30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
40برس )سے ملاقات ہونے پر اُن کو سر سری طور پر اِجتِماعی اِعتِکاف کی دعوت پیش کی گئی اور وہ تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ، دعوتِ اسلامی کی طرف سے مسجد ریلوے اسٹیشن (راجوری ، جمّوں کشمیر )میں ہونے والے آخری عشرۂ رَمَضانُ المُبارَک ( ۴۲۶ا ھ۔ 2005ء) کے اِجتِماعی اِعتِکاف میں مُعتَکف ہوگئے ۔عاشِقانِ رسول کا مَدَنی ماحول دیکھ کر حیران رہ گئے، داڑھی مبارَک سجالی ، عمامہ شریف سے سر سبز ہو گیا ، درس وبیان کا سلسلہ شروع کردیا، اپنے گھر میں بھی مَدَنی ماحول بنالیا ، گھر کی اسلامی بہنوں پر پردہ نافِذ کیا اور تا دمِ تحریر اپنے شہر راجوری کی مُشاوَرت کے نگران ہیں ۔
زندَگی کا قرینہ ملے گا تمہیں ، مَدَنی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
آؤ دردِ مدینہ ملے گا تمہیں ، مَدَنی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(فیضانِ سنت، باب فیضان رمضان، ج۱، ص۱۵۱۴)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!
تحصیل بھلوال ضلع گلزار طیبہ (سرگودھا پنجاب پاکستان)کے ایک اسلامی بھائی کے بیان کا لُبِّ لُباب ہے کہ میں بے نَمازی اور فیشن پرست نوجوان تھا ۔ فلمیں ، ڈرامے دیکھنے اورگانے باجے سننے کا اِنتہائی شوقین تھا رَمَضانُ الْمبارَک میں روزے بھی معاذاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ بہت کم ہی رکھتا، اگر کوئی سمجھاتابھی تو ٹال دیتا۔ ایک دن میں کسی معاملے کے سبب پریشانی کے عالم میں جارہا تھا کہ ایک باعمامہ دوست سے ملاقات ہوگئی جو تبلیغ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابَستہ تھے۔ وہ مجھے اِنفِرادی کوشش کرکے جامع مسجد میں ہونے والے دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وارسنتوں بھرے اجتماع میں لے گئے مگر میں شیطانی وسوسوں کے باعث کچھ ہی دیر میں اٹھ کر چل دیا ۔ دو دن بعد میرا ایک دنیا دار دوست مجھے فلم بینی کے لئے لے گیا مگر کسی بات پر اَن بَن ہونیکے باعِث میں اُس سے الگ ہوگیااور یوں میری قسمت کا ستارہ چمکا ، ہُوا یوں کہ ماہِ رَمَضان الْمبارَک میں میرے بڑے بھائی جان دعوتِ اسلامی کی طرف سے ہونے والے اجتماعی اعتکاف میں مُعتَکف تھے، میں بھائی جان سے ملنے جاپہنچا، وہاں سبزسبز عمامہ سجائے عاشِقانِ رسول مجھے بہت بھلے لگے ۔چاند رات ایک اسلامی بھائی نے بڑے بھائی جان کو فیضانِ سُنّت اور نعتوں کی کیسیٹ تحفے میں دی ، میں نے فیضانِ سُنّت کا باب بے نمازی کی سزائیں پڑھا تو لرز اٹھا اور کیسیٹ میں یہ مناجات ؎
گناہوں کی عادت چُھڑا میرے مولا مجھے نیک انساں بنا میرے مولا
سُنی تو دل چوٹ کھاگیا۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ میں نے گانے باجے سننا چھوڑ دیئے مگر نمازکی پابندی نہ کرسکا ۔ایک عاشقِ رسول کی دعوت پر دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں دوبارہ جا پہنچا اور آخِر تک رُکارہا اختتام پرعاشِقانِ رسول کی ملاقات کے دلنشین اندازنے مجھے دعوتِ اسلامی کا شیدائی بنادیا ۔ میں نے چِہرے کومَدَنی نشانی یعنی داڑھی مبارَک سے اور سر کو سبز عمامہ شریف سے سر سبز و شاداب کرلیا۔ پانچوں وقْت باجماعت نماز پڑھنے لگا اور سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ میں داخل ہو کرحضور غوثِ اعظم علیہ رحمۃالاکرم کا مُریدبھی بن گیا ۔یہ بیان دیتے وقت میں دعوتِ اسلامی کے مَدَنی کاموں کے لحاظ سے تنظیمی طور پر ذَیلی مُشاوَرت کا ذِمّہ دار ہوں اور پابندی سے درس دینے کے ساتھ ساتھ دعوتِ اسلامی کے مدرسۃ المدینہ میں حِفْظ کرنے کی سعادت بھی پارہا ہوں ۔
آؤ فیضانِ سنّت کو پاؤ گے تم ، مدنی ماحول میں کرلو تم اعتکاف
اِنْ شَآءَ اللہ جنّت میں جاؤ گے تم، مدنی ماحول میں کرلو تم اعتکاف
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(فیضانِ سنت، باب فیضان رمضان، ج۱، ص۱۵۱۵)
(91) ریڑھ کی ہڈی کے درد سے نَجات
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!
ایک مبلغ دعوتِ اسلامی کا کچھ اس طرح بیان ہے : بابُ المدینہ کراچی کے عَلاقے ڈیفینس وِیُو کے مُقیم میرے ماموں زاد بھائی جو کہ مل آنر ہیں ، اِنفرادی کوشِش کی بَرَکت سے ماہِ رَمَضانُ المُبارَک( ۴۲۵ا ھ)میں دعوتِ اسلامی کے تَحت ہونے والے سُنّتوں بھرے اِجتِماعی اِعتِکاف میں بیٹھنے کے لئے تیا ّر ہوگئے ۔اُن کاکہناہے کہ میں عرصۂ دراز سے رِیڑھ کی ہڈّی کے شدید درد میں مُبتلاتھا ، کئی ڈاکٹروں کو دِکھایا اور ان کی تجویز کردہ اَدوِیات بھی اِستِعمال کیں مگر خاطِر خواہ فائدہ نہ ہوا۔میں تشویش میں تھاکہ دس ۰ ۱ دن اِعتِکاف میں کیسے رہوں گا!خیر میں دَورانِ اِعتِکاف کوشِش کرتا کہ دیوار سے ٹیک لگاکر بیٹھوں ، فوم کے گدّے پر سونے کی عادت تھی یہاں چٹائی یا دری بچھا کر زمین پر سنّت کے مطابِق سونے کی ترغیب دلائی جاتی تھی یہ میرے لئے اِنتِہائی دشوار تھا مگر اس کے سِوا کوئی چارہ نہ تھا اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّ وَجَلَّ چندہی دن سنّت کے مطابِق سونے کی بَرَکت سے مجھے محسوس ہوا کہ میری کمر کے دَرد میں کافی کمی ہے ۔وہ درد میری جان چھوڑ گیا۔ میر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع