30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مَعاذاللّٰہعَزَّ وَجَلَّ آج مسلمان کے جینے کاانداز بے حدخراب ہوتا جارہا ہے۔ ا فسوس صد کروڑ افسوس! اکثر مسلمانوں کے لباس کی تَراش خَراش، سر اور چہرے کا اندازو غیرہ سب کافِروں کی سڑی ہوئی تہذیب کا عکّاس ہے۔
شیطان کے اس وَسوَسے میں نہیں آنا چاہئے کہ ہم اگر داڑھی اور عمامہ شریف میں رہیں گے تو لوگ ہم سے دُور بھاگیں گے۔ ہرگز ایسا نہیں ، لوگ مَدَنی حُلیوں سے نہیں بُری حَرَکتوں ، چَرب زَبانیوں اور بد اَخلاقیوں سے دُور بھاگتے ہیں ۔ آپ بَصَد اِخلاص سنّتوں کی چلتی پھرتی تصویر بن جایئے، اپنے اَخلاق سنوار لیجئے، زَبان کو قابو میں رکھنے کی مشق کیجئے، میٹھے بول بولئے پھر دیکھئے کس طرح لوگوں کے دل آپ کی طرف مائل ہوتے ہیں ! ابھی آپ نے عاشِقانِ رسول کے بارے میں سنا کہ کس طرح سنّتوں بھرے حُلیوں اور مسکراتے پھول برساتے میٹھے میٹھے بولوں نے شیطان کے پجاری کو مَدَنی مصطَفٰے صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا بھکاری بنا دیا!داڑھی شریف اور سبز سبز عمامہ شریف سے جگماتے، پھول برساتے عاشِقان رسول کے مَدَنی حُلیوں اور ’’اللّٰہ اللّٰہ اللّٰہ اللّٰہ ‘‘ کی پُر کیف صداؤں کی بَرَکتوں سے مالا مال ایک اور باکمال حکایت سنئے اور جھومئے۔ چُنانچِہ
(15) نورانی چہرے دیکھ کر مسلمان ہو گیا
۱۴۲۵ھ( جنوری 2005ء) میں دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے نگران اور مجلسِ بینَ الاقوامی اُمُور کے بعض اراکین وغیرہ کا مَدَنی قافِلہ بابُ المدینہ( کراچی پاکستان) سے سفر کر کے ساؤتھ افریقہ پہنچا، اِسی دوران دعوتِ اسلامی کا مَدَنی مرکز فیضانِ مدینہ بنانے کیلئے جگہ دیکھنے کے لئے یہ قافِلہ ایک مقام پرپہنچا ، وہاں پہلے سے موجود اسلامی بھائیوں نے مَدَنی قافِلے کا پُر تپاک طریقے پر خیر
مقدم کیا۔ اُس جگہ کامالِک جو کہ عیسائی تھا ، با عمامہ و بارِیش چمکدار و نور بار چہرے والے عاشِقانِ رسول کے جلووں اور اللّٰہ اللّٰہ کے پُر کیف نغموں میں مست ہوگیا، بے قرار ہو کر آگے بڑھا اور نگرانِ شوریٰ سے کہنے لگا، ’’ مجھے مسلمان کر لیجئے۔‘‘ اُسے فوراً نصرانی مذہب سے توبہ کروا کر کلمہ شریف پڑھا کر مسلمان کر لیا گیا، اسلامی بھائیوں کی خوشی کی انتہاء نہ رہی، اللّٰہ اللّٰہ کی زور دار صداؤں سے فَضا کا سینہ دَہَل اُٹھا۔
تو داڑھی بڑھا لے عمامہ سجا لے ہے اچّھا، نہیں ہے بُرا مَدَنی ماحول
یقینا مقدّر کا وہ ہے سکندر جِسے خیر سے مل گیا مَدَنی ماحول
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی علیٰ محمَّد
(فیضان سنّت، باب آدابِ طعام، ج ۱، ص۴۰۹)
(16) سفرِ مدینہ کی سعادت مل گئی!
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!
دعوتِ اسلامی کی تنظیمی ترکیب کے مطابِق ترتیب دی ہوئی ضلع شیخوپورہ کی ایک تحصیل کے مَدَنی انعامات کے ذِمّہ دارنے مجھے( سگِ مدینہ عُفِیَ عَنْہُ کو) جو کچھ لکھا اُس کا خلاصہ ہے، اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّ وَجَلَّ ۱۴۲۴ ھ میں مجھے عُمرہ شریف اور مدینۂ منوَّرہ زادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً کی حاضِری کا شَرَف ملا، وہاں قُصُور( پنجاب ، پاکستان) کے ایک قاری صاحِب سے ملاقات ہوئی ، اُنہوں نے بتایا کہ میں اِسی شَعبانُ المُعظَّم ۱۴۲۴ ھ میں صَحرائے مدینہ مدینۃ الاولیاء ملتان کے اندر ہونے والے دعوتِ اسلامی کے تین روزہ بینَ الاقوامی سنَّتوں بھرے اِجتِماع میں شریک ہوا، وہاں دورانِ بیان مَدَنی قافِلوں میں سفر کی ترغیب دلاتے ہوئے کہا گیا، ’’ مَدَنی قافِلوں میں سفر کر کے دعائیں کیجئے، آپ کی جو بھی خواہش ہوگی اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ پوری ہو گی۔‘‘ یہ سُن کر مجھے جذبہ ملا اور میں نے ہاتھوں ہاتھعاشِقانِ رسول کے ساتھ تین دن کی تربیّت کے مَدَنی قافِلے میں سفر کی سعادت حاصِل کی اور وہاں خوب رو رو کر مدینۂ منوّرہ زادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً کی حاضِری کیلئے دُعاء مانگی ۔
دُعاء کی قَبولیَّت کے آثاریوں ظاہِر ہوئے کہ میں جب مَدَنی قافِلے سے سفر سے لوٹا اور حسبِ معمول بچّوں کو قراٰنِ پاک پڑھانے کیلئے کسی کے گھر پہنچا۔ تو صاحِبِ خانہ نے کافی مہربانی سے پیش آتے ہوئے کہا ، قاری صاحِب ! ماشا ئَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ آپ ہمارے بچّوں کو قراٰنِ پاک کی تعلیم دیتے ہیں ، اگر آپ کی کوئی خواہش ہو تو بتا دیجئے ہم آپ کو خوش کرنا چاہتے ہیں ۔ ابتِداء ً میں نے ٹالَمْ ٹَول سے کام لیا مگر اُن کے اِصرار پر کہد یا کہ دیدارِ مدینہ کی آرزو ہے۔ اُنہوں نے مجھے فوری طور پر اَخراجات پیش کر دیئے اور یوں اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ َّہاتھوں ہاتھ مَدَنی قافِلے میں سفر کر کے دُعا کرنے کی بَرَکت سے مجھ جیسے گنہگار اور غریب آدمی کو ہاتھوں ہاتھ مدینۂ منوّرہ زادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً کی حاضِری کا شَرَف نصیب ہو گیا۔
مجھ گنہگار سا انسان مدینے میں رہے کے سرکار کا مہمان مدینے میں رہے
یاد آتی ہے مجھے اہلِ مدینہ کی وہ بات بن زِندہ رہنا ہے تو انسان مدینے میں رہے
جان ودل چھوڑ کر یہ کہہ کے چلا ہوں اعظمؔ
آ رہا ہوں مرا سامان مدینے میں رہے
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی علیٰ محمَّد
(فیضان سنّت، باب آدابِ طعام، ج ۱، ص۴۶۳)
(17) ھَیپاٹائٹِس C سے نجات
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع