30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لونڈی جب اس کے پاس پہنچی تووہ دودھ کی مشک سے ٹیک لگا کر سورہا تھا۔لونڈی نے اسے جگا کر پیغام پہنچایا اور کہا کہ ابھی رات کا وقت ہے ، جب تک لوگوں کو حاتم کے ٹھکانے کا علم ہوجائے ایسا کرنا پڑے گا۔ مالک نے اپنا سر پیٹا اور داڑھ چباکرکہا: ماویہ کو میرا سلام پہنچانا اور اس سے کہنا کہ اسی وجہ سے تو میں نے تمہیں حاتم کو طلاق دینے کا کہا تھا۔ میرے پاس اتنا دودھ نہیں ہے جو حاتم کے مہمانوں کے لئے کافی ہوسکے ۔لونڈی نے واپس آکر جو اس نے دیکھا اور جو مالک نے جواب دیا دونوں سےآگاہ کیا ۔ماویہ نے لونڈی سے کہا: اب حاتم کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ تمہارے مہمان آج رات ہمارے پاس ٹھہرے ہیں اور انہیں تمہارے ٹھکانے کا علم نہیں ہے، ان کے کھانے کے لئے ایک اونٹنی اور پینے کے لئے دودھ بھیج دو۔لونڈی حاتم کی تلاش میں گئی اور اس کا نام لے کر چیخی تو حاتم نے جواب میں لَبَّیْک کہا۔لونڈی نے آنے کا سبب بتایا، حاتم اپنے اونٹوں کی طرف گیا اور دو اونٹوں کی رسی کھول دی، پھر آواز دےکر انہیں خیمے تک لایا اور ان کی کونچیں کاٹ دیں ۔یہ دیکھ کر ماویہ چیخ کر کہنے لگی کہ اسی وجہ سے میں نے تمہیں طلاق دی تھی، تم ہماری اولاد کو اس حال میں چھوڑو گے کہ ان کے لئے کچھ نہ بچے گا۔حاتم نے جواب دیا: اے ماویہ!تمہاری خرابی ہو!جس ذات نے انہیں اور تمام مخلوق کو پیدا کیا ہے وہ ان کی روزی کا بھی کفیل ہے۔
جب سردی کا موسم آتا اور شدید ٹھنڈ پڑتی تو حاتم اپنے غلاموں کو حکم دیتا اور وہ ایک مقام پر بہت بڑی آگ جلاتے تاکہ راستہ بھٹک جانے والے مسافر اسے دیکھ کر اس کے پاس آجائیں ۔حاتم اپنے اسلحے اور گھوڑے کے علاوہ اور کوئی چیز بچا کر نہیں رکھتا تھا، پھر ایک دفعہ قحط سالی کے موقع پر اس نے اپنا گھوڑا بھی لٹادیا۔
سواری کاجانور بھی بھوکوں کو کھلادیا:
ماویہ کے بھتیجے ملکان کا بیان ہے کہ ایک دن میں نے کہا : اے پھوپھی جان!مجھے حاتم کی زندگی کا کوئی عجیب واقعہ سنائیے۔انہوں نے جواب دیا: بھانجے!میں نے اس کا جو سب سے عجیب واقعہ دیکھا وہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ لوگوں کو ایسی قحط سالی کا سامنا ہوا جس میں جانوروں کے کھر تک ختم ہوگئے۔مجھے اور حاتم کو بھی بھوک نے آلیا اور ہماری نیند اُڑادی۔ میں نے سفانہ کو جبکہ حاتم نے عدی کو گود میں لیا اور ہم انہیں بہلانے لگے یہاں تک کہ وہ سو گئے، بچوں کے سونے کے بعد حاتم مجھ سے باتیں کرکے مجھے بہلانے لگا تاکہ میں بھی سو جاؤں ۔مجھے اس پر رحم آیا کیونکہ وہ بھی بھوکا تھا چنانچہ میں خاموش ہوگئی تاکہ وہ سوجائے۔اس نے مجھ سے پوچھا: کیا تم سوگئیں ، میں نے کوئی جواب نہ دیا جس پر وہ خاموش ہوگیا۔ پھر اس نے خیمے کے باہر دیکھا تو کوئی آرہا تھا ، سر اٹھا کر دیکھا تو وہ ایک عورت تھی۔حاتم نے اس سے ماجرا پوچھا تو اس نے جواب دیا: اے ابوعدی!میں ایسے بچوں کو چھوڑ کر تمہارے پاس آئی ہوں جو بھوک کے سبب کتوں یا بھیڑیوں کی طرح چیخ رہے ہیں ۔حاتم نے کہا: اپنے بچوں کو میرے پاس لےآؤ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم!میں انہیں سیر کردوں گا۔ یہ سن کر وہ عورت تیزی سے اپنے بچوں کو لینے چلی گئی، میں نے سر اٹھا کر کہا: اے حاتم ! تم اس کے بچوں کو کیسے سیر کروگے جبکہ تمہارے اپنے بچے بھوک کی حالت میں بہلا نے کے بعد سوئے ہیں ۔حاتم نے جواب دیا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم!میں تمہیں ، تمہارے بچوں کو اور اس عورت کے بچوں کو سیر کردوں گا۔جب وہ عورت آئی تو حاتم چھری لے کر کھڑا ہوا اور اپنے گھوڑے کے پاس جاکر اسے ذبح کردیا، پھر آگ روشن کی اور اس عورت کو چھری دے کر کہا: گوشت کاٹ کر بھونو، خود بھی کھاؤ اور اپنے بچوں کو بھی کھلاؤ۔عورت نے خود بھی کھانا کھایا اور اپنے بچوں کو بھی کھلایا۔
میں نے اپنے بچوں کو بھی بیدار کیا، خود بھی کھایا اور انہیں بھی کھلایا۔حاتم نے کہا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم!یہ تو بے مروتی ہے کہ تم لوگ کھانا کھاؤجبکہ اہْلِ محلہ بھوکے رہیں ، پھر وہ محلے کے ایک ایک گھر جاکر یہ کہنے لگا کہ آگ کے پاس جمع ہوجاؤ۔لوگ گھوڑے کے پاس جمع ہوگئے تو حاتم اپنی چادر اوڑھ کر ایک کونےمیں بیٹھ گیا۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم!صبح ہونے تک اس گھوڑے کی ہڈیوں اور کھروں کے علاوہ کچھ نہ بچا لیکن حاتم نے اس میں سے کچھ نہ چکھا حالانکہ اسے سب سے زیادہ بھوک لگی ہوئی تھی۔حاتم طائی کی سخاوت کے واقعات کثیر اور مشہور ہیں ۔
ایک قوم نے حاتم طائی کے قبیلے طے پر حملہ کردیا۔حاتم اپنے گھوڑے پر سوار ہوا، اپنا نیزہ سنبھالا، اپنے قبیلے اور خاندان میں لڑائی کے لئے ندا کی، پھر حملہ آوروں سے مقابلہ کرکے انہیں شکست سے دوچار کیا اور ان کا پیچھا کرنے لگا۔ اس دوران حملہ آوروں کے سردار نے اس سے کہا: اے حاتم!اپنا نیزہ مجھے دے دو، یہ سن کر حاتم نے اپنا نیزہ اس کی طرف پھینک دیا۔اس پر حاتم سے کہا گیا کہ آپ نے اپنی جان کو ہلاکت پر پیش کر دیا، اگر وہ پلٹ کر حملہ کرتا تو آپ کو قتل کردیتا۔حاتم نے جواب دیا: میں بھی اس بات کو جانتا ہوں لیکن جو کہے: مجھے دے دو، تو اس کا کیا جواب ہے۔
جب حاتم طائی مرگیا تو اس کے قبیلے طے پر اس کی موت بہت گراں گزری۔حاتم کے بھائی نے دعویٰ کیا کہ وہ اس کا جانشین ہے ۔اس پر اس کی ماں نے کہا: ہرگز نہیں ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم!تم دونوں کے اخلاق میں بہت فرق ہے۔جب میں نے حاتم کو جنا تو سات دن تک اس کی یہ حالت تھی کہ جب تک میں اپنے ایک پستان سے پڑوس کے ایک بچے کو دودھ نہ پلاتی تب تک حاتم بھی دودھ نہ پیتا تھا جبکہ تم ایک پستان سے دودھ پیتے تھے اور دوسرے پر ہاتھ رکھ لیتے تھے، تم اس کے وارث کیسے ہوسکتے ہو؟
شاعر کہتا ہے: جب تک حاتم طائی زندہ ہے سخاوت بھی زندہ رہے گی اور جب وہ مرگیا تو پھر سخاوت پر ماتم کیا جائے گا۔
جواد ، کریم ، سخی اور نیک لوگوں کی حکایات اور ان کی سخاوت وفیاضی کے واقعات اتنے زیادہ ہیں کہ ان کا شمار نہیں کیا جاسکتا اور اس قدر مشہور ہیں کہ ان کا تذکرہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ایسے ہی فضائل کو پانے کے لئے باہم مقابلہ کرنا چاہیےاورعمل کرنے والوں کو اسی کے لئے عمل کرنا چاہیے کیونکہ اس میں دنیا کی عزت ا ورآخرت کا مرتبہ ہے اور یہ تذکرہ باقی رہنے کا ذریعہ ہے کیونکہ ہم دیکھتےہیں کہ زمانے میں صرف تذکرہ باقی رہتا ہے چاہے وہ اچھا ہو یا بُرا ([1]) ۔
اس لئے تم عمرکی فرصت اور دنیا کی امداد کو غنیمت جانتے ہوئے ان سخی لوگوں کی طرح سخاوت کا عمل آگے بھیجو ان کی طرح تمہارا بھی ذکرِ خیر ہوگااور ان کی طرح قیامت کے دن کے لئے ذخیرہ جمع کرلو۔اس بات کو جان لو کہ جو کھالیا وہ بدن کے لئے ہے، جو دے دیا وہ آخرت کے لئے ہے اور جو پیچھے چھوڑا وہ دشمن کے لئے ہے، اب تم ان تینوں میں سے جسے چاہو اختیار کرلو۔
وَصَلَّی اللہُ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَ عَلٰی اٰلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ وَسَلَّمیعنی ہمارے سردار حضرت محمد مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور ان کے آل واصحاب پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے درود وسلام ہوں ۔
٭…٭…٭…٭…٭…٭
مکّار، بخیل اوراحسان جتانےوالا
حضرت سیِّدُناابوبکرصدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتےہیں کہ حضورنبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشادفرمایا: مکّار، بخیل اوراحسان جتانےوالاجنت میں داخل نہ ہوں گے۔ (ترمذی، کتاب البروالصلة…الخ، باب ماجاء فی السخاء، ۳ / ۳۸۸، حدیث: ۱۹۷۰)
باب نمبر34: بخل ولالچ ، بخیلوں کا تذکرہ اور واقعات
اللہ عَزَّ وَجَلَّقرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَ یَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ وَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖؕ- (پ۵، النساء: ۳۷)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع