30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کی صِحّت یابی کیلئے دُعا کی۔ جب واپَس پلٹا تو ماموں جان صِحّت یاب ہو کر گھر بھی آچکے تھے اور اب نَماز کیلئے گھر سے نکل کر خِراماں خِراماں جانبِ مسجِد رَواں دَواں تھے۔ یہ رَحمت بھرا منظر دیکھ کر اُس نوجوان نے گناہوں بھری زندگی سے توبہ کی اور اپنے آپ کو مَدَنی رنگ میں رنگ لیا۔
مرض گھمبیر ہو، گر چِہ دِلگیر ہو ہوں گی حل مشکلیں قافِلے میں چلو
غم کے بادَل چھٹیں اور خوشیاں ملیں دل کی کَلیاں کھلیں قافِلے میں چلو
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(فیضانِ سنت (جلد اوّل)، باب فیضانِ بسم اللہ ، ص۸۲)
(8) مدنی قافلے پر سرکارصلی اللہ تَعَالٰی علیہ والہ وسلم کی کرم نوازی
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!
ایک عاشقِ رسول کے بیان کا اپنے انداز و اَلفاظ میں خُلاصہ پیشِ خدمت ہے ، ہمارا مَدَنی قافِلہ سنّتوں کی تربیّت لینے کے لئے حَیْدَرآباد (بابُ الاسلام سندھ) سے صوبۂ سرحد پہنچا ۔ ایک مسجِد میں تین دن گزارکر دوسرے عَلاقے کی طرف جاتے ہوئے راستہ بھول کر ہم جنگل کی طرف جا نکلے ، رات کی سیاہی ہر طرف پھیل چُکی تھی ، دُور دُور تک آبادی کا کوئی نام و نشان نہیں تھا، لمحہ بہ لمحہ تشویش میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا، اتنے میں اُمّید کی ایک کرن پھوٹی اور کافی دُور ایک بتّی ٹِمٹِماتی نظر آئی ، خوشی کے مارے ہم اُس سَمْت لپکے مگر آہ!چند ہی لمحوں کے بعد وہ روشنی غائب ہوگئی ، ہم ٹِھٹَھک کر کھڑے کے کھڑ ے رَہ گئے، ہماری گھبراہٹ میں ایک دم اِضافہ ہوگیا ! کیا کریں ، کیا نہ کریں اور کس سَمْت کو چلیں کچھ بھی سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ آہ!آہ!آہ!
سُونا جنگل رات اندھیری چھائی بدلی کالی ہے سونے والو! جاگتے رہیو چوروں کی رکھوالی ہے
جُگنُو چمکے پتاّ کَھڑکے مجھ تنہا کادِل دھڑکے ڈر سمجھائے کوئی پَوَن ہے یا اَگیا بَیتالی ہے
بادَل گَرجے بجلی تَڑپے دَھک سے کلیجا ہو جائے بَن میں گھٹا کی بھیانک صورت کیسی کالی کالی ہے
پاؤں اٹھا اور ٹھوکر کھائی کچھ سنبھلا پھر اَوندھے مُنہ مِیْنْہْ نے پھسلن کر دی ہے اور دُھرتک کھائی نالی ہے
ساتھی سَاتھی کہہ کے پکاروں ساتھی ہو تو جواب آئے پھرجُھنجُھلا کر سر دے پٹکوں چل رے مولیٰ والی ہے
پھر پھر کر ہر جانب دیکھوں کوئی آس نہ پاس کہیں ہاں اِک ٹوٹی آس نے ہارے جی سے رفاقت پالی ہے
تم تو چاند عَرَب کے ہو پیارے تم تو عجم کے سُورج ہو
دیکھو مجھ بے کس پر شب نے کیسی آفت ڈالی ہے
اس پریشانی میں نہ جانے کتنا وَقْت گزر گیا، یکایک اُسی سَمْت پھر روشنی نُمُودار ہوئی ۔ہم نے اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کا نام لیکر ہمّت کی اور ایکبار پھر آبادی کی اُمّید پر روشنی کی جانِب تیز تیزقدم چل پڑے۔ جب قریب پہنچے تو ایک شخص روشنی لئے کھڑا تھا، وہ نہایت پُرتپاک طریقے پرہم سے ملا اور ہمیں اپنے مکان میں لے گیا ، عاشِقانِ رسول کے مَدَنی قافِلے کے بارہ مُسافِروں کی تعداد کے مطابِق12کپ موجود تھے اور چائے بھی تیّار ۔اُس نے گَرْم گَرْم چائے کے ذَرِیعے ہماری ’’خیر خواہی ‘‘ کی ۔ہم اِس غیبی امداد اور پورے بارہ کپ چائے کی پہلے سے تیّاری پر حیران تھے ۔ اِسْتِفْسار پر ہمارے اجنبی میزبان نے انکِشاف کیا کہ میں سویاہوا تھا کہ قسمت انگڑائی لیکر جاگ اُٹھی ، جنابِ رسالت مآب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میرے خواب میں تشریف لائے اور کچھ اِس طرح ارشاد فرما یا ، ’’دعوتِ اسلامی کے مَدَنی قافِلے کے مسافِر راستہ بھول گئے ہیں ان کی رہنُمائی کیلئے تم روشنی لیکر باہَر کھڑے ہوجاؤ ۔‘‘ میری آنکھ کُھل گئی اور بتّی لیکر باہَر نکل پڑا ۔ کچھ دیر تک کھڑا رہا مگر کچھ نظر نہ آیا ، وَسوسہ آیا کہ شاید غَلَط فَہمی ہوئی ہے، آنکھوں میں نیند بھری ہوئی تھی ، گھر میں داخِل ہوکر پھر سَورہا ، سر کی آنکھ بند ہوتے ہی دل کی آنکھ واپَس کُھل گئی اور پھر ایکبار مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا چہرۂ نور بار نظر آیا ، لَبہائے مُبارَکہ کو جُنبِش ہوئی اور رَحْمت کے پھول جَھڑنے لگے ، الفاظ کچھ یوں ترتَیب پائے، دِیوانے !مَدَنی قافِلہ میں بارہ مُسافِر ہیں ، ان کے لئے چائے کا انتِظام کرکے فوراًروشنی لیکر باہَر کھڑے ہوجاؤ ۔ میں نے دم زَدن میں خیر خواہی کی ترکیب کی اور روشنی لیکر باہَر نکل آیا کہ اتنے میں عاشِقانِ رسول کا مَدَنی قافِلہ بھی آپہنچا ۔
آتا ہے فقیروں پہ انہیں پیار کچھ ایسا خود بھیک دیں اور خود کہیں منگتا کابھلا ہو
تُم کو تو غُلاموں سے ہے کچھ ایسی مَحَبَّت ہے ترکِ اَدب ورنہ کہیں ھم پہ فِداہو
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اِس واقِعہ سے جہاں علمِ غیبِ ماہِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا معلوم ہوا وہاں دعوتِ اسلامی کی حقّانیّت اور بارگاہِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں مقبولیَّت کا بھی پتا لگا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّ وَجَلَّ ہمارے میٹھے میٹھے مَدَنی آقا صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اپنے غلاموں کو ہر وَقْت اپنی نظرمیں رکھتے ہیں ، مصیبت میں پھنس جانے کی صورت میں امداد فرماتے اور بھوکوں کو کھانا کِھلاتے ہیں ، چُنانچِہ حضرت امام یوسُف بن اسمٰعیل نبہانی قُدِّسَ سرُّہُ الرَّبّانی نَقْل کرتے ہیں ، حضرتِ شیخ ابو العباّس احمد بن نفیس تُونِسی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں ، میں ایک بار مدینۂ منوَّرہ میں سخْت بھوک کے عالَم میں سرکارِ عالی وقار ، مکّے مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے مزارپُر انوار پر حاضِر ہو کر عرض گزار ہوا، یارسولَ اللّٰہ ! عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں بھوکا ہوں ، یکبارگی آنکھ لگ گئی، دَریں اَثنا کسی نے جگا دیا، اور مجھے ساتھ چلنے کی دعوت دی، چُنانچِہ میں ان کے ساتھ ان کے گھر آیا، میزبان نے ، کَھجوریں ، گھی اورگندُم کی روٹی پیش کرکے کہا، پیٹ بھرکر کھا لیجئے کیوں کہ مجھے میرے جَدِّ امجد، میٹھے مکّی مَدَنی محمَّد صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے آپ کی میزبانی کا حکم دیا ہے ۔ آئندہ بھی جب کبھی بھوک محسوس ہوہمارے پاس تشریف لایا کریں ۔ ( حُجَّۃُ اللّٰہِ عَلَی الْعٰلَمِین ج ۲ ص ۵۷۳ )
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع