30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فرماتے ہیں : ’’اے صِدّیقین کے گِروہ! جنت کا وَلیمہ کھانے کیلئے اپنے آپ کو بھوکا رکھو کیوں کہ نفس کو جس قدر بھوکا رکھا جائے اُسی قدرکھانے کی خواہش بڑھتی ہے۔“
(احیاء العلوم، 3/113)
کوہِ لُبنان کے اولیا کی نصیحت
پیٹ بھر کر کھانے کا ایک نقصان یہ ہوتا ہے کہ آدَمی عبادت کی لذّت اور مِٹھاس سے محروم ہوجاتا ہے، چنانچہ امیرُالْمُؤمِنِین ،مسلمانوں کے پہلے خلیفہ،حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر صِدِّیق رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں: میں جب سے مسلمان ہوا ہوں کبھی پیٹ بھر کر نہیں کھایا تاکہ عبادت کی حَلاوت (یعنی مِٹھاس) نصیب ہو ۔حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم بن اَدہم رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: میں کوہ ِ لُبنان میں کئی اولیائے کِرام کی صُحبت میں رہا،ان میں سے ہر ایک نے مجھ سے یہی کہا:جب لوگوں میں جاؤ تو انہیں چار باتوں کی نصیحت کرنا، ان میں ایک نصیحت یہ تھی کہ جوزیادہ کھائے گااُسے عبادت کی لذَّت نصیب نہیں ہوگی۔
(منہاج العابدین، ص84تا98)
شوق کھانے کا بڑھ چلا یارب نفس کا داؤ چل گیا یارب!
خوب کھانے کی خُو مٹا یارب نیک بندہ مجھے بنا یارب!
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب صَلَّی اللهُ علٰی مُحَمَّد
دِل کی سختی کا ایک سبب زیادہ ہنسنا
اے عاشقانِ رسول! ہنسنااگر چِہ جائز ہے لیکن’’ زیادہ ہنسنا ‘‘ غفلت میں ڈالنے والا ، غیر مُناسِب اور دل کو مُردہ کر دینے والا کام ہے ،غیر ضروری ہنسی سے بچنے کے سبب ان شاء اللہ روحانیّت میں ترقی حاصل ہو گی۔ لہٰذا اِس سلسلے میں کچھ ارشادات پیش کئے جاتے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع