30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کلام نہیں فرمایا۔
فضل بن ربیع کا بیان ہے کہ جب ہم وہاں سے باہر نکلے توخلیفہ ہارون الرشید نے مجھ سے کہا : جب میں کسی بزرگ کے پاس لے جانے کا کہوں تو مجھے ایسی ہی شخصیت کے پاس لے کر جایا کرو ، یہ آج تمام مسلمانوں کے سردار ہیں ۔
نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے کے لئے چند شرائط ہیں اور یہ کام کرنے والے میں چند مخصوص صفات ہونی چاہئیں ۔
حضرت سیِّدُناسلیمان خواصرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا فرمان ہے: جس نے اپنے بھائی کو پوشیدہ طور پر سمجھایا تو یہ نصیحت ہے اور جس نے اسے علی الاعلان سمجھایا اس نے اسے ذلیل کردیا۔
حضرتِ سیِّدَتُنا اُمِّ درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے فرمایا: جس نے اپنے بھائی کو علیحدگی میں نصیحت کی اس نے اسے خوش اور مزین کیا اور جس نے اسے علانیہ نصیحت کی اس نے اسے ناراض اور عیب دار کردیا۔
منقول ہے کہ جس نے اپنے بھائی کو اکیلے میں سمجھایا اس نے اسے نصیحت کی اور خوش کیا اور جس نے اسے سرعام سمجھایااس نے اسے رسوا کیا اور نقصان پہنچایا۔
عبدالعزیز بن ابی داود رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ پہلے کے دور میں جب کوئی شخص اپنے بھائی میں کوئی برائی دیکھتا تو اسے پوشیدگی میں نیکی کا حکم دیتا اور برائی سے منع کرتا چنانچہ اسے پردہ پوشی، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے تینوں پر ثواب حاصل ہوتا۔
حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا: جب تم اپنے بھائی میں کوئی خامی دیکھو تو اسے سیدھا اور درست کرو، اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا کرو کہ اسے توبہ کی توفیق دےکر اس کی توبہ قبول فرمائے اور اپنے بھائی کے خلاف شیطان کے مددگار مت بنو۔
٭…٭…٭…٭…٭…٭
باب نمبر13: خاموشی، زبان کی حفاظت، غیبت وچغلی کی ممانعت،
گوشہ نشینی کے فوائد اور شہرت کی مذمت کا بیان
پہلی فصل: خاموشی اور زبان کی حفاظت کا بیان
(1)…
مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْهِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ (۱۸) (پ۲۶، ق: ۱۸)
ترجمۂ کنز الایمان: کوئی بات وہ زبان سے نہیں نکالتا کہ اس کے پاس ایک محافظ تیار نہ بیٹھا ہو۔
(2)…
اِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِؕ (۱۴) (پ۳۰، الفجر: ۱۴)
ترجمۂ کنزالایمان: بےشک تمہارےرب کی نظرسےکچھ غائب نہیں ۔
جان لو کہ ایک عاقل بالغ شخص کے لئے یہ بات مناسب ہے کہ ہر قسم کی گفتگو سے اپنی زبان کی حفاظت کرے اور صرف وہ کلام کرے جس میں مصلحت ظاہر ہو۔جب کسی کلام کے کرنے اور نہ کرنے دونوں میں مصلحت برابرہوتوپھر طریقہ یہ ہےکہ اس گفتگوسےبازرہےکیونکہ بعض اوقات جائز باتیں انسان کو حرام یا مکروہ تک لے جاتی ہیں بلکہ یہ معاملہ عادتاً کثیر اور غالب ہے اور کوئی چیز سلامتی کے برابر نہیں ہے۔
بخاری و مسلم میں حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ تاجدارِ رِسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اچھی بات کرے یا خاموش رہے۔ ([1])
حضرت سیِّدُنا امام شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کا فرمان ہے: جب تم میں سے کوئی شخص بات کرنا چاہے تو اس پر لازم ہے کہ پہلے اس کے بارے میں غور کرے، اگر اس کلام میں مصلحت ظاہر ہو تو کرے اور اگر اس بارے میں شک ہو تو مصلحت ظاہر ہونے تک کلام نہ کرے۔
بخاری و مسلم میں حضرت سیِّدُنا ابوموسٰی اَشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!کون سا مسلمان افضل ہے؟ سَیِّدِعالَم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشادفرمایا: جس کی زبان اور ہاتھ سے لوگ سلامت رہیں ۔ ([2])
سنن ترمذی میں حضرت سیِّدُنا عقبہ بن عامر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کی: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !نجات کیا ہے؟ سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: اپنی زبان کو روک کر رکھو، تمہارا گھر تمہیں کافی ہو اور اپنی خطاؤں پر روؤ۔امام ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث حسن ہے۔ ([3])
ترمذی اورابنِ ماجہ میں حضرت سیِّدُناابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسےروایت ہےکہ اللہعَزَّ وَجَلَّکےمحبوب، دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: آدمی کے اسلام کی خوبیوں میں سے یہ بھی ہے کہ وہ بے فائدہ چیزوں کو ترک کردے۔ ([4])
اس بارے میں کثیر احادیثِ صحیحہ وارد ہیں اور ہم نے جن کی طرف اشارہ کیا ہے یہ اس شخص کے لئے کافی ہیں جسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ توفیق عطا فرمائے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع