30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جواب جس کی’’غیبت‘‘کی اُس کو پتا نہیں چلا تو اُس سے مُعافی مانگنا ضَروری نہیں ۔ اللہ غَفَّارعَزَّوَجَلَّ کے دربارمیں توبہ واستِغفار کیجئے اور دل میں پکّا عہد کیجئے کہ آئندہ کبھی کسی کی غیبت نہیں کروں گا ۔ اگر اُس کو معلوم ہو گیا ہے تو اُس کے پاس جا کر غیبت کے مقابِل اُس کی جائز تعریف ، اور اس سے مَحَبَّت کا اظہار کیجئے ، تاکہ اُس کا دل خوش ہو اور عاجِزی کے ساتھ عرض کیجئے کہ میں نے جو آپ کی غیبت کی ہے اُس پر نادِم ہوں مجھے مُعاف فرمادیجئے ۔ اب بالفرض وہ مُعاف نہ بھی کرے تب بھی اِنْ شَاءَ اللہ آخِرت میں مُوَ اخَذَہ نہ ہوگا ۔ ہاں اگر رَسْمی طور پر ( SORRYکہہ دیا) بِلااِخلاص مُعافی مانگی اور اُس نے مُعاف کر بھی دیا تب بھی آخِرت میں مُو اخَذے ( یعنی پوچھ گچھ) کا خوف باقی ہے ۔ ( [1])
سوال غیبت انسان کی نیکیوں پر کیا اثرات ڈالتی ہے ؟
جواب حضورنبیٔ رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : بے شک قیامت کے روزانسان کے پاس اُس کا کھلا ہوا نامۂ اَعمال لایا جائے گا ، وہ کہے گا : میں نے جو فُلاں فُلاں نیکیاں کی تھیں وہ کہاں گئیں؟ کہا جائے گا : تُو نے جو غیبتیں کی تھیں اس وجہ سے مٹا دی گئی ہیں ۔ ( [2]) منقول ہے : آگ بھی خشک لکڑیوں کو اتنی جلدی نہیں جلاتی جتنی جلدی غیبت بندے کی نیکیوں کوجلا کر راکھ کردیتی ہے ۔ ( [3])
سوال کیا غیبت صرف زبان سے ہی ہوتی ہے ؟
جواب غیبت صِرف زبان ہی سے نہیں اور طریقوں سے بھی ہوتی ہے ۔ مثَلاً : ( 1) اشارے سے ( 2) لکھ کر ( 3) مُسکرا کر ( مَثَلاًآپ کے سامنے کسی کی خوبی بیان ہوئی اور آ پ طنزیہ انداز میں مسکرا دئے جس سے ظاہِر ہوتا ہو کہ”تم بھلے تعریف کئے جاؤ ، میں اِس کو خوب جانتا ہوں ۔ “) ( 4) دل کے اند ر غیبت کرنا یعنی بد گُمانی کو دل میں جَما لینا ۔ مَثَلاً بِغیر دیکھے بِلا دلیل یا بِغیر کسی واضِح قرینے کے ذِہن بنا لینا کہ” فُلاں میں وفا نہیں ہے ۔ “یا” فُلاں نے ہی میری چیز چُرائی ہے ۔ “یا”فُلاں نے یوں ہی گپ لگا دیا ہے ۔ “وغیرہ ( 5) اَلْغَرَض ہاتھ ، پاؤں ، سر ، ناک ، ہونٹ ، زَبان ، آنکھ ، اَبرو ، پیشانی پر بل ڈال کریا لکھ کر ، فون پر SMS کر کے ، انٹرنیٹ پر چیٹنگ کے ذَرِیعے ، برقی ڈاک ( یعنیE.MAIL) سے یا کسی بھی انداز سے کسی کے اندر موجود بُرائی یا خامی دوسرے کو بتائی جائے وہ غیبت میں داخِل ہے ۔ ( [4])
سوال غیبت میں شرکت اور غیبت کرنے والے کی حوصلہ افزائی کیسے ہوتی ہے ؟
جواب غیبت سننے پر خوش ہونا اور اس کی طرف توجّہ سے کان لگانا ، دلچسپی لیتے ہوئے ہاں ، ہوں ، ہیں ، جی وغیرہ آوازیں نکالنا بھی غیبت ہے ۔ غیبت سننے والے کی اِس حَرَکت سے غیبت کرنے والے کو مزیدتقویّت ملتی ہے اور وہ مزید بڑھ چڑھ کر غیبت کرتا ہے ، اِسی طرح غیبت سُن کر خوشی اور تَعَجُّب کااظہار بھی گناہ ہے مَثَلاًحیرت کے ساتھ کہنا : ارے ! یہ ایسا شخص ہے ! میں تو اِس کو اچھا آدمی سمجھتا تھا ۔ دلچسپی کے ساتھ غیبت سننے ، تَعَجُّب کا اظہار کرنے ، ہاں میں ہاں ملانے کے انداز میں سَرہِلانے وغیرہ میں غیبت کرنے والے کی پذیرائی اور حوصلہ افزائی کا سامان ہے بلکہ ایسے موقع پر بلا اجازتِ شرعی خاموش رہنے والا بھی غیبت میں شریک ہی مانا جائے گا ۔ ( [5])
سوال سیدنا فقیہ ابو اللیث رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے غیبت کی کتنی اقسام فرمائی ہیں؟
جواب حضرت سیدنا فقیہ ابو اللیث سمرقندی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے فرمایا کہ غیبت چارقسم کی ہے : ( ۱) کفر ( ۲) نفاق ( ۳) معصیت ( ۴) مباح ۔ ( [6])
سوال جس کی غیبت کی گئی وہ غیبت کرنے والے کے ساتھ کیسا برتاؤکرے ؟
جواب حضرتِ سیِّدُنا شیخ عبدالوہّاب شَعرانی قُدِّسَ سرُّہُ النُّورانی فرماتے ہیں : اپنی غیبت کرنے والے پر مُشتَعِل ( یعنی غصّے ) ہونامناسِب نہیں اُس سے تو تمہیں مَحَبَّت کرنی چاہئے کہ اس کے غیبت کرنے کی وجہ سے تمہیں ثواب حاصل ہو رہا ہے ! اگر چِہ اُس نے اِس بات کا قَصد ( یعنی ارادہ) نہیں کیا ۔ مزید فرماتے ہیں : جو شخص اُس آدمی پر غصّہ کرے جس کی نیکیاں اپنے ہاتھ آرہی ہیں وہ بے وُقُوف ہے ، البتہ کسی شَرعی وجہ سے غَضَب ناک ہونا صحیح ہے ۔ ( [7]) آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے ارشادِ گرامی سے ہمیں یہ بھی درس مل رہا ہے کہ اگر غیبت کرنے والے کے ساتھ جوابی کاروائی کی گئی تو نفر ت کی دیوار مزید مضبوط ہو جائے گی ، فسادبڑھے گا او ر اگر اُس کو مَحَبَّت سے سمجھانے کی کوشش کی گئی تو اِنْ شَآءَالله عَزَّ وَجَلَّوہ غیبت ہی سے باز آجائے گا ۔ ( [8])
سوال کیا غیبت وفضول گوئی میں کوئی بڑاخطرہ بھی ہے ؟
جواب جی ہاں ! ایک بڑا خطرہ ہے ۔ حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم بن اَدہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم ارشاد فرماتے ہیں : میں کوہِ لبنان میں کئی اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السّلَام کی صحبت میں رہا ان میں سے ہرایک نے مجھے یہی وصیّت کی کہ جب لوگوں میں جاؤ توانہیں ان چار باتوں کی نصیحت کرنا : ( 1) جو پیٹ بھر کر کھائے گا اُسے عبادت کی لذّت نصیب نہیں ہوگی ( 2) جو زیادہ سوئے گا اس کی عمر میں بَرَکت نہ ہوگی ( 3) جو صِرف لوگوں کی خوشنودی چاہے گا وہ رِضائے الٰہی سے مایوس ہو جائے گا اور ( 4) جو غیبت او ر فُضُول گوئی زیادہ کرے گا وہ دینِ اسلام پر
[1] غیبت کی تباہ کاریاں ، ص ۲۹۱ ۔
[2] الترغیب والترھیب ، کتاب الادب ، باب الترھیب من الغیبة والبھت الخ ، ۳ / ۴۰۶ ، حدیث : ۴۳۶۴ ۔
[3] احیاء علوم الدین ، کتاب آفات اللسان ، الآ فة الخامسة عشرة الغیبة ، بیان العلاج الذی یمنع الخ ، ۳ / ۱۸۳ ۔
[4] غیبت کی تباہ کاریاں ، ص۱۵۳ ۔
[5] احیاء علوم الدين ، کتاب آفات اللسان ، الافة الخامسة عشرة الغیبة ، بیان ان الغیبة ۔ ۔ ۔ الخ ، ۳ / ۱۸۰ ۔
غیبت کی تباہ کاریاں ، ص۱۶۹ ۔
[6] تنبیہ الغافلین ، باب الغیبة ، ص۸۹ ۔
[7] تنبیہ المغترین ، الباب الثالث فی جملة اخری من الاخلاق ، ومن اخلاقھم سد باب الغیبة الخ ، ص۱۹۳ ۔
[8] غیبت کی تباہ کاریاں ، ص۱۲۶ ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع