسلام کا معنیٰ”ماننا اور دِل سے قبول کرنا“ہے ۔ تَصدىق کا مقام دِل ہے جبکہ فرمانبردارى اس کا نتىجہ ہے جو کہ جسم کے ہر حصّے سے ظاہر ہوتى ہے ۔ ([3])
سُوال : اَرکانِ اِسلام کتنے ہىں ؟
جواب : اَرکانِ اِسلام پانچ ہیں ۔ چنانچہ حضرتِ سَیِّدُنا عَبْدُاللہ بِن عُمر رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا سے رِواىت ہے کہ نبیٔ کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرماىا : اِسلام پانچ چىزوں پر قائم کىا گىا ہے : (1) اِس بات کى گواہى دینا کہ اللہ پاک کے سِوا کوئى معبود نہىں اور محمد صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم اس کے بندے اور رَسُول ہىں(2)نماز قائم کرنا(3)زکوٰة دىنا(4) حج کرنا(5) رَمَضان کے روزے رکھنا ۔ ([4])اِس حدیث ِ پاک کے تحت مشہور مُفَسّر، حَکِیْمُ الْاُمَّت حضرت مفتى احمد ىار خان رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ فرماتے ہىں : ىعنى اِسلام مثلِ خىمہ ىا چھت کے ہے اور ىہ پانچ اَرکان اس کے پانچ ستونوں کى طرح ہىں کہ جو کوئى ان مىں سے اىک کا بھى اِنکار کرے گا وہ اِسلام سے نکل جائے گا اور اس کا اِسلام منہدم ہو جائے گا ىعنى اِسلام کی عمارت گر جائے گى ۔ ([5])
سُوال : کيا قضائے عُمری ضَروری ہے ؟
جواب : قضائے عُمری فرض ہے ۔ جس کى نمازىں قضا ہو گئیں اس کى توبہ کى صورت ىہى ہے کہ وہ توبہ کرنے کے ساتھ ساتھ تلافى بھى کرے یعنی جو نمازىں قضا ہوئى ہىں وہ سب کی سب ادا بھی کرے ۔
سُوال : قضائے عُمری کن نمازوں کی ہوتی ہے ؟(نگرانِ شُوریٰ کا سُوال)
جواب : قضائے عُمری صرف فرض اور وتر کی ہوتی ہے تو یوں ایک دِن کی 20 رَکعتیں بنتی ہیں : دو فرض نمازِ فجر کے ، چار فرض نمازِ ظہر کے ، چار فرض نمازِ عصر کے ، تین فرض نمازِ
[1] شارحِ بخاری ،فقیہِ اعظم ہند حضرت علّامہ مولانا مفتی شریفُ الحق امجدی رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ فرماتے ہیں:شعبان میں جسے قوت ہو وہ زیادہ سے زیادہ روزے رکھے۔البتہ جو کمزور ہو وہ روزہ نہ رکھے کیونکہ اس سے رَمَضان کے روزوں پر اثر پڑے گا ۔یہی محمل(یعنی مُراد ومقصد)ہے ان اَحادیث کا جن میں فرمایا گیا کہ نصف(یعنی آدھے)شعبان کے بعد روزہ نہ رکھو۔(نزھۃ القاری ،۳/۳۸۰)
[2] درمختار مع رد المحتار، کتاب الصوم،۳/۳۹۳-۳۹۴ ماخوذاً دار المعرفة بیروت-بہارِ شریعت،۱/۹۶۷، حصہ:۵ ماخوذاً
[3] احیاء العلوم،کتاب قواعد العقائد،الفصل الرابع،۱/ ۱۶۰ دار صادر بیروت-احیاء العلوم(مترجم)، ۱/۳۶۵ مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی
[4] مسلم،کتاب الایمان، باب بیان ارکان الاسلام و دعائمه العظام،ص۳۷، حدیث:۱۱۱ دار الکتاب العربی بیروت
[5] مراٰۃ المناجیح،۱/۲۷ ضیاء القرآن پبلی کیشنز مرکز الاولیا لاہور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع