30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کوئی لفظ نہ نِکالو، ورنہ تمہارے دِل سخت ہوجائیں گے، حالانکہ دِل نرم ہوتے ہیں ( لیکن فُضول گوئی اِنہیں سخت کر دیتی ہے)اور سخت دِل اللہ ربُّ الْعِزَّت کی رحمت سے محروم ہو تا ہے(یعنی اگر تم اللہ پاک کی رَحمت کے اُمّید وار ہو تو اپنے دِلوں کو سختی سے بچاؤ)۔‘‘
(عیون الحکایات، ص119)
یارب! نہ ضرورت کے سِوا کچھ کبھی بولوں
اللہ زُباں کا ہو عطا قُفلِ مدینہ
(وسائلِ بخشش، ص93)
لذیذ چیزیں کھاتے رہنا دل کی سختی کا باعث ہے
حضرت سیِّدُنا امام محمدبن محمد بن محمد غَزالی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: ’’راہِ آخِرت پر چلنے والے بُزُرگانِ دِین رحمۃُ اللہِ علیہ م کی مبارک عادت تھی کہ وہ سالن ہمیشہ نہیں بلکہ کبھی کبھار ہی کھاتے تھے اور نفس کی خواہشات سے بچتے تھے، کیوں کہ انسان اگر خواہش کے مُطابق لذیذ چیزیں کھاتا رہے تو اِس سے اُس کے نفس میں اَکڑ (یعنی سَرکشی ،مَغروری) اور دِل میں سختی پیدا ہوتی ہے، نیز وہ دُنیا کی لذیذ چیزوں سے اس قدر مانُوس(یعنی ان کا اس قدر عادی) ہو جاتاہے کہ دُنْیَو ی لذّتوں کی مَحَبَّت اُس کے دِل میں گھر کر جاتی ہے اور وہ ربِّ کائنات جَلَّ جَلَالُہٗ کی ملاقات اور اُس کی بارگاہِ عالی میں حاضِری کو بھول جاتا ہے، اس کے حق میں دُنیا جنّت اور موت قید خانہ بن جاتی ہے۔ البتہ وہ اپنے نفس پر اگر سختی ڈالے اور اس کو لذّتوں سے محروم رکھے تودُنیا اُس کیلئے قید خانہ بن کرتنگ ہو جاتی ہے اور اُس کا نفس اس قید خانے اور تنگی سے آزادی چاہتا ہے اورموت ہی اس کی آزادی ہے۔ حضرتِ سیِّدُنا یحییٰ بن مُعاذ رازی رحمۃُ اللہِ علیہ کے فرمان میں اِسی بات کی طرف اِشارہ ہے، چنانچِہ آپ رحمۃُ اللہِ علیہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع