30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تقریبا ً آدھی سی ڈیزدیکھ چکا تھا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّ وَجَلَّ مجھے آخِری عشرۂ رَمَضانُ الْمُبارَک( ۱۴۲۲ ھ، 2001 )میں (طلبانی گاؤں / مدنی مسجد میں جہاں دو تین اسلامی بھائی معتکف تھے اور جدول دعوتِ اسلامی کا تھا ) اعتِکاف کی سعادت نصیب ہو گئی۔27 رَمَضانُ الْمُبارَک کا ناقابلِ فراموش ایمان افروز واقِعہ تحدیثِ نعمت کیلئے عرض کرتا ہوں : شب بیدار رہ کر میں نے خوب رو رو کر سرکارِ نامدار صَلَّی اللہ
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے دیدار کی بھیک مانگی ۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّ وَجَلَّ صبحِ دم بابِ کرم کُھل گیا، میں نے عالمِ غُنُودگی میں اپنے آپ کو کسی مسجِد کے اندر پایا، اتنے میں کسی نے اعلان کیا : ’’ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تشریف لائیں گے اور نَماز کی امامت فرمائیں گے‘‘کچھ ہی دیر میں رحمتِ کونین، سلطانِ دارین ، نانائے حسَنَین، ہم دُکھیادلوں کے چین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ و رضی اللہ تَعَالٰی عنہما بَمَع شیخینِ کریمین رضی اللہ تَعَالٰی عنہما جلوہ نُما ہو گئے اور میری آنکھ کُھل گئی ۔ صرف ایک جھلک نظر آتے ہی وہ حسین جلوہ نگاہوں سے اوجھل ہو گیا، اس پر دل ایک دم بھر آیا اورآنکھوں سے سیلِ اشک رواں ہو گیا یہاں تک کہ روتے روتے میری ہچکیاں بندھ گئیں اے کاش!
اتنی مدت تک ہو دیدِ مُصحَف عارِض نصیب
حفظ کر لوں ناظِرہ پڑھ پڑھ کے قراٰنِ جمال
اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّ وَجَلَّ اِس کے بعد میرے دل میں تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ، دعوتِ اسلامی کی مَحَبَّت اور بڑھ گئی بلکہ میں دعوتِ اسلامی ہی کا ہو کر رہ گیا ۔ گھر سے ترکیب بنا کر میں نے بابُ المدینہ کراچی کا رُخ کیا اور درسِ نِظامی کرنے کیلئے جامِعۃُ المدینہ میں داخِلہ لے لیا۔ یہ بیان دیتے وقت درجہ اولیٰ میں علمِ دین حاصِل کرنے کے ساتھ ساتھ تنظیمی طور پر ایک ذیلی حلقے کے قافِلہ ذمّہ دار کی حیثیت سے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی کاموں کی دھومیں مچانے کی کوشِش کر رہا ہوں ۔
جلوۂ یار کی آرزو ہے اگر، مَدَنی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
میٹھے آقا کریں گے کرم کی نظر، مَدَنی ماحول میں کر لو تُم اعتکاف
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی علیٰ محمَّد
(فیضانِ سنت، باب فیضان رمضان، ج۱، ص۱۱۵۸)
(97) میں عید کی نماز بھی نہیں پڑھتا تھا
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!
بابُ المدینہ کراچی کے مین کورنگی روڈ کے قریب مُقیم ایک اسلامی بھائی (عمر تقریباً۲۵ برس) کے بیان کا لُبّ لُباب ہے : میں ایک گیراج (GARAGE) پر کام کرتا تھا۔ اگر چِہ فی نَفسِہٖ گیراج یعنی گاڑیوں کی مَرمّت کاکام غَلَط نہیں ، مگر آج کل گناہوں بھرے حالات ہیں ۔جن کو واسِطہ پڑا ہو گا وہ جانتے ہوں گے کہ اکثر گیراج کا ماحول کس قَدَر گندا ہوتا ہے ، فی زمانہ گیراج میں کام کرنے والوں کیلئے حلال روزی کا حُصول جُوئے شِیر لانے کے مُترَادِف( مُ۔تَ۔را۔دِف) ہے ۔ گندے ماحول گندی روزی کی نَحوست کا عالَم تو دیکھئے کہ مجھ بد نصیب کو پنج وقتہ نَماز کُجا جُمُعہ بلکہ عیدَین کی نَمازوں کی بھی توفیق نہیں تھی، رات گئے تک T.V. پر مختلف فلمیں ڈرامے دیکھنے میں مشغول رہتا بلکہ ہر قسم کی چھوٹی بڑی بُرائیاں میرے اندر موجود تھیں ۔ میری اصلاح کے اسباب یوں ہوئے کہ مکتبۃ المدینہ سے جاری ہونے والے سنّتوں بھرے بیان’’ اللّٰہعَزَّ وَجَلَّ کی خُفیہ تدبیر‘‘ کی کیسیٹ سُنی جس نے مجھے سرتا پا ہلا کر رکھ دیا۔اس کے بعد رَمَضانُ المُبارَک میں اِعتِکاف کی سعادت حاصِل ہوئی اور عاشقانِ رسول کے ساتھ تین دن کے مَدَنی قافِلے میں سفر کا شَرَف ملا۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّ وَجَلَّ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابَستہ ہو چکا ہوں ، پانچوں وقت نَمازوں کی پابندی ہے، اللّٰہعَزَّ وَجَلَّ کاکروڑہا کروڑ احسان کہ مجھ جیسا گنہگار بے نَمازی انسان جو عید کے بہانے بھی مسجِدکا رُخ نہیں کرتا تھا یہ بیان دیتے وقت تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ، دعوتِ اسلامی کی تنظیمی ترکیب کے مطابِق ایک مسجِد کی ذَیلی مُشاوَرَت کے نگران کی حیثیت سے بے نمازیوں کو نَمازی بنانے کی جُستُجو میں رہتا ہے۔
بھائی گر چاہتے ہو نَمازیں پڑھوں ، مَدَنی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
نیکیوں میں تمنّا ہے آگے بڑھوں ، مَدَنی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(فیضانِ سنت، باب فیضان رمضان، ج۱، ص۱۳۲۸)
(98) مجھ گناہگار پر بھی کرم کے چھینٹے پڑے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!
کورنگی بابُ المدینہ کراچی کے ایک اسلامی بھائی ( عمر ۲۲ سال) کی تحریر کا خلاصہ ہے : افسوس! میں ایک بے نمازی اور فلموں ڈِراموں کاشوقین بگڑ اہوا نوجوان تھا۔ بُرے ہم نشینوں کے ساتھ فیشن کی اندھیریوں میں بھٹک رہا تھا ، بُری صُحبت کی وجہ سے زندَگی کے شب و روز گناہوں میں بسر ہو رہے تھے۔ ہِلالِ ماہِ رَمَضانُ المُبارَک (۱۴۲۶ھ ) آسمانِ دنیا پر ظاہر ہوا رحمتِ خُدواندی عَزَّ وَجَلَّ کی چھما چھم بارِشیں برسنے لگیں ، مجھ پاپی و بد کار پر بھی کرم کے چھینٹے پڑے اور میں کریمیہ قادِریہ مسجِد کورنگی نمبر ڈھائی، بابُ المدینہ کراچی میں ہونے والے اجتِماعی اِعتِکاف میں رَمَضانُ المُبارَک کے آخِری عَشَرَہ میں مُعتَکِفہو گیا۔ میری خَزاں رَسیدہ زِندَگی کی شام میں صبحِ بہاراں کے مَدَنی پھول کھلنے لگے ، مجھ گنہگار کو توبہ کی توفیق نصیب ہوئی، اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّ وَجَلَّ میں نَمازی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع