30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اسی کو نصیب ہو گا جو دنیا میں ( خوفِ خدا کے سبب) سب سے زیادہ رونے والا ہو اور بروز ِ قیامت سب سے زیادہ ستھرا ایمان اسی کا ہوگا جو دنیا میں زیادہ غور وفکر کرنے والا ہے ۔ ( [1])
سوال جو لوگوں کے سامنے خوفِ خدا کا اِظہار زیادہ کرے اسے کیا قراردیا گیا ہے ؟
جواب حدیث شریف میں ہے : جو لوگوں کو اس سے زیادہ خوفِ خدا دکھائے جتنا اس کے پاس ہے تو وہ منافق ہے ۔ ( [2])
سوال کسی صحابی کے خوفِ خدا کے متعلق بتائیے ؟
جواب حضرت سیدنا ابو ذر غفاریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے غلبۂ خوف کے وقت ارشاد فرمایا : خدا کی قسم ! اللہ عَزَّ وَجَلَّنے جس دن مجھے پیدا فرمایا تھا کاش ! اُس دن وہ مجھے ایسادرخت بنادیتا جس کو کاٹ دیاجاتا اور اس کے پھل کھالئے جاتے ۔ ( [3])
سوال کیا جمادات پر بھی خوفِ خدا کی کیفیت ہوتی ہے ؟
جواب جی ہاں ! حضرت سَیِّدُنا عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام ایک پتھر کے قریب سے گزرے جس کے دونوں طرف سے پانی بہہ رہا تھا ۔ کسی کو معلوم نہ تھا کہ یہ پانی کہاں سے آرہا ہے اور کہاں جارہا ہے ؟ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے پتھر سے دریافت فرمایا : اے پتھر ! یہ پانی کہاں سے آرہا ہے اور کہا ں جائے گا؟ اس نے عرض کی : جو پانی میری سیدھی جانب سے آرہا ہے وہ میری دائیں آنکھ کے آنسو ہیں اور الٹی جانب سے آنے والا پانی میری بائیں آنکھ کے آنسو ہیں ۔ آپ عَلَیْہِ السَّلَامنے پوچھا : تم یہ آنسو کس لئے بہا رہے ہو؟ پتھر نے جواب دیا : اپنے رب عَزَّوَجَلَّکے خوف کی وجہ سے کہ کہیں وہ مجھے جہنم کا ایندھن نہ بنا دے ۔ ( [4])
سوال کن چیزوں کے ذریعے خوفِ خدا پیدا ہوتا ہے ؟
جواب خوفِ خداکی عملی کوشش کے سلسلے میں درجِ ذیل چیزیں مدد گار ثابت ہوں گی ۔ اِنْ شَآءَاللهُ عَزَّ وَجَلَّ ( 1) رب تعالیٰ کی بارگاہ میں سچی توبہ اوراس نعمت کے حصول کی دعا کرنا ( 2) قرآن ِعظیم واحادیث مبارکہ میں وارد ہونے والے خوفِ خدا کے فضائل پیش ِنظر رکھنا ( 3) اپنی کمزوری وناتوانی کو سامنے رکھ کر جہنم کے عذابات پر غور وتفکر کرنا ( 4) خوف ِ خدا کے حوالے سے اَسلاف کے حالات کا مطالعہ کرنا ( 5) خود احتسابی کی عادت اپنانے کی کوشش کرتے ہوئے فکرِ مدینہ کرنا ( 6) ایسے لوگوں کی صحبت اختیار کرنا جو اِس صفتِ عظیمہ سے مُتَّصِف ہوں ۔ ( [5])
سوال عدل کسے کہتے ہیں؟
جواب عدل اَقوال اور اَفعال میں انصاف و مُساوات کا نام ہے ۔ ( [6])
سوال قرآنِ کریم میں عدل و انصاف کے بارے میں کیا حکم دیا گیا؟
جواب قرآنِ کریم میں متعدد مقامات پر عدل و انصاف کا حکم دیا گیا ہے ۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے : ( اِذَا حَكَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِؕ-) ( پ۵ ، النساء : ۵۸) ترجمۂ کنزالایمان : ’’جب تم لوگوں میں فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو ۔ ‘‘ ایک مقام پرارشاد فرمایا : ( وَ اَقْسِطُوْاؕ-اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ(۹)) ( پ۲۶ ، الحجرات : ۹) ترجمۂ کنزالایمان : ’’اور عدل کرو بے شک عدل والے اللہ کو پیارے ہیں ۔ ‘‘
سوال احادیث میں عدل کرنے والوں کی کیا فضیلت بیان کی گئی ہے ؟
جواب حضور امامُ العادِلین ، راحت العاشقین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا : بے شک عدل و انصاف کرنے والے اللہتعالیٰ کے دربار میں نور کے منبروں پر ہوں گے ، یہ وہ لوگ ہوں گے جو اپنے فیصلوں میں ، اپنے گھر والوں کے بارے میں اور ان تمام کاموں میں جن کے وہ والی بنے ہیں عدل کرتے ہیں ۔ ( [7]) نیزبخاری شریف کی حدیث پاک کے مطابق بروزقیامت سایۂ عرش پانے والوں میں سے ایک عادل حکمران بھی ہے ۔ ( [8])
سوال اسلام میں عدل وانصاف کی کیا اہمیت ہے ؟
جواب اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ چاہے عدل و انصاف کی بات آدمی کے اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو مگر اس وقت بھی اسے عدل کا حکم دیا گیا ۔ ارشادِ باری تعالیٰ
[1] تنبیہ الغافلین ، باب التفکر ، ص۳۰۸ ۔
[2] مسند فردوس ، ۲ / ۳۰۲ ، حدیث : ۶۲۹۱ ۔
[3] مصنف ابن ابی شیبة ، کتاب الزھد ، کلام ابی ذر رضی اللہ عنہ ، ۸ / ۱۸۳ ، حدیث : ۱ ۔
[4] شعب الایمان ، باب فی الخوف من اللہ تعالی ، ۱ / ۵۲۸ ، حدیث : ۹۳۲ ۔
[5] خوف خدا ، ص۲۳ ۔
[6] تفسیر صراط الجنان ، پ۱۴ ، النحل ، تحت الآیۃ : ۹۰ ، ۵ / ۳۷۱ ۔
[7] مسلم ، کتاب الامارة ، باب فضیلة الامام العادل ۔ ۔ ۔ الخ ، ص۷۸۳ ، حدیث : ۴۷۲۱ ۔
[8] بخاری ، کتاب الاذان ، باب من جلس فی المسجد ینتظر الصلاة ۔ ۔ ۔ الخ ، ۱ / ۲۳۶ ، حدیث : ۶۶۰ ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع