30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور سنّتوں بھرے بیانات کی چندکیسیٹیں نیز چند رسالے وغیرہ تحفے میں دیئے تھے۔ 5 جنوری 2006ء میں سنّتوں کی تربیّت کے عاشِقان رسول کے ایک مَدَنی قافِلے میں مجھے سکرنڈ( باب الاسلام سندھ) کے سفر کی سعادت حاصِل ہوئی۔ وہاں اُسی کافر کلاس فیلوسے ملاقات ہوگئی ۔ اس کا پورا گروپ ساتھ تھا اور یہ کُل 15افراد تھے ۔ میں نے اُس سے کیسیٹوں کے بارے میں دریافت کیا ، اُس نے بتایا کہ یاسین شریف کی تلاوت اور ترجَمہ سُن کر مجھے اتنا سکون ملاکہ اس سے پہلے کبھی زندگی میں نہ ملا تھا۔ اس کے بعد سے ہر رَمضانُ المبارَک میں مسجِد کے باہر بیٹھ کر اسپیکر سے تروایح میں ہونے والی تِلاوت سننے کا معمول ہے۔ نیز میں نے بیانات کی کیسیٹیں سُنیں اور رسائل پڑھے اِس سے میرے دل پر بڑا گہرا اثر ہوا ۔ مُبلّغ کا کہنا ہے میں نے اُس کو اسلام کی دعوت پیش کی، وہ اسلام سے مُتأَثِّرہو چکا تھا مگر مسلمان ہونے کیلئے تیّار نہیں تھا۔میں بَہُت دیر تک اُس پر اور اُس کے دوستوں پر انفِرادی کوشِش کرتا رہا ، آخِر کار کامیابی ہو ہی گئی۔اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ ہاتھوں ہاتھ 9 کُفّار مشرَّف بہ اسلام ہو گئے اور باقیوں نے کہا ہم غور کریں گے۔
آؤ علَمائے دیں ، بہرِ تبلیغِ دیں مل کے سارے چلیں قافِلے میں چلو
دور تاریکیاں کُفر کی ہوں میاں آ ؤ کوشِش کریں قافِلے میں چلو
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی علیٰ محمَّد
(فیضانِ سنّت، باب آدابِ طعام، ج۱، ص۵۲۶)
(42) سنّتوں بھرے بیانات کی برکات
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!
پاکستان کے ایک اسلامی بھائی کے حلفیہ بیان کا لُبِّ لُباب ہے : میں 1987 تا 1990 تک ایک سیاسی پارٹی سے وابَستہ رہا۔ آئے دن کے فسادات سے بیزار ہو کر گھر والوں نے مجھے بیرونِ پاکستان بھیجنے کی ٹھانی۔ چُنانچِہ 3.11.90 کو میں سلطنت عُمان کے دارالامارات مَسقَط کی ایک گارمنِٹ فیکٹری میں ملازِم ہو گیا۔ 1992 میں دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابَستہ ایک اسلامی بھائی کام کے سلسلے میں ہماری فیکٹری میں بھرتی ہوئے۔ ان کی انفِرادی کوشِش سے اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ میں نَمازی بنا۔ فیکٹری کا ماحول بَہُت ہی خراب تھا، صرف ہمارے شُعبے ہی کو لے لیجئے اُس میں آٹھ یا نو ٹیپ ریکارڈر تھے جن کے ذَرِیعے مختلف زَبانوں ، مَثَلاً اردو، پنجابی، پشتو، ہندی اور بنگالی وغیرہ میں اونچی آواز کے ساتھ گانے چلانے کا سلسلہ رَہتا۔ دعوتِ اسلامی والے عاشقِ رسول کی صُحبت کی بَرَکت سے اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ میں گانے باجوں سے مُتنَفِّر ہو گیا۔ باہَمی مشورہ سے ہم دونوں نے مکتبۃُ المدینہ سے جاری ہونے والی سنّتوں بھرے بیانات کی کیسیٹیں چلانی شروع کر دیں ۔ ابتِدائً بعض لوگوں نے ہماری مخالَفت بھی کی مگر ہم نے ہمّت نہیں ہاری۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ سنّتوں بھرے بیانات چلانے کی بَرَکات کا خود مجھ پر بھی ظُہُور ہونے لگا۔ بالخصوص ، قبر کی پہلی رات، نَیرنگیٔ دنیا، بد نصیب دولہا، قبر کی پکار اور تین قبریں نامی بیانات نے مجھے ہِلا کر رکھ دیا، ( یہ تمام بیانات اپنے اپنے ملک کے مکتبۃُ المدینہکے بستے سے ھدِیۃً طلب کئے جا سکتے ہیں ) آخِرت کی تیاّری کیمَدَنی سوچ ملی اور میرا دل گناہوں سے نفرت کرنے لگا۔ اِس دَوران چند اور افراد بھی سنّتوں بھرے بیانات سے مُتأَثِّر ہو کر قریب آ گئے۔
جنہوں نے ہمارے دلوں میں مَدَنی انقِلاب برپا کیا تھاوہ عاشِقِ رسول ملازَمت چھوڑ کر پاکستان لوٹ گئے۔ ہم نے پاکستان سے سنّتوں بھرے بیانات کی 90 کیسیٹیں منگوا لیں ۔ پہلے ہماری فیکٹری میں صِرف 50یا 60نَمازی تھے بیانات سُن سُن کر نَمازِیوں کی تعداد بڑھتے بڑھتے اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ 200سے 250 ہو گئی۔ ہم نے مل کر 400 واٹ کا قیمتی اسپیکر خرید کراپنی منزِل کی دیوار پرنَصب کر لیااور دھوم دھام سیکیسیٹیں چلانے لگے روزانہ صبح 7تا8بجے تِلاوتِ کلامِ پاک کی کیسیٹ ، 8تا9 نعت شریف اور 9 تا 10 سنتّوں بھرے بیان کی کیسیٹ چلانے کا معمول بنا لیا۔ رفتہ رفتہ ہمارے پاس 500 کیسیٹیں جمع ہو گئیں ۔ مجھ سمیت پانچ اسلامی بھائیوں نے اپنے آپ کو دعوتِ اسلامی کے مَدَنی رنگ میں رنگ لیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّ وَجَلَّ مسجد درس کا آغاز ہو گیا۔پھر رفتہ رفتہ ہماری فیکٹری میں ہفتہ وار سنّتوں بھرا اجتماع شروع ہو گیا ، اجتماع میں کم و بیش 250 اسلامی بھائی شرکت کرتے تھے، مدرَسۃُ المدینہ ( برائے بالِغان) بھی قائم ہو گیا۔ سنّتوں کی بہاریں آ نے لگیں ، مُتَعَدَّد اسلامی بھائیوں نے اپنے چِہرے پر مَدَنی آقاصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کیمَحَبَّتکی نشانی مبارک داڑھی سجا لی۔ 20 سے 25اسلامی بھائیوں کے سروں پر عمامے کے تاج جگمگانے لگے۔ ہماری فیکٹری کے مینیجر ابتِداءًکیسیٹیں چلانے وغیرہ سے منع کرتے رہے مگر بیانات کی کیسیٹوں کی آواز ان کے کانوں میں بھی رس گھولتی رہی اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّ وَجَلَّ بِالآخِر وہ بھی مُتأَثِّر ہو ہی گئے نہ صِرف مُتأَثِّر ہو ئے بلکہ نَماز ی بھی بن گئے اور ایک مُٹّھی داڑھی بھی سجا لی۔
اسلامی بھائی کا مزید بیان ہے، اب میں واپَس پاکستان آ چکا ہوں اوریہ واقِعہ بیان کرتے وقت بابُ المدینہ کراچی کے ایک ڈویثرن کی مُشاوَرت کے خادِم( نگران) کی حیثیت سے سنّتوں کی خدمت کا ساعی ہوں ۔ چُونکہ مکتبۃُ المدینہسے جاری ہونے والے سنّتوں بھرے بیانات کی کیسیٹوں نے میری تقدیر میں مَدَنی انقِلاب برپا کیا ہے لہٰذا میری خواہِش ہے کہ ہر اسلامی بھائی اور اسلامی بہن روزانہ کم از کم ایک سنّتوں بھرے بیان کی یا مَدَنی مذاکرہ کی کیسیٹ سننے کا معمول بنا لے، اِنْ شَآءَ اللّٰہعَزَّ وَجَلَّ وہ برکتیں ملیں گی کہ دونوں جہاں میں بیڑا پار ہو جائیگا ۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(فیضانِ سنت، باب فیضان رمضان، ج۱، ص۹۱۲)
(43) میں عید کی نماز بھی نہیں پڑھتا تھا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع