30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ٹیڑھی ہوں ہڈّیاں دَرْد سارے مِٹَیں
ہوں گی سیدھی میاں قافِلے میں چلو
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلّٰی اللّٰہُ تَعَالٰی علیٰ محمَّد
(فیضانِ سنت (جلد اوّل)، باب فیضانِ بسم اللہ ، ص۶)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!
عاشِقان رسول کا ایک مَدَنی قافلہ کَپَڑوَنج ( گُجرات الھند) پہنچا، ’’عَلاقائی دَورہ برائے نیکی کی دعوت ‘‘کے دَوران ایک شرابی سے مُڈبَھیڑ ہو گئی ، عاشِقانِ رسول نے اُس پر خوب اِنفِرادی کوشِش کی، جب اُس نے سبز سبز عمامہ والوں کی شَفقتیں اور پیار دیکھا تو ہاتھوں ہاتھ اُن کے ساتھ چل پڑا، عاشِقانِ رسول کی صُحبت کی بَرَکت سے گناہوں سے توبہ کی، داڑھی مبارَک بڑھالی، سبز عمامہ کا تاج بھی سر پر سج گیا، مَدَنی لباس کا بھی ذِہن بن گیا، چھ دن تک مَدَنی قافِلے میں سفر کی سعادت حاصِل کر سکا، مزید 92 دن کیلئے مَدَنی قافِلے میں سفر کی نیّت کی مگر زادِ قافِلہ یعنی سفر کے اَخراجات نہ تھے۔ ایک دن ایک رِشتہ دار سے مُلاقات ہو گئی اُس نے جب مُعاشرہ کے بدنام اورشرابی کو داڑھی ، سبز سبز عمامہ اور مَدَنی لباس میں دیکھا تو دیکھتا رَہ گیا، جب اُس کو بتایا گیا کہ یہ سب مَدَنی قافِلے میں سفر کی بَرَکت ہے اور اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ اسباب ہو جانے کی صورت میں مزید 92 دن کے سفر کا عزمِ مُصَمَّم ہے۔ تو اُس رشتہ دار نے کہا، پیسوں کی فکر مت کرو۔ 92 دن کے مَدَنی قافِلے میں سفر کا خرچ مجھ سے قبول کر لو اورساتھ میں 92 د ن تک گھر کے اَخراجات بھی اپنے ذمّہ لیتا ہوں ، یوں وہ ’’ دیوانہ‘‘ 92 دن کیلئے مَدَنی قافِلہ کا مسافر بن گیا۔
غیبی امداد ہو گھر بھی آباد ہو رزق کے دَر کُھلیں بَرَکتیں بھی ملیں
چل کے خود دیکھ لیں قافلے میں چلو لطفِ حق دیکھ لیں قافِلے میں چلو
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(فیضانِ سنت (جلد اوّل)، باب فیضانِ بسم اللہ ، ص۱۶)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!
حَیْدَر آباد(با بُ الاسلام سندھ) کے ایک مَحَلّہ میں عَلاقائی دَ ورہ برائے نیکی کی دعوت سے مُتأَ ثِّرہو کر ایک ماڈَرْن نوجوان مسجِد میں آ گیا ۔ بیان میں مَدَنی قافِلوں میں سفر کی ترغیب دلائی گئی تواس نے مَدَنی قافِلے میں سفر کرنے کیلئے نام لکھوادیا۔ ابھی مَدَنی قافِلے میں اُس کی روانگی میں کچھ دن باقی تھے کہ قَضائے الہٰی عَزَّ وَجَلَّ سے اُس کا انتِقال ہو گیا۔ کسی اَہلِ خانہ نے مرحوم کو خواب میں اِس حالت میں دیکھا کہ وہ ایک ہریالے باغ میں ہَشّاش بَشّاش جُھولا جھول رہا ہے۔ پوچھا ، یہاں کیسے آ گئے ؟ جواب دیا،
’’ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی قافِلے کے ساتھ آیا ہوں ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا بڑا کرم ہوا ہے، میری ماں سے کہدینا کہ وہ میرا غم نہ کرے میں یہاں بَہُت چَین سے ہوں ۔‘‘
خُلْد میں ہو گا ہمارا داخِلہ اِس شان سے
یا رسولَ اللہ کا نعرہ لگاتے جائیں گے (عَزَّ وَجَلَّ وَ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ )
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(فیضانِ سنت (جلد اوّل)، باب فیضانِ بسم اللہ ، ص۲۱)
(4) صدیق اکبررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے مدنی آپریشن فرمایا
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!
ایک عاشقِ رسول کا بیان اپنے انداز والفاظ میں پیش کرنے کی کوشِش کرتا ہوں ، ھمارا مَد َنی قافِلہ’’ ناکہ کھارڑی‘‘ (بلوچستان، پاکستان ) میں سنَّتوں کی تربیّت کے لئے حاضِر ہو اتھا ، مَد نی قافِلیکے ایک مسافِر کے سر میں چار چھوٹی چھوٹی گانٹھیں ہوگئی تھیں جن کے سبب اُن کو آدھا سِیسی (یعنی آدھے سر) کا دَرْد ہوا کرتا تھا۔جب درد اُٹھتا تو درد کی طرف والے چِہرے کا حصّہ سیا ہ پڑجاتا اور وہ تکلیف کے سبب اِسقَدَر تڑپتے کہ دیکھا نہ جاتا۔ایک رات اِسی طرح وہ درد سے تڑپنے لگے ، ھم نے گولیا ں کِھلاکر اُن کو سُلادیا ۔صبح اُٹھے توہَشّاش بَشّاش تھے ۔ اُنہوں نے بتایا کہ اَلْحَمْدُللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ مجھ پر کرم ہوگیا ، میرے خواب میں سرکارِرسالت مآب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے بمع چار یار علیہم الرضوان کرم فرمایا ۔ سرکارِمدینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے میری جانب اشارہ کرتے ہوئے حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے فرمایا : ’’اِس کا درد ختمْ کردو‘‘ ۔چُنانچِہ یارِ غار و یارِ مزار سیِّدُنا صِدّیقِ ا کبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے میرا اِس طرح مَدَنی آپریشن کیا کہ میرا سَر کھول دیا اور میرے دِماغ میں سے چار کالے دانے نکالے اور فرمایا، ، ’’بیٹا !اب تمہیں کچھ نہیں ہوگا ۔‘‘واقِعی وہ اسلامی بھائی با لکل تندُرُست ہوچکے تھے ۔
سفر سے واپَسی پر اُنہوں نے دوبارہ ’’چیک اَپ ‘‘کروایا ۔ڈاکٹر نے حیران ہوکر کہا بھائی کمال ہے، تمہارے دِماغ کے چاروں دانے غائب ہوچکے ہیں ! اِس پر اُس نے رو رو کر مَدَنی قافِلے میں سفر کی بَرَکت اور خواب کا تذکِرہ کیا ۔ ڈاکٹر بَہُت مُتأَثِّر ہوا۔ اُس اَسپتال کے ڈاکٹروں سمیت وہاں موجود ۱۲ اَفراد نے ۱۲ دن کے مَدَنی قافِلے میں سفر کی نیّتیں لکھوائیں اور بعض ڈاکٹرز نے اپنے چِہرے پرہاتھوں ہاتھ سرورِکائنات صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مَحَبَّت کی نشانی یعنی ڈاڑھی مُبارک سجانے کی نیّت کی ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع