30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
امیرِ اہلِ سنّت دامت بَرَکاتُہمُ العالیہ کی دلجوئی کا اَنداز
(امیرِ اہلِ سنّت دامت بَرَکاتُہمُ العالیہ فرماتے ہیں:)دعوتِ اسلامی کے آغاز میں کہ جب قافلے کی اصطلاح نہیں تھی اور قافلے کو وَفد بولا جاتا تھااس دور میں زیادہ تَر بیانات میں خود ہی کیا کرتا تھا۔ اگرچہ اس وقت ”مدنی مقصد “کے لیے الفاظ مخصوص نہیں تھے مگر میرے ذہن میں یہی ہوتا تھا کہ ”مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے۔“ اَلحمدُ لِلّٰہ! میں نے شیطان اور نفسِ اَمّارہ کے خلاف جہاد جاری رکھا ہوا ہےاور
حدیثِ پاک میں ہے : اَلْمُجَاھِدُ مَنْ جَاھَدَ نَفْسَہٗ یعنی مجاہد وہ ہے جو اپنے نفس کے ساتھ جہاد کرے۔
( مسند امام احمد، 9/249،حدیث :24013 ملتقطاً)
بہرحال چُھٹّی سے ایک دن پہلے میں (یعنی امیرِ اہلِ سنّت)یہ اعلان کیا کرتا تھا کہ کل چھٹی ہے ہم دوپہر کو اتنے بجے گھر سے روانہ ہوں گے اور فلاں مسجد میں عصر ، فلاں مسجد میں مغرب اور فلاں مسجد میں عشا کا بیان ہو گا ، اَلحمدُ لِلّٰہ !میرے اعلان کرنے پر 80، 90 بلکہ 100 اسلامی بھائی جمع ہو جایا کرتے تھے اور پھر مختلف مساجد میں جا کر نیکی کی دعوت کی دھومیں مچایا کرتے تھے۔ اللہ پاک کے فضل وکرم سے اس وقت بھی میرا مسلمانوں کی دلجوئی کا ذہن تھا ، سنّتوں بھرے بیانات سننے کے لیے بہت سے نئے نئے لوگ آتے تھے اور میری کوشش ہوتی تھی کہ جو ایک بار آ گیا سو آ گیا اب اُسے دینی ماحول سے واپس نہیں جانا چاہیے ، اسی مقصد کے تحت میں اسلامی بھائیوں سے مِزاج پُرسی کرتا اور راہ چلتے ہوئے اپنا ایک ہاتھ کسی اسلامی بھائی کے کندھے پر رکھتا اور دوسرے ہاتھ سے کسی کو تھام لیتا تھا اور اس دوران تیسرے اسلامی بھائی سے بات چیت شروع کر دیتا، یوں اَلحمدُ لِلّٰہ! میرا شروع سے ہی مسلمانوں کی دلجوئی کا ذہن ہے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع