30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!
ایک اسلامی بھائی کے بیان کا خُلاصہ ہے کہ کَلیان( مہارا شٹر، الھند) کی میمن مسجد میں تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ، دعوتِ اسلامی کی جانب سے رَمَضانُ المُبارَک
( ۴۲۶ا ھ۔2005ء)میں ہونے والے اجتِماعی اِعتکاف میں ایک نَو مسلم نے (جو کہ کچھ عرصہ قبل ایک مبلِّغِ دعوت اسلامی کے ہاتھوں مسلمان ہوئے تھے)اِعتِکاف کی سعادت حاصل کی۔سنّتوں بھرے بیانات ، کیسیٹ اجتماعات اور سنّتوں بھرے حلقوں نے اُن پر خوب مَدَنی رنگ چڑھایااِعتِکاف کی بَرَکت سے دین کی تبلیغ کے عظیم جذبے کا روشن چراغ ان کے ہاتھوں میں آگیا چُونکہ ان کے گھر کے دیگر اَفراد ابھی تک کُفْر کی اَندھیری وادِیوں میں بھٹک رہے تھے چُنانچِہ اِعتِکاف سے فارِغ ہوتے ہی اُنہوں نے اپنے گھر والوں پر کوشِش شُروع کردی دعوتِ اسلامی کیمُبَلِّغین کو اپنے گھربُلوا کر دعوت ِ اسلام پیش کروائی ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ والِدَین ، دو بہنوں اور ایک بھائی پر مُشتَمِل سارا خاندان مسلمان ہو کر سلسلۂ عالیّہ قادریّہ رضویّہ میں داخِل ہو کر حُضُورِ غوثِ پاک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا مُرید ہو گیا۔
ولولہ دیں کی تبلیغ کا پاؤ گے ، مَدَنی ماحول میں کر لو تم اِعتِکاف،
فضل ِربّ سے زمانے پہ چھا جاؤگے، مَدَنی ماحول میں کر لو تم اِعتِکاف،
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(فیضانِ سنت، باب فیضان رمضان، ج۱، ص۱۴۷۰)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!
سکھر شہر ( بابُ الاسلام سندھ )کے ایک اسلامی بھائی کا کچھ اس طرح بیان ہے : میں پکا دُنیا دار تھا اور مجھ پر ہر وقْت دنیا کا دَھن کمانے کی دُھن سُوار رہتی تھی ، عملی دُنیا سے بَہُت دُور گناہوں کی اندھیری وادیوں میں بھٹک رہا تھا ۔اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ بعض عاشِقانِ رسول کی مجھ پر میٹھی نظر پڑ گئی وہ رَمَضانُ المُبارَک میں بار بار میرے پاس تشریف لاتے اور مجھے اجتِماعی اعتکاف کی دعوت دیتے مگر میں ٹال دیا کرتا۔ وہ بَہُت منجھے ہوئے تھے، گویا مایوس ہونا نہیں جانتے تھے، اُنہوں نے مجھے میرے حال پر چھوڑ نا گوارا نہ کیا، مجھے نیکی کی دعوت دے کر اپنا ثواب کَھرا کرتے رہے! اُن کی پَیہم انفِرادی کوشِش کے نتیجے میں مجھ پاپی و بدکار پکّے دنیا دار کا دل بھی آخِر کار پَسیج ہی گیا اور میں آخِری عَشَرۂ رَمَضانُ الْمُبارَک ( غالِباً ۱۴۱۰ھ ۔1990ء) میں اُن کے ساتھ مُعتَکف ہو گیا۔ مجھ دنیا دار کو کیا معلوم تھا کہ عاشقوں کی دنیا ہی کوئی اور ہوتی ہے!واقعی عاشِقانِ رسول کی صحبت نے مجھ پر رنگ چڑھا دیا، اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ میں نَماز ی بن گیا ، میں نے داڑھی رکھ لی اور عمامہ شریف کا تاج سجا لیا۔تَحدیثِ نعمت کیلئے ایک بات عرض کرتا ہوں : مجھے وہاں یہ مسئلہ بھی سیکھنے کو ملا کہ قِبلہ کی طرف رُخ یا پیٹھ کئے پیشاب وغیرہ کرنا حرام ہے۔ سُوئِ اتِّفاق سے اعتکاف والی مسجِد کے اِستِنجاخانوں کا رُخ غَلَط تھا۔ میں نے رِضائے الہٰی عَزَّ وَجَلَّ کی خاطِرہاتھوں ہاتھ کاریگروں کو بلوا کر اپنی جیب سے اِخراجات پیش کر کے استنجا خانوں کے رُخ دُرُست کروا لئے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّ وَجَلَّ اعتِکاف کے بعد سے اب تک کئی بارعاشِقانِ رسول کے ہمراہ سنّتوں کی تربیّت کے مَدَنی قافِلوں میں سنّتوں بھرے سفر کی سعادتیں مل چکی ہیں ۔
ُحبِّ دنیا سے دل پاک ہو جائیگا ، ، مَدَنی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
جامِ عشقِ نبی ہاتھ میں آئیگا، مَدَنی ماحول میں کر لو تم اعتکاف
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(فیضانِ سنت، باب فیضان رمضان، ج۱، ص۱۴۷۱)
(60) مجھے بھی اپنے جیسا بنا لیجئے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!
راولپنڈی( پنجاب، پاکستان) کے ایک اسلامی بھائی کے بیان کا لبِّ لُباب ہے، میں اُس وقت دسویں کلاس کا اسٹوڈنٹ تھا۔ اپنے مَحلّے کی بِلال مسجد میں رَمَضانُ المبارَک ( ۱۴۲۱ ھ ۔2000ء)کے آخِری عَشَرَہ کا اعتِکاف کیا ۔ وہاں ہم14 15,افرادمُعتَکف تھے غالِباً 28 رَمَضانُ المبارَککو بعدِ نَماز ظہر میرے بچپن کے ایک کلاس فیلو ( جو بے چارے شرافت کی وجہ سے ہماری شرارت کا نشانہ بنا کرتے
تھے) تشریف لائے ۔ اُنہوں نے اپنے سر پر سبز عمامہ شریف سجا یا ہوا تھا۔ سلام دُعا کے بعد اُنہوں نے ہم پر انفِرادی کوشِش کرتے ہوئے پوچھا : آپ میں سے برائے مہربانی کوئی نَماز ِ عید کا طریقہ سنا دے ۔ ہم سب ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے ۔ اس پر اُنہوں نے کہا : اچّھا چلئے نَمازِ جنازہ کا طریقہ ہی بتا دیجئے۔ افسوس! ہم میں سے کوئی بھی نہ بتا سکا۔ پھر اُنہوں نے ہمیں نَماز کی مَشق (practical) کروائی۔ اِس سے ہماری بَہُت ساری غَلَطیاں سامنے آئیں ۔ اس کے بعد نہایت ہی اَحسن انداز میں اُنہوں نے ہمیں نَمازِ عید اور نَمازِ جنازہ کا طریقہ سکھایا ۔ ہمارا دل بَہُت خوش ہوا ۔ سچ پوچھو تو ہمارے لئے حاصِلِ اعتِکاف یہی تھا کہ ہمیں مبلّغِ دعوتِ اسلامی کی بَرَکت سے مختلف نَمازوں کے اَہَمّ احکام سیکھنے کو مل گئے۔عید کی نَماز میں مجھے مسجِد کی چھت پر جگہ ملی۔ جب امام صاحب نے دوسری تکبیر کہی تو میرے علاوہ تقریباً سبھی رُکوع میں چلے گئے! حالانکہ یہ رُکوع کا موقع نہیں تھابلکہ اس میں ہاتھ کانوں تک اُٹھا کر لٹکانے تھے۔ خیر ورنہ میں بھی عوام کے ساتھ رکوع ہی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع