30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دیدارِ الٰہی کے وقوع سے متعلق حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی احادیث
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے ارشاد فرمایا: ” الموت قبل لقاء الله تعالى“ ترجمہ: اللہ تعالی سے ملاقات سے قبل موت ہے۔ (1)
المسامرۃ فی شرح المسایرہ کے حاشیہ میں علامہ قاسم بن قطلوبغا رَحِمَہُ اللہُ اس حدیث ”ھل تضامون فی رؤیۃ القمرلیلۃ البدرلیس بینکم و بینہ سحاب کذلک ترون ربکم “ کے متعلق لکھتے ہیں کہ یہ حدیث مشہور ہے ؛ امام حکیم ترمذی رَحِمَہُ اللہُ کے نزدیک یہ حدیث اکیس صحابہ کرام سے مروی ہے۔ اس کے بعد علامہ قاسم بن قطلوبغا رَحِمَہُ اللہُ لکھتے ہیں کہ رؤیت باری تعالی کے وقوع کے متعلق احادیث دیگر صحابہ سے بھی مروی ہیں اور ان میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا بھی شامل ہیں۔ مکمل عبارت یہ ہے: ” ذكر الشيخ أبو عبد الله محمد بن على الحكيم الترمذي رَحِمَہُ اللہُ في تصنيف له فقال على صحة حديث الرؤية عدة من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم كلهم أئمة منهم ابن مسعود و ابن عمر و ابن عباس وصهيب وأنس وأبو موسى الاشعرى وأبو هريرة وأبو سعيد الخدري وعمار بن ياسر وجابر ابن عبد الله ومعاذ ابن جبل وثوبان وعمارة بن رويبة الثقفي وحذيفة وأبو بكر الصديق وزيد این ثابت وجرير بن عبد الله البجلي وأبو أمامة الباهلى وبريدة الاسلامى وأبو برزة وعبد الله بن الحارث بن جزء الزبيدي رضوان الله عليهم أجمعين فهم أحد وعشرون من مشاهير الصحابة وكبرائهم وعلمائهم نقلوه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم واتفقوا على ثبوته ولم يشهر عن غيرهم خلاف ذلك فكان اجماعا انتهی ۔۔۔ قلت: وقد زدت عليه حديث أبي رزين العقيلي عند أحمد وأبي داود وابن ماجة وحديث عمارة بن الصامت عند أحمد وحديث كعب بن عجرة وفضالة بن عبيد عند ابن جرير الطبري وحديث أبي بن كعب عند الدارقطني وحديث عبد الله بن عمر وعند ابن أبي حاتم في تفسيره وحديث عائشة رضى الله عنها عند الحاكم “(2)
بروزِ قیامت دیدارِ الٰہی کے وقوع پر اجماعِ صحابہ رضی اللہ عنہم
الابانۃ عن اصول الدیانۃ میں امام اشعری رَحِمَہُ اللہُ (وفات: 324ھ) فرماتے ہیں: ” وقد روي عن أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم أن الله عز وجل تراه العيون في الآخرة، وما روى عن أحد منهم أن الله تعالى لا تراه العيون في الآخرة، فلما كانوا على هذا مجتمعين، وبه قائلين، وإن كانوا في رؤيته تعالى في الدنيا مختلفين، ثبتت في الآخرة إجماعا“ ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکے کثیر اصحاب سے مروی ہے کہ آخرت میں اللہ تعالی کا جاگتی آنکھوں سے دیدار ہو گا اور کسی ایک صحابی سے بھی یہ مروی نہیں کہ آخرت میں آنکھیں اللہ تعالی کے دیدار سے مشرف نہیں ہوں گی، اگرچہ صحابہ دنیا میں اللہ تعالی کی رؤیت کے وقوع کے بارے میں مختلف تھے لیکن جب آخرت میں دیدار باری تعالی کے وقوع پر متفق تھے اور یہی موقف رکھتے تھے تو آخرت میں دیدار باری تعالی کا وقوع بالاِجماع ثابت ہو گیا۔(3)
اتحاف المرید شرح جوہرۃ التوحید میں امام عبد السلام اللقانی رَحِمَہُ اللہُ لکھتے ہیں: ”ان الصحابۃ رضی اللہ عنهم کانوا مجتمعین علی وقوع الرؤیۃ فی الاخرۃ و ان الایات و الاحادیث الواردۃ فیھا محمولۃ علی ظواھرھا“ ترجمہ: تمام صحابہ رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین آخرت میں دیدار باری تعالی کے وقوع پر متفق تھے اور اس کے متعلق وارد احادیث کو ظاہر پر ہی محمول کرتے تھے۔(4)
المواقف مع الشرح لقاضی عضد الدین الایجی رَحِمَہُ اللہُ (وفات: 756ھ) میں ہے: ”بل وفی صحتہ ایضا (اجماع الامۃ قبل حدوث المخالفین علی وقوع الرؤیۃ ) و مثل ھذا الاجماع مفید للیقین“ ترجمہ: بلکہ آخرت میں دیدار باری تعالی کے وقوع کے درست ہونے پر بھی مخالفین کے وجود سے پہلے تمام امت کا اتفاق و اجماع تھا اور ایسا اجماع علم یقینی کا فائدہ دیتا ہے۔(5)
بروزِ حشر دیدارِ الٰہی کے وقوع سے متعلق حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکا عقیدہ:
تفسیر ابن کثیر میں ہے: ” كانت أم المؤمنين عائشة رضي الله عنها، تثبت الرؤية في الدار الآخرة، وتنفيها في الدنيا “ ترجمہ: ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا آخرت میں اللہ تعالی کی رؤیت کا اثبات کرتی تھیں اور دنیا میں رؤیت کی نفی کرتی تھیں۔(6)
چوتھے سوال کا جواب
جاگتی آنکھوں سے دیدارِ الٰہی سے متعلق عقیدۂ اہلسنت
اہلسنت کا متفقہ و اجماعی عقیدہ ہے کہ جاگتی آنکھوں سے دنیا و آخرت دونوں میں اللہ تعالی کا دیدار عقلاً ممکن ہے۔
تفسیر البحر المحیط میں امام ابو حیان اندلسی رَحِمَہُ اللہُ (وفات: 745ھ) لکھتے ہیں: ” وهو على طريقة الاعتزال في استحالةرؤية الله عندهم. وأهل السنة يعتقدون أنهم لم يسألوا محالاً عقلا، لكنه ممتنع من جهة الشرع، إذ قد أخبر تعالى على ألسنة أنبيائه أنه لا يرى في هذه الحياة الدنيا “ ترجمہ: اور وہ (زمحشری) معتزلہ کے عقیدے پر ہے کہ ان کے نزدیک اللہ تعالی کی رؤیت محال ہے ۔ اہلسنت کا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت موسی علیہ السلام نے محال عقلی کا سوال نہیں کیا تھا لیکن وہ سوال شرعاً ممتنع ہے کیونکہ اللہ تعالی نے اپنے انبیاء کی زبان مبارک سے اس بات کی خبر دے دی کہ اسے اس دنیاوی زندگی میں نہیں دیکھا جا سکتا۔(7)
المسامرۃ فی شرح المسایرۃ میں علامہ قاسم بن قطلوبغا حنفی رَحِمَہُ اللہُ اور کنز الفوائد شرح بحر العقائد میں ابراہيم بن حسن ميرغنی رَحِمَہُ اللہُ فرماتے ہیں: و اللفظ للاخر ”اجازوھا ای اھل السنۃ کافۃ عامۃ ؛ و قال الامدی: اجتمعت الائمۃ من اصحابنا علی ان رؤیتہ تعالی فی الدنیا و الاخرۃ جائزۃ عقلا“ ترجمہ: تمام کے تمام اہلسنت نے رؤیت باری تعالی کے عقلاً جواز کا قول کیا ہے ۔ علامہ آمدی رَحِمَہُ اللہُ نے فرمایا: ہمارے ائمہ اس عقیدے پر متفق ہیں کہ اللہ تعالی کی رؤیت دنیا اور آخرت دونوں میں عقلاً درست ہے۔(8)
البتہ سر کی آنکھوں سے دیدار باری تعالیٰ کے وقوع سے متعلقہ عقائد کی مندرجہ ذیل مختلف صورتیں ہیں اور ان صورتوں کے دلائل مختلف ہونے کے سبب ان کے احکامات میں بھی اختلاف ہے۔
· آخرت میں تمام مومنین کے لیے سر کی آنکھوں سے دیدار باری تعالیٰ کے وقوع کے
متعلق عقیدہ اور اس کے منکر کا حکم ۔
· دنیا میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکے لئے سر کی آنکھوں سے دیدار باری تعالیٰ کے
وقوع سے متعلق عقیدہ اور اس کے منکر کا حکم۔
· دنیا میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لئے سر کی آنکھوں سے دیدار باری تعالی کے عدم
وقوع کے متعلق عقیدہ اور اس کے منکر کا حکم۔
· دنیا میں اولیا ء اور عوام کے لیے سر کی آنکھوں سے دیدار باری تعالیٰ کے عدم وقوع کے
متعلق عقیدہ اور اس کے منکر کا حکم۔
ذیل میں بالترتیب ان صورتوں کے متعلق اہلسنت کے عقائد اور ان کے منکرین کے احکامات مذکور ہیں ۔
آخرت میں دیدارِ الٰہی کے وقوع کا نظریہ
آخرت میں تمام مومنین کے لئے سر کی آنکھوں سے دیدار باری تعالیٰ کے وقوع کے اثبات میں قرآن پاک کی کئی آیات شاہد ہیں (چند آیات اوپر گزر چکیں) ، اس بارے میں احادیث رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمحد تواتر تک پہنچی ہوئی ہیں۔ مزید اسی عقیدے پر تمام اہلسنت بلکہ مخالفین سے پہلے پوری امت کا اجماع تھا ، جس سے مستقلاً علم یقینی کا فائدہ حاصل ہوتا ہے، لہٰذا یہ عقیدہ کئی قطعی و یقینی دلائل سے ثابت ہے ۔
آخرت میں دیدار باری تعالیٰ کے منکر کا حکم
آخرت میں اہل ایمان کے لئے سر کی آنکھوں سے دیدار باری تعالیٰ کے وقوع کا انکار کرنے والا گمراہ ہے۔
اس کی تفصیل یہ ہے کہ شریعت مطہرہ کے تمام عقائد و مسائل کا حکم یکساں نہیں ہوتا ، بلکہ ان کے ثبوت کے دلائل مختلف ہونے کے باعث ان کے انکار کرنے والے کے احکامات بھی مختلف ہوتے ہیں۔ بعض عقائد ایسے ہوتے ہیں کہ انہیں”ضروریات مذہب اہلسنت“ کا نام دیا جاتا ہے۔ ان کے ثبوت کے لئے قطعی دلائل کی حاجت ہوتی ہے اور ان دلائل میں ایسا کوئی احتمال اور تاویل بھی نہیں پائی جا تی ، جس کی بنیاد کسی دلیل پر ہو ، لیکن ان دلائل میں بغیر دلیل کے تاویل کی گنجائش بہرحال ہوتی ہے۔ اور اس کے منکر کا حکم یہ ہوتا ہے کہ ایسے قطعی دلائل کے انکار کی وجہ سے اسے گمراہ و بد دین تو قرار دیا جائے گا ، لیکن نفس احتمال ، اگرچہ بلا دلیل ہی ہو ، کی وجہ سے اسے کافر نہیں کہا جا سکتا۔ اور ” آخرت میں اہل ایمان کے لئے سر کی آنکھوں سے دیدار باری تعالیٰ کے وقوع “ کا عقیدہ بھی اصح قول کے مطابق ”ضروریات مذہب اہلسنت“ کے قبیل سے ہے کہ یہ قرآن پاک کی آیات، احادیث متواترہ، اور اِجماعِ امت جیسے قطعی دلائل سے ثابت ہے اور اس میں ایسے کسی احتمال کی گنجائش نہیں ہے ، جس کی بنیاد کسی دلیل پر ہو، البتہ نفس احتمال کی گنجائش موجود ہے اس لئے فقہا و متکلمین نے صراحت فرمائی ہے کہ اگر کوئی اس عقیدے کا انکار کرے ، تو وہ گمراہ و بددین اور مذہب اہلسنت سے خارج ٹھہرے گا، ہاں اس کی التزاماً تکفیر نہ کی جائے۔
آخرت میں وقوعِ دیدار باری تعالیٰ کے دلائل کا قطعی ہونا
علامہ كمال الدین البياضی الحنفی رَحِمَہُ اللہُ (وفات: 1097) اپنی کتاب اشارات المرام من عبارات الامام ابی حنیفۃ النعمان میں فرماتے ہیں: ” قال في الوصية والفقه الأكبر: (ولقاء الله تعالى) أي: كونه مرئيا (لأهل الجنة) زيادةٌّ في إكرامهم فيها (حق ) أي: ثابت بالدلائل القطعيات من بينات الآيات، ومشهورات الروايات “ ترجمہ: امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ نے اپنی وصیت اور الفقہ الاکبر میں فرمایا: اہل جنت کے لئے ان کے اکرام میں زیادتی کے لئے اللہ تعالی سے ملاقات یعنی جاگتی آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کا دیدار حق ہے یعنی واضح آیات اور مشہور روایات کے قطعی دلائل کے ذریعے ثابت ہے۔(9)
آخرت میں دیدارِ الٰہی سے متعلق احادیث کا حد تواتر تک ہونا
تفسیر البحر المحیط میں امام ابو حیان اندلسی رَحِمَہُ اللہُ (وفات: 745ھ) لکھتے ہیں: ” والرؤية في الآخرة ثابتة عن الرسول صلى الله عليه وسلم بالتواتر“ ترجمہ: آخرت میں دیدار باری تعالی کا وقوع رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمسے تواتر سے ثابت ہے۔ (10)
عمدۃ المرید میں امام برھان الدین اللقانی (وفات: 1041) رَحِمَہُ اللہُ لکھتے ہیں: ”و اما السنۃ فاحادیث بلغ معناھا مبلغ التواتر، و ان کانت تفاصیلھا احاد۔۔ ولا شک فی افادۃ الخبر ھذا المجموع القطع المعنوی“ ترجمہ: اور آخرت میں رؤیت باری تعالی کے متعلق احادیث معنیً تواتر تک پہنچی ہوئی ہیں، اگرچہ ان کی تفاصیل احاد ہیں اور بلا شبہ مجموعی طور پر یہ احادیث معنیً قطعیت کا فائدہ دیتی ہیں۔(11)
1۔ صحیح مسلم، جلد4، صفحہ 2066، دار احیاء التراث العربی، بیروت
2۔ کتاب المسامرہ مع حاشیہ قاسم بن قطلوبغا، جلد1، صفحہ 39-43، مکتبۃ الازھریہ، الازھر
3۔ الابانۃ عن اصول الدیانۃ، صفحۃ 51، دار الانصار، قاھرہ
4۔ اتحاف المرید شرح جوھرۃ التوحید، صفحہ 206، دار الکتب العلمیہ، بیروت
5۔ شرح المواقف، جلد 8، صفحۃ 150، دار الکتب العلمیہ، بیروت
6۔ تفسیر ابن کثیر، جلد3، صفحہ 279، دار الکتب العلمیہ، بیروت
7۔ تفسیر البحر المحیط، جلد3، صفحہ 402، دار الکتب العلمیہ، بیروت
8۔ کنز الفوائد شرح بحر العقائد، صفحہ 66، مخطوطہ
9۔ اشارات المرام من عبارات الامام ابی حنیفۃ النعمان ، صفحہ 171، دار الکتب العلمیہ، بیروت
10۔ تفسیر البحر المحیط، جلد3، صفحہ 402، دار الکتب العلمیہ، بیروت
11۔ عمدۃ المرید ، جلد2، صفحہ 755، دار النور، عمان
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع