30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہاں تک کہ دونوں لہو لہان ہوگئے۔جب دونوں کتوں کی لڑائی انتہا کو پہنچ گئی تو اس شخص نے گھر کا ایک دروازہ کھولااوران دونوں کتوں پرحملہ کرنےکےلئےایک بھیڑیے کو چھوڑدیاجسے اس مقصدکےلئےپہلے سےتیارکیاگیاتھا۔ جب دونوں کتوں نےاس بھیڑیےکودیکھاتوآپس کی لڑائی کوترک کردیااورمتحدہوکر دونوں اس بھیڑیےپرجھپٹ پڑے یہاں تک کہ اسےماردیا۔اس کے بعداس شخص نےحاضرین کی طرف متوجہ ہوکرکہا: تمہاری اور مسلمانوں کی مثال اس بھیڑیے اور کتوں کی سی ہے۔مسلمانوں میں آپس میں قتل وغارتگری کا سلسلہ رہتا ہے جب تک کہ کوئی بیرونی دشمن ان کے مقابل نہ آجائے، جب باہر سے کوئی دشمن ان پر حملہ آور ہو تو پھر یہ آپس کی دشمنی کوترک کرکے بیرونی دشمن کے مقابلے میں متحد ہوجاتے ہیں ۔تمام حاضرین نے اس رائے کو پسند کیا اور اس کے مشورے پر متفق ہوگئے۔
اِبْنِ اعرابی کہتے ہیں : حماقت کا لفظ حَمُقَتِ السُّوقسے ماخوذ ہے جب بازار منداہوجائے توپھر یہ کہا جاتا ہے، گویا کہ احمق شخص کی عقل اور رائے کی کوئی اہمیت نہیں اس لئے کسی بھی معاملے میں اس سے مشورہ نہیں کیا جاتا۔حماقت (احمق کے لئے) ایک فطری چیز ہے جس میں کوئی تدبیر فائدہ نہیں دیتی اور ایک ایسی بیماری ہے جس کی دوا صرف موت ہے۔
ایک شاعر کہتا ہے:
لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ يُّسْتَطَبُّ بِهٖ اِلَّا الْحَمَاقَةَ اَعْيَتْ مَنْ يُّدَاوِيْهَا
ترجمہ: ہربیماری کی کوئی دوا ہوتی ہے جس سے اس کا علاج کیا جاتا ہے لیکن حماقت ایسی بیماری ہےجو علاج کرنے والوں کو عاجزکر دیتی ہے۔
حماقت ایک مذموم صفت ہے، مروی ہےکہ اللہعَزَّ وَجَلَّکےنزدیک اس کی مخلوق میں سے سب سے ناپسند شخص احمق ہے کیونکہاللہعَزَّ وَجَلَّنےاسےعقل سےمحروم فرمایا جو کہ اس کے نزدیک سب چیزوں سے زیادہ قیمتی ہے۔ ([1])
صورت کے اعتبارسے احمق کی صفت پر لمبی داڑھی سے استدلال کیا جاتا ہے کیونکہ داڑھی کا مخرج دماغ ہے۔جس کی داڑھی بہت لمبی ہوتی ہے اس کا دماغ قلیل ہوتا ہے، جس کا دماغ قلیل ہوتا ہے اس کی عقل تھوڑی ہوتی ہے او رجسکی عقل کم ہو وہ احمق ہوتا ہے۔
افعال کےاعتبارسےاحمق کی پہچان:
اَفعال کےاعتبارسےاَحمق کی صفات یہ ہیں : کام شروع کرنےسےپہلےاس کےنتیجےمیں غورنہ کرنا، انجان لوگوں پر بھروساکرنا، خود پسندی، زیادہ بولنا، فوراً جواب دینا، اِدھراُدھر دیکھتے رہنا، علم سے خالی ہونا، جلدبازی، گھٹیاپن، بےوقوفی، ظلم، غفلت، بھولنےکی عادت، تکبر، مال داری کی حالت میں اترانااورغربت کی حالت میں مایوس ہوجانا، جب بات کرے تو فحش کلامی سے کام لے، اس سے کوئی چیز مانگی جائے تو بخل کرے اور اگر اسے دوسرے سے مانگنا پڑے تو گڑگڑائے، کسی سے گفتگو کرے تو صحیح طرح نہ کرپائے اور اگر اس سے کوئی بات کی جائے تو اسے سمجھ نہ پائے، جب ہنسے تو قہقہہ لگائے اور جب روئے توچلائے مارے۔
اگر ہم ان صفات کوتلاش کریں تومعاشرےکےاکثر لوگوں میں یہ خصلتیں پائی جاتی ہیں اورعاقل واحمق کی تمیز مشکل ہوجاتی ہے۔
حضرت سیِّدُناعیسٰی رُوْحُاللہعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنےارشادفرمایا: میں نےبرص کےمریض اور پیدائشی نابینا کا علاج کیا تو انہیں شفایاب کردیالیکن احمق کا علاج کیا تو اس کے علاج سےمیں عاجز ہوگیا۔
احمق کی بات کے جواب میں خاموش رہنا ہی اس کا جواب ہے۔
ایک دانا شخص نے کسی احمق کو پتھر پر بیٹھے دیکھا تو کہا: ایک پتھر دوسرے پتھرپربیٹھاہے۔
منقول ہےکہ دواحمق شخص اکٹھےسفرکرنےلگے تو ایک نے دوسرےسےکہا: آؤہم اللہعَزَّ وَجَلَّسے کسی بات کی تمنا کریں کیونکہ سفرمیں وقت گزارنےکےلئےگفتگوکرنا ضروری ہے۔چنانچہ ایک نےکہا: میری تمنا یہ ہےکہ مجھےبکریوں کےریوڑمل جائیں اورمیں ان کےدودھ، گوشت اوراُون سےنفع حاصل کروں ۔ دوسرے نےکہا: میری تمنا ہے کہ مجھے بھیڑیوں کے ریوڑ ملیں جنہیں میں تمہاری بکریوں پرچھوڑ وں اوروہ ان میں سے کچھ بھی باقی نہ رہنے دیں ۔یہ سن کر پہلے نےکہا: تجھ پر افسوس ہے!کیا صحبت کا یہ حق ہے، پھر وہ دونوں ایک دوسرے پر چیخنے چلانے اور آپس میں لڑنے لگے اور ان کی لڑائی شدت اختیار کرگئی یہاں تک کہ نوبت ہاتھا پائی تک پہنچ گئی، پھردونوں اس بات پر راضی ہوئے کہ اپنے پاس آنے والے پہلے شخص کو حکم (فیصلہ کرنے والا) بنا کر اس سے فیصلہ کروائیں گے۔کچھ دیرکےبعدان کےپاس ایک بوڑھا شخص آیاجس کےپاس ایک گدھا تھا اور اس پر شہد سے بھرے دو برتن تھے۔ان دونوں نے بوڑھے شخص کو اپنا ماجرا سنایا تواس نےشہدکےدونوں برتن اتارکرانہیں کھول دیایہاں تک کہ ان میں سےسارا شہدریت پربہہ گیا۔ بوڑھےنے کہا: اگر تم دونوں احمق نہ ہوتواللہعَزَّ وَجَلَّمیرے خون کو اس شہد کی طرح بہادے۔
بندوں کو عقل کے مطابق بدلہ دیا جاتا ہے:
حضرت سیِّدُناجابربن عبْدُاللہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتےہیں : ایک شخص اپنےعبادت خانےمیں عبادت میں مشغول رہتا تھا۔ایک دن خوب بارش ہوئی اور زمین میں گھاس اُگی تو اس نے دیکھا کہ اس کا گدھا گھاس چررہا ہے۔یہ دیکھ کر اس نےبارگاہِ خداوندی میں عرض کی: اےمیرے ربّ!اگرتیرا کوئی گدھاہوتا تو میں اسےاپنےاس گدھےکےساتھ چراتا۔ یہ بات ایک نبی عَلَیْہِ السَّلَامتک پہنچی توانہوں نےاِرادہ فرمایاکہ اس کےلئےدعائے ضررفرمائیں ۔اللہعَزَّ وَجَلَّنے ان کی طرف وحی فرمائی کہ اس کےلئےدعائےضررمت کرنا کیونکہ میں اپنے بندوں کو ان کی عقلوں کے مطابق بدلہ دیتا ہوں ۔
کسی شخص کی حماقت کاعالَم بیان کرنےکےلئےکہاجاتاہےکہ وہ کثیرحماقت کاحامل ہےاورعقل اس سےجداہوچکی ہے، اس کے پاس صرف اس قدرعقل باقی ہےجواس پراللہعَزَّ وَجَلَّکی حجت کولازم کرتی ہے۔
بھولے بھالے اور صاف دل شخص کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ جنت کی گائےہے، نہ تو سینگ مارتا ہے اور نہ ہی لات، جبکہ دوسروں کو تکلیف دینے والے احمق کو دوزخ کی گائے کہا جاتا ہے۔
٭…٭…٭…٭…٭…٭
[1] نھاية الارب فی فنون الادب،الباب الثانی من القسم الثالث من الفن الثانی،ذکر ماقیل فی الحمق والجھل،۳/ ۳۲۵
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع