30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ی حییٰ بن خالد نے اس شعر کو پڑھاتو اسے حکم دیا کہ اس کی چوکھٹ سے نہ جائے پھر وہ اسے ہر صبح ہزار درہم دینے لگا، جب اس کے پاس30ہزار درہم ہو گئے تو وہ شخص چلا گیا، یحییٰ بن خالد نے کہا: خدا کی قسم! اگر یہ ساری عمر ٹھہرا رہتا تب بھی میں اسے دینا بند نہیں کرتا۔
ایک شاعر نے کیا خوب کہاہے:
تَشَفَّعْ بِالنَّبِيِ فَكُلُّ عَبْدٍ يُجَارُ اِذَا تَشَفَّعْ بِالنَّبِيِّ
وَلَا تَجْزَعْ اِذَا ضَاقَتْ اُمُوْرٌ فَكَمْ لِلّٰهِ مِنْ لُطْفٍ خَفِيٍّ
ترجمہ: حضورنبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا وسیلہ اختیار کرو کیونکہ جو ان کا وسیلہ پکڑتا ہے امان پاتا ہے۔ جب مشکلات بڑھ جائیں تو پریشان نہ ہو کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بخشش و مہربانی کی کوئی حد نہیں ۔
مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَام نے بارگاہ رسالت میں عرض کی: اے محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا پانے کے لئے ہم زمین پر عبادت کرنے والے ہوتےتو ہم تین خصلتوں کو اپناتے: (۱) …مسلمانوں کو پانی پلاتے (۲) …عیال دار لوگوں کی مدد کرتےاور (۳) …اگر مسلمان گناہ میں مبتلا ہوتے تو ان کی پردہ پوشی کرتے۔
اَللّٰهُمَّ اسْتُرْ ذُنُوْبَنَا وَاقْضِ عَنَّا تَبِعَاتِنَا وَصَلَّى اللهُ عَلٰی سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِهٖ وَصَحْبِهٖ وَسَلَّم یعنی اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! ہمارے گناہوں کی پردہ پوشی فرما، ہمیں اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوشی عطا فرمااور ہمارے سردار حضرت محمدصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور ان کی اٰل و اصحاب پر درودو سلام نازل فرما۔
٭…٭…٭…٭…٭…٭
باب نمبر 26: حیا، تواضع اور عاجزی و انکساری کا بیان
(اس باب میں دوفصلیں ہیں )
پہلی فصل: حیا کا بیان
اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا بیان کرتی ہیں کہ10چیزیں حُسنِ اخلاق سے ہیں : (۱) سچ بولنا (۲) حقیقی بہادری (۳) امانت ادا کرنا (۴) صلہ رحمی کرنا (۵) نیکی کا بدلہ دینا (۶) اَمْر بالمعروف کرنا (۷) پڑوسی کےحق کی حفاظت کرنا (۸) دوست کے حق کی حفاظت کرنا (۹) مہمان نوازی کرنا اور (۱۰) ان سب باتوں کی اصل حیاکرنا۔
حیا کے بارے میں دوفرامین مصطفٰے:
﴿1﴾…اَلْحَیَاءُ شُعْبَۃٌ مِّنَ الْاِیْمَان یعنی حیاایمان کی ایک شاخ ہے۔ ([1])
﴿2﴾…اِنَّ مِمَّااَدْرَكَ النَّاسُ مِنْ كَلَامِ النُّبُوَّةِ اِذَا لَمْ تَسْتَحِ فَافْعَلْ مَاشِئْتَیعنی کلام نبوت میں سے لوگوں نےجو پایااس میں سےیہ ہے کہ جب تجھےحیا نہ ہوتو جو چاہے کر ۔ ([2])
امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علیُ المرتضٰی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں کہ جس نے حیا کی چادر اوڑھ لی لوگوں کو اس کے عیب دکھائی نہیں دیتے ۔
سیِّدُناابو موسٰیرَضِیَ اللہُ عَنْہکی حیا :
حضرت سیِّدُناابوموسٰی اشعریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتےہیں کہ جب میں غسْلِ جنابت کےلئےاندھیرے کمرے میں جاتا ہوں تو اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّ سے حیاکے سبب اپنی پیٹھ جُھکا لیتا ہوں ۔کسی کا قول ہے: حیا کے سبب چھپا ہوا چہرہ سیپی میں چُھپےموتی کی طرح ہے۔
حضرت سیِّدُناخواص رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ بندوں کا عمل چار منزلوں پر ہوتا ہے: (۱) خوف (۲) رجا (۳) تعظیم اور (۴) حیا، ان میں سب سےاونچی منزل حیا ہے۔ جب بندے یہ یقین کر لیتے ہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ انہیں ہر حال میں دیکھ رہا ہےتو کہتے ہیں : ہمارے لئے برابر ہے کہ ہم اسے دیکھیں یا وہ ہمیں دیکھے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے حیاان کے لئے ان کے گناہوں سے آڑ بن جاتی ہے۔
کہا جاتا ہے کہ قناعت امانت کی، امانت شکر کی، شکر نعمت میں اضافے کی اور اضافہ نعمت کے باقی رہنے کی دلیل ہے جبکہ حیا خیرِ کُل کی دلیل ہے۔
دوسری فصل: عاجزی و انکساری کا بیان
اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے:
وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ (۸۸) (پ۱۴، الحجر: ۸۸)
ترجمۂ کنزالایمان: اورمسلمانوں کواپنےرحمت کےپَروں میں لے لو۔
اور ارشاد فرماتا ہے:
تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ (۸۳) (پ۲۰، القصص: ۸۳)
ترجمۂ کنز الایمان: یہ آخرت کا گھر ہم ان کے لئے کرتے ہیں جو زمین میں تکبر نہیں چاہتے اور نہ فساد اور عاقبت پرہیزگاروں ہی کی ہے۔
حضورنبی اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا: ”اَفْضَلُ الْعِبَادَۃِ التَّوَاضُع یعنی افضل عبادت تواضع ہے۔“ ([3])
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع