دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Dawateislami Ki Madani Baharain | دعوت اسلامی کی مدنی بہاریں

book_icon
دعوت اسلامی کی مدنی بہاریں

والے سنّتوں بھرے حلقوں ، رِقّت انگیز دعاؤں اور ذکر ونعت کی پُر سوز صداؤں نے ان کا دل موہ لیا ، عاشِقانِ رسول کی صُحبت سے وہ فیض ملا کہ نہ پوچھو بات ۔ داڑھی مبارَک سجی عمامہ شریف سے سر سبز ہوا اور ترقّی کے منازِل طے کرتے ہوئے تادم ِ تحریر اپنے شہرکی مُشاوَرت کے نگران کی حیثیت سے مَدَنی کاموں کی دھومیں مچارہے ہیں ۔

سنّتوں کی تم آکر کے سوغات لو، مَدَنی ماحول میں کر لو تم اعتکاف

آؤ بٹتی ہے رَحمت کی خیرات لو، مَدَنی ماحول میں کر لو تم اعتکاف

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !             صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(فیضانِ سنت، باب فیضان رمضان، ج۱، ص۱۴۹۳)

(77) جیسے مِرے سرکار ہیں ایسا نہیں کوئی

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!

      حیدر آباد ( بابُ الاسلام سندھ پاکستان) کے ایک اسلامی بھائی عبدالرزّاق عطاری جو کہ ٹنڈو جام ایگریکلچرل یونیورسٹی کے لیب انچارج تھے، ان کے دو بچّے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابَستہ تھے مگر وہ خود نَمازوں اور سنّتوں سے دُور تھے اور ذہن مکمَّل طور پر دنیا داروں والا تھا۔ رَمَضانُ المُبارَک میں اِنفرادی کوشِش کرتے ہوئے انہیں اجتِماعی اِعتِکاف میں شرکت کی دعوت پیش کی گئی تو فرمانے لگے، میرے بچّوں کی امّی ناراض ہو کر مَیکے جا بیٹھی ہیں اگر میں اعتِکاف کروں گا توکیا وہ آجائیں گی؟ انہیں بتایا گیا ،  اِنْ شَآءَ اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ    آجائیں گی۔ چُنانچِہ وہ آخِری عشرۂ  رَمَضانُ المُبارَک(غالباً۱۴۱۶ ھ۔1995 ء)  میں فیضانِ مدینہ( حیدر آباد) کے اندر عاشِقانِ رسول کے ساتھ مُعتَکف ہو گئے۔سیکھنے سکھانے کے حلقوں ، سنّتوں بھرے بیانوں ، رقّت انگیز دعاؤں اور پُرسوز نعتوں نے ان کے قلب میں مَدَنی انقِلاب برپا کر دیا! انہوں نے گناہوں سے توبہ کر لی۔ نَمازوں کی پابندی کاعَہد کیا۔ داڑھی مبارَک و عمامہ شریف سے آراستہ ہوگئے اور نعتیں بھی پڑھنے لگے ۔ اِعتِکاف کے دَوران ہی رُوٹھی ہوئی بچّوں کی امّی بھی واپَس آ گئیں اور گھر یلو شکر رنجیاں بھی خَتْم ہو گئیں ۔  اعتِکاف کی بَرَکت سے وہ دعوت ِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابَستہ ہو گئے۔ داڑھی زُلفوں ، عمامہ شریف اور مَدَنی لباس میں نظر آنے لگے ۔ مَدَنی قافِلوں میں سفر بھی کئے ۔ اور مَدَنی ماحول میں رہتے ہوئے اُسی سال یعنی بروز جمعرات ۲۷ ربیع النّور شریف  غالِباً ۴۱۶اھ ۔ 1995ء کو ان کا انتقال ہوگیا۔ اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ    ان کی خوش بختی تو دیکھئے کہ بوقتِ وَفات ان کے لب پر نعت شریف کا یہ مِصرع تھا :  ’’جیسے مِرے سرکار صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہیں ایسا نہیں کوئی‘‘ اللّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔

                             اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

گورِ تِیرہ کو تم جگمگانے چلو، مَدَنی ماحول میں کر لو تم اعتکاف

راحتیں روزِ محشر کی پانے چلو، مَدَنی ماحول میں کر لو تم اعتکاف

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !   صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یہ واقِعہ واقعی اپنے اندر عبرت کے کئی مَدَنی پھول لئے ہوئے ہے ۔ مرحوم عبدالرّزّاق عطاّری  علیہ رحمۃ اللہ  الباری خوش نصیب تھے کہ وفات سے تھوڑے ہی عرصے قَبل مَدَنی ماحَول مُیسَّر آ گیا اور یقیناوہ بندہ مقدّر والاہے جو مرنے سے پہلے پہلے توبہ کرکے راہِ راست پر آ جائے اور سنّتوں کی شاہراہ پر چل پڑے اور بڑا ہی  بدنصیب ہے وہ شخص جو اچّھا بھلا نیکیاں کرنے والا اور سنّتوں کے راستے پر چلنے والا ہوکر مرنے سے تھوڑے ہی عرصہ قبل معاذَاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  ماڈَرن ہو جائے اور گناہوں میں پڑکرمَدَنی ماحول سے دُور جا پڑے۔ جب بھی آپ کوشیطان کسی ذِمّہ دار فرد سے ناراض کروا کر یا یوں ہی سُستی د لا کریا دُنیوی کاروبار میں خوب پھنسا کر یاشادی وغیرہ کا جوش دلاکر مَدَنی ماحول سے دُورہونے کا مشورہ دے تو اِس حدیثِ پاک پر (جو اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  ابھی بیان کی جائیگی) غور فرما لیاکریں کیوں کہ مُشاہَدہ یِہی ہے کہ ایک بار مَدَنی ماحول میں رَچ بَس جانے کے بعد دُور ہونے سے مَعاذَاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  نیک اعمال پر قائم رہنا بَہُت مشکل ہو جاتا ہے۔اُمُّ الْمُؤمِنِین  حضرتِ سَیِّدَتُنا عائِشہ صِدّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے رِوایَت ہے :  جب اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ   کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تواُس کے مرنے سے ایک سال پہلے ایک فِرِشتہ مُقَرّر فرمادیتا ہے جو اُس کو راہِ راست پر لگاتا رہتا ہے حتّٰی کہ وہ خَیر(یعنی بھلائی) پر مَر جاتا ہے اور لوگ کہتے ہیں :  ’’فُلاں شَخص اچّھی حالت پر مَرا ہے۔‘‘ جب ایسا (خوش نصیب اورنیک) شَخص مرنے لگتا ہے تو اُس کی جان نکلنے میں جَلدی کرتی ہے، وہ اُس وَقت  اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ   سے مُلاقات کو پسند کرتا ہے اور اللّٰہعَزَّ وَجَلَّ  اُس کی مُلاقات کو ۔ جب اللّٰہعَزَّ وَجَلَّ  کسی کے ساتھ بُرائی کا ارادہ فرماتا ہے تو مَرنے سے ایک سال قَبل اُس پر ایک شیطان مُسَلَّط کر دیتا ہے جو اُسے بہکاتا رہتا ہے حتّٰی کہ وہ اپنے بدترین وَقت میں مر جاتا ہے ۔ اُس کے پاس جب مَوت آتی ہے تو اُس کی جان اَٹکنے لگتی ہے ( اور یہ شخص )  اللّٰہعَزَّ وَجَلَّ  سے ملنے کو پسند نہیں کرتا اوراللّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ   اُس سے ملنے کو۔

                 ( مُلَخَّصاً شَرحُ الصُّدُورص۲۷مرکز اہلسنت برکات رضاہند)

(فیضانِ سنت، باب فیضان رمضان، ج۱، ص۱۴۹۴)

(78) مجھے گھر والے گھر سے نکال د یتے تھے

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن