30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قاضی ابوبکر الباقلانی رَحِمَہُ اللہُ کی رائے سے متعلق جزئیات
شیخ اکبر محی الدین ابن العربی رَحِمَہُ اللہُ نے بھی فتوحات مکیہ میں ذکر کیا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی دنیا میں اللہ تعالی کا دیدار کیا ۔ آپ علیہ السلام کا بے ہوش ہونا پہاڑ کے ریزہ ریزہ ہونے کے قائم مقام تھا اور اس معاملے میں قرآن پاک کی آیت محتمل ہے۔
الیواقیت الجواہر میں علامہ عبد الوہاب شعرانی رَحِمَہُ اللہُ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی رؤیت باری تعالیٰ کے متعلق فتوحات مکیہ سے شیخ اکبر محی الدین ابن العربی رَحِمَہُ اللہُ (وفات: 638ھ) کی رائے نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ” أن الجبل رأى ربه وأن الرؤية هي التي أوجبت له التدكدك . ومن هنا قال بعض المحققين : إذا جاز أن يكون الجبل رأى ربه فما المانع لموسى أن يرى ربه ، في حال تدكدك الجبل ويكون وقوع النفي على الاستقبال والآية محتملة فكان الصعق لموسى قائما مقام التدكدك للجبل ۔۔۔ (فإن قيل ) : فلم رجع موسى إلى صورته بعد الصعق ولم يرجع الجبل بعد الدك إلى صورته؟ ( فالجواب ) : إنما لم يرجع الجبل إلى صورته لخلوه عن الروح المدبرة له بخلاف موسى عليه الصلاة والسلام ، رجع إلى صورته بعد الصعق فكونه كان ذا روح فروحه هي التي أمسكت صورته على ما هي عليه بخلاف الجبل لم يرجع بعد الدك إلى كونه جبلا لعدم وجود روح فيه تمسك عليه صورته انتهى “ ترجمہ:پہاڑ نے اپنے رب عزوجل کا دیدار کیا اور وہ دیدار ہی تھا جس نے پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہونے پر مجبور کر دیا۔ اس مقام پر بعض محققین نے فرمایا: جب پہاڑ اپنے رب عزوجل کو دیکھ سکتا ہے تو حضرت موسی علیہ السلام کے لئے کیا رکاوٹ ہے کہ انہوں نے پہاڑ کے ریزہ ریزہ ہونے کی حالت میں اپنے رب عزوجل کا دیدار نہ کیا ہو۔ ﴿ لَنْ تَرٰىنِیْ ﴾ میں مستقبل میں وقوع کی نفی ہے اور آیت اس بارے میں محتمل ہے تو حضرت موسی علیہ السلام کا بے ہوش ہونا پہاڑ کے ریزہ ریزہ ہونے کے قائم مقام تھا۔
اعتراض: جب پہاڑ (رؤیت کے بعد)ریزہ ریزہ ہونے کے بعد اپنی اصل حالت میں واپس نہیں آیا ، تو حضرت موسیٰ علیہ السلام (رؤیت کے بعد)بے ہوش ہونے کے بعد اپنی اصل حالت میں کیونکر واپس آ گئے؟
جواب: پہاڑ روح مدبرہ نہ ہونے کے باعث اپنی اصل حالت میں واپس نہیں آیا ، جبکہ اس کے برخلاف حضرت موسیٰ علیہ السلام ذی روح ہونے کے باعث بے ہوش ہونے کے بعد اپنی اصل حالت پر واپس آ گئے ، لہٰذا وہ روح ہی تھی جس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پہلے والی صورت کو برقرار رکھا ، اس کے برعکس پہاڑ ریزہ ریزہ ہونے کے بعد دوبارہ پہاڑ نہیں بنا ،کیونکہ اس میں ایسی روح موجود نہیں تھی جو اس کی صورت کو باقی رکھتی۔(1)
سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ سے منسوب روایت سے متعلق جزئیات
الشفاء بتعریف حقوق مصطفی میں قاضی عیاض رَحِمَہُ اللہُ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو رؤیت باری تعالی ہونے کے متعلق امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کے حوالے سے لکھتے ہیں: ” قال جعفر بن محمد: ”شغله بالجبل حتى تجلى ولولا ذلك لمات صعقا بلا إفافة“ وقوله هذا يدل على أن موسى رآه “ ترجمہ: امام جعفر بن محمد رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: حضرت موسی علیہ السلام نے بوقت تجلی اپنے آپ کو پہاڑ کے ساتھ مشغول رکھا اور اگر ایسا نہ ہوتا تو آپ علیہ السلام بے ہوش ہونے کے بعد وفات فرما جاتے۔ اور حضرت امام جعفر صادق رَحِمَہُ اللہُ کا یہ فرمان اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ حضرت موسی علیہ السلام نے اللہ تعالی کو دیکھا۔(2)
اس کی شرح میں امام خفاجی رَحِمَہُ اللہُ لکھتے ہیں: ”(ای ظھر ظھور تاما لموسی علیہ الصلوۃ و السلام فرآہ) ولولا ذلك (ای اشتغالہ بالجبل بان ظھر لہ نور التجلی ابتداء) لمات صعقا بلا إفافة وقوله هذا يدل على أن موسى رآه (کالجبل)“ ترجمہ: یعنی اللہ تعالی نے حضرت موسی علیہ الصلوۃ و السلام کے لئے ظہور تام فرمایا تو حضرت موسی علیہ السلام نے اللہ تعالی کا دیدار کیا اور اگر ایسا نہ ہوتا یعنی حضرت موسی علیہ السلام بوقت تجلی اپنے آپ کو پہاڑ کے ساتھ مشغول نہ رکھتے اور اللہ تعالی کی تجلی نور کو ابتداً دیکھتے تو آپ علیہ السلام بے ہوش ہونے کے بعد وفات فرما جاتے اور حضرت امام جعفر صادق رَحِمَہُ اللہُ کا یہ فرمان اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ پہاڑ کی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی اللہ تعالی کا دیدار کیا ۔(3)
امام اشعری رَحِمَہُ اللہُ سے منسوب روایت کے متعلق جزئیات
الحدیقۃ الندیہ میں علامہ عبد الغنی نابلسی رَحِمَہُ اللہُ لکھتے ہیں: ”حکاہ ابو فواک عن الاشعری انہ راء ھو و الجبل بخلق حیاۃ و رویۃ فیہ“ترجمہ: ابو فواک رَحِمَہُ اللہُ نے امام اشعری سے حکایت کیا کہ حضرت موسی علیہ السلام اور پہاڑ دونوں نے اللہ عزوجل کا دیدار کیا (یوں کہ اللہ تعالی نے) اس میں حیات اور دیکھنے کی قدرت پیدا فرما دی تھی۔(4)
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے دیدارِ الٰہی سے متعلق اصح قول
اصح (صحیح ترین) قول یہی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھی دنیا میں جاگتی آنکھوں سے اللہ تعالی کا دیدار نصیب نہ ہوا۔ کنز الفوائد شرح بحر العقائد میں ہے:” والاصح الذی علیہ الجمھور انہ لم یرہ سبحانہ ھذا “ ترجمہ: اصح موقف جس پر جمہور ہیں وہ یہ ہے کہ حضرت موسی علیہ السلام بھی اللہ تعالی کے دیدار سے مشرف نہ ہوئے۔(5)
المعتقد المنتقد میں ہے: ”اختلف موسی علیہ السلام و الاصح الذی علیہ الجمھور: انہ لم یرہ سبحانہ ھذا“ ترجمہ: حضرت موسی علیہ السلام کی رؤیت کے متعلق اختلاف ہے، اور اصح موقف جس پر جمہور ہیں وہ یہ ہے کہ حضرت موسی علیہ السلام نے بھی اللہ تعالی سبحانہ و تعالی کا دیدار نہیں کیا۔(6)
الیواقیت و الجواھر میں امام شعرانی (وفات: 973ھ) رَحِمَہُ اللہُ فرماتے ہیں: ”فھل وقعت رویۃ اللہ تعالی یقظۃ فی الدنیا لاحد غیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم،
بحکم الارث لہ فی ھذا المقام؟ فالجواب: کما قالہ الشیخ عبد القادر الجیلی رضی اللہ عنہ: لم یبلغنا وقوع ذلک فی الدنیا لاحد غیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم “ ترجمہ: سوال: کیا دنیا میں جاگتی آنکھوں سے اللہ تعالی کی رؤیت نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکے علاوہ کسی کے لئے اس مقام میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی وراثت اور توسط سے وقوع پذیر ہوئی ؟ اس کا جواب وہی ہے جو سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس دنیا میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکے علاوہ کسی اور کے لئے اس کا وقوع ہم تک نہیں پہنچا۔ (7)
اس پر اِجماع کی صراحت
شداخۃ المعتزلۃ میں امام قوام الدین الاتقانی الماتریدی (وفات: 758ھ) رَحِمَہُ اللہُ فرماتے ہیں: ”و تحقیقہ ان موسی علیہ السلام لم یرہ فی الدنیا اجماعاً “ ترجمہ: تحقیق یہ ہے کہ حضرت موسی علیہ السلام نے بھی بالاجماع دنیا میں اللہ تعالی کا دیدار نہیں کیا۔(8)
منح الروض الازھر فی شرح الفقہ الاکبر میں علامہ ملاعلی قاری علیہ رحمۃ اللہ الباری فرماتے ہیں: ”ان الامۃ قد اتفقت علی انہ تعالیٰ لا یراہ احد فی الدنیا بعینہ،ولم یتنازعوا فی ذلک الا لنبینا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم حال عروجہ علی ما صرح بہ فی شرح عقیدۃ الطحاوی“ ترجمہ: امت اس بات پر متفق ہے کہ اللہ تعالی کو کسی بھی شخص نے دنیا میں اپنی آنکھ سے نہیں دیکھااور اس میں کسی نے اختلاف نہیں کیا، مگر یہ کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے لئے (اللہ تعالیٰ کا دیدار)معراج میں (ثابت ہے)، جیسا کہ شرح عقیدہ میں اس کی تصریح کی۔(9)
ثابتات محکمہ کی تفصیل اور حکم
فتاوی رضویہ شریف میں ہے :” مانی ہوئی باتیں چار قسم ہوتی ہیں:(1)ضروریات دین ۔۔۔(2)ضروریات مذہب اہلسنت ۔ ۔۔(3) ثابتات محکمہ :ان کے ثبوت کو دلیل ظنی کافی، جب کہ اس کا مفاد اکبر رائے ہو کہ جانب خلاف کو مطروح و مضمحل اور التفاتِ خاص کے ناقابل بنا دے۔ اس کے ثبوت کے لیے حدیث احاد، صحیح یا حسن کافی ، اور قول سوادِ اعظم و جمہور علماء کا سندِ وافی ، فان ید اﷲ علی الجماعۃ ( اﷲ تعالی کا دستِ قدرت جماعت پر ہوتا ہے۔ت) ان کا منکر وضوحِ امر کے بعد خاطی و آثم خطاکارو گناہگار قرار پاتا ہے، نہ بددین و گمراہ نہ کافر و خارج از اسلام“ (10)
اسی میں ایک اور مقام پر ہے : ” ایک دو دس بیس علماء کبا ر ہی سہی اگر جمہور و سواد اعظم کے خلاف لکھیں گے اس وقت ان کے اقوال پر نہ اعتماد جائز نہ استناد ۔۔۔ اجماع امت تو شے عظیم ہے سواد اعظم یعنی اہلسنت کا کسی مسئلہ عقائد پر اتفاق یہاں اقوی الادلہ ہے، کتاب و سنت سے اس کا خلاف سمجھ میں آئے تو فہم کی غلطی ہے، حق سوادِ اعظم کے ساتھ ہے۔“(11)
1۔ الیواقیت الجواھر فی بیان عقائد الاکابر، جلد1، صفحۃ 226، النوریہ الرضویہ، لاھور
2۔ الشفاء بتعریف حقوق مصطفی ، جلد1، صفحہ 200، دار الفکر، بیروت
3۔ نسیم الریاض، جلد3، صفحہ 138-139، دار الکتب العلمیہ، بیروت
4…۔ الحدیقہ الندیہ شرح طریقہ محمدیہ، جلد1، صفحۃ 312، مکتبہ نوریہ رضویہ، لاھور
5…۔ کنز الفوائد شرح بحر العقائد، صفحہ 73، مخطوطہ
6…۔ المعتقد المنتقد،صفحہ138،دار اھل السنۃ،کراچی
7…۔ الیواقیت و الجواھر، جلد1، صفحہ 229، نوریہ رضویہ، لاھور
8…۔ شداخۃ المعتزلۃ، صفحہ 4، مخطوطہ
9…۔ منح الروض الازھرشرح الفقہ الاکبر،صفحہ 354،دار البشائر الاسلامیہ، بیروت
10…۔ فتاوی رضویہ،جلد29،صفحہ385، رضا فاؤنڈیشن، لاھور
11…۔ فتاوی رضویہ، جلد29،صفحہ 214-215، رضا فاونڈیشن، لاھور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع