30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دعوتِ اِسلامی کے سالانہ اجتماع کی ابتدا کیسے ہوئی؟
سُوال:دعوتِ اِسلامی کا سالانہ اجتماع ہوا کرتا تھا اس کا سب سے پہلے خیال کس کو آیا؟
جواب:جب کام شروع ہوا تو نئے نئے اسلامی بھائی ہمارے ساتھ شامل ہوئے اور پُرانے اسلامی بھائی مزید فعال ہوگئے تو ہماری سوچ بنی کے سالانہ اجتماع بھی ہونا چاہیے! یوں دعوتِ اِسلامی کے سالانہ اجتماع کا آغاز ہوا اور سب سے پہلا سالانہ اجتماع ککڑی گراؤنڈ (اولڈ کراچی کے ایک علاقے میں موجود میدان)میں ہوا۔(1) جب تک اللہ پاک نے چاہا یہ سلسلہ جاری رہا، البتہ مقامات تبدیل ہوتے رہے مثلاً پہلے ککڑی گراؤنڈ میں ہوا پھر کراچی کے علاقے کورنگی میں منتقل ہوگیا اور پھر پاکستان کے شہر ملتان شریف میں منتقل کردیا گیا یوں وہ ہمارے سالانہ اجتماع کا مرکز قرار پایا۔
سالانہ اجتماع کراچی سے پنجاب کے شہر ملتان منتقل کرنے کی وجہ یہ تھی کہ اس اجتماع میں دنیا بھر سے عاشقانِ رسول تشریف لاتے تھے نیز پاکستان کے دور دراز علاقوں سے کثیر تعداد شرکت کے لیے حاضر ہوتی تھی اور ملتان شریف پاکستان کے تقریباً درمیان میں ہے یوں اجتماع میں شرکت کے لیے آنے والوں کو ملتان تک آنے میں سہولت تھی۔
دعوتِ اِسلامی کے مَدَنی قافلوں کی اِبتدا کیسے ہوئی؟
سُوال: دعوتِ اِسلامى کى ترقى مىں مَدَنى قافلوں کا اہم کردار ہے، یہ سلسلہ کب شروع ہوا؟
جواب:آج کل جو مَدَنی قافلے سفر کرتے ہیں ان کا سلسلہ تو چند سال پہلے شروع ہواہے، اس سے پہلے ایک سلسلہ تھا جس کو ہم ”وفد“ بولتے تھے۔ ایک بار مجھے کسی نے کہا : ”ہم آپ کو حىدر آباد کا دورہ کروائىں گے“ چونکہ اخبارات میں آتا تھا کہ فلاں نے فلاں ملک کا دورہ کیا، تو میں سوچنے لگا کہ دورہ اور میں! (یعنی میرے ذہن میں تھا کہ دورہ کرنا بہت بڑی بات ہے) پھر وہ وقت بھی آیا کہ ہم نے حیدر آباد کا دورہ بھی کیا۔ بہرحال ہم نے وفد کی صورت میں پاکستان کے مختلف شہروں کے دورے کیے اور یہ سلسلہ کراچی سے چلتے چلتے سندھ، پنجاب، بلوچستان اور خیبرپختون خواہ تک پہنچایوں اس وفد نے پاکستان کے تمام صوبوں کا دورہ کیا۔ ہمارے وفد نے سب سے پہلے کھوسکی ضلع بدىن (سندھ)کا دورہ کیا وہاں ہمارا بہت بڑا وفد پہنچا تھا۔ یہ سلسلہ جاری رہا پھر ہم نے باقاعدہ چار چار دن کے قافلوں کا سلسلہ شروع کردیا مگر یہ سلسلہ تھوڑے عرصے ہی چل سکا اور کامیاب نہ ہوا، ہم نے اس قافلے کو تىن دن کا کردىا اس میں آسانی ہوئی اور یہ حکمتِ عملی کامیاب رہی، لوگوں کی تعداد کے ساتھ ساتھ مَدَنی کام میں بھی اضافہ ہوگیا۔
چونکہ مَدَنی قافلے میں قربانى دىنا پڑتى ہے تو بعض لوگ وقت ہونے کے باوُجود محض سستی کی وجہ سے سفر نہیں کرتے کہ گھر مىں جو سکون ہے وہ سفر میں کہاں ہوگا! پھر رات دن مسجد میں گزارنا پڑیں گے، بجلى کے مسائل الگ ہوں گے، گھر میں AC کے بغىر نىند نہىں آتى مسجد میں تو پنکھا بھى ستا رہا ہوتا ہے، اگر کسی گاؤں یا دىہات میں قافلہ چلا گیا تو آزمائش مزید بڑھ جائے گی کہ وہاں پر تو پنکھے بھی صحیح نہیں ہوتے گرمی الگ ہوتی ہے اور مچھر بھی قدم بوسی کے لیے حاضر ہوجاتے ہیں! جو لوگ خود کو دعوتِ اِسلامی والا کہتے ہیں ان کی بھی بڑی تعداد ہے جو مَدَنى قافلے مىں سفر نہىں کرتی ۔ عام طور پر مَدَنى قافلے مىں غریب لوگ ہی سفر کررہے ہوتے ہیں، حالانکہ آسائشوں کے عادی لوگوں کو بھی سفر کرنا چاہیے کہ ان کے لیے زیادہ آزمائش ہوگی تو ثواب بھی زیادہ ملے گا۔ یادرکھیے!مَدَنی قافلے بہت اہمیت کے حامل ہیں ان ہی کی وجہ سے دعوتِ اسلامی کا دنیا بھر میں تعارُف ہوا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ مَدَنى چىنل کى وجہ سے دعوتِ اِسلامى نے ترقى کى ہے، اَلْحَمْدُ لِلّٰہ دعوتِ اِسلامی مَدَنى چىنل سے بہت پہلے دنىا مىں قبولىت حاصل کرچکی تھى اور دنىا کے کئى ممالک مىں دعوتِ اسلامی کا کام ہورہا تھا پھر ہمیں مَدَنى چىنل بھى نصىب ہوگىا، گویادعوتِ اسلامى مَدَنى چىنل سے نہىں ملى بلکہ دعوتِ اسلامى سے مَدَنى چىنل ملا ہے۔
دعوتِ اِسلامی میں لفظ ”مدینہ “ اور ”فیضان“ کیسے رائج ہوا؟
سُوال:دعوتِ اِسلامی کے مَدَنی ماحول میں دو لفظ بہت زیادہ رائج ہیں ایک لفظ ”مدینہ“ اور دوسرا لفظ ”فیضان“ یہ اِرشاد فرمائیے کہ یہ دونوں لفظ دعوتِ اِسلامی کے مَدَنی ماحول میں کیسے رائج ہوئے نیز ان کی اتنی زیادہ اہمیت کی کیا وجہ ہے؟
جواب:مدىنہ تو سنىوں کى گھٹى مىں ہے! ذِکرِ مدىنہ ہمارى رُوح کى غِذا ہے، مدىنہ نہ دىکھا تو کچھ بھى نہ دىکھا۔ مدینے کا تذکرہ دعوتِ اِسلامی سے پہلے بھی ہوتا تھا اور اِنْ شَآءَ اللّٰہ قیامت تک ہوتا رہے گا، البتہ لفظ ”فىضان“ دعوتِ اِسلامی میں مُتعارف ہوا ہے۔ ”فیضان“ فیض سے بنا ہے اور ”فیض“ عام لفظ ہے۔ ہم نے دعوتِ اِسلامى کے کراچی میں بننے والے سب سے پہلے عالَمى مَدَنى مرکز کا نام ”فیضانِ مدینہ“ رکھا، پھر مسجد میں درس کے لیے کتاب مُرَتَّب کرنے کی سعادت حاصل ہوئی تو اس کا نام ”فىضانِ سُنَّت“ رکھا۔
اعلیٰ حضرت اِمام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کا نعرہ لگتا تھا”فىضِ رضا“ یہ درست نعرہ تھا لیکن جب سنیوں کی تحریک دعوتِ اِسلامی بنی تو اس کے مَدَنی ماحول میں یہ نعرہ یوں لگایا جانے لگا”فیضانِ رضا“ بلکہ صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُم ، اہلِ بیتِ اَطہار رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُم اور اولیائے کرام کے لیے بھی یہ نعرہ عام ہوگیا اور یوں کہا جانے لگا: ”فیضانِ صحابہ و اہِل بیت“ ، ”فیضانِ اولیا“ىوں لفظ ”فىضان“ متعارَف ہوگیا، اب یہ لفظ دعوتِ اسلامی کی نسبت سے اتنا مشہور ہوچکا ہے کہ دعوتِ اسلامی کی مجلس خُدَّامُ الْمَساجد کے تحت جو مساجد بنتى ہىں عام طور پر ان کى پہچان ىہى لفظ ہوتا ہے یعنی مسجد کے نام کے شروع میں لفظ ”فىضان “ لگا ہوا ہوتا ہے۔کسی مسجد کانام ”فیضانِ امام حسین“ ہو تو دیکھنے والا سمجھ جائے گا کہ یہ مسجد دعوتِ اِسلامی والوں کی ہے یا اس کی تعمیر میں کہیں نہ کہیں دعوتِ اِسلامی ضرور شریک ہے اور جب ایسا ہے تو یہ بات بھی بخوبی معلوم ہوجائے گی کہ ىہ مسجد صحابہ کرام اور اہلِ بىت عظام رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُم کے ماننے والوں کى ہے۔
پہلے آپ ٹی وی پر نہیں آتے تھے اب کیوں آتے ہیں؟
سُوال: دعوتِ اِسلامی پہلے کئی کام نہیں کرتی تھی مگر وہ کام آہستہ آہستہ شروع کیے جارہے ہیں جیسے مووی بنوانا ،ٹی وی پر آنا اور دعوتِ اِسلامی ویلفیئر کا کام وغیرہ تو آپ کو نہیں لگتا کہ ضرورت پڑنے پر دعوتِ اِسلامی سیاست میں بھی شامل ہوجائے گی یا کم اَز کم کسی سیاسی جماعت کی حمایت کا اِعلان ہی کردیا جائے گا؟
جواب: ٹى وى اور مووى کا واقعى مىرا ذہن نہىں تھا پھر مىں نے علمائے کِرام کے فتاوىٰ وغىرہ دىکھے بعض علمائے کِرام ابھی بھی مووی کو جائز نہیں سمجھتے ان حضرات کا دلائل کی بنیاد پر اپنا مؤقف ہے، البتہ علمائے کرام کی اکثریت نے دلائل کی بنیاد پر مووی دیکھنے اور بنانے کو جائز قرار دیا ہے، ہم ان حضرات کی بات پر عمل کررہے ہیں۔ہاں ڈیجیٹل فوٹو اور کیمرے کے فوٹو میں فرق ہے ۔ بہرحال ہم مَدَنی چینل کے ذریعے جو کام کر رہے ہیں وہ سب کے سامنے ہے اس کی برکت سے کئی لوگ دین کے قریب ہوئے،غیر مسلم مسلمان ہوئے، بے نمازی نماز بن گئے یوں دین کا بہت فائدہ ہوا۔
عوام کی اکثریت غیر سیاسی ہے!
رہی (موجودہ)سیاست تو وہ میں اپنی 70 سال سے زائد زندگی میں دیکھتا رہا ہوں، شروع کی سیاست بھی ایسی ہی تھی جیسی آج ہے لیکن موجودہ سیاست میں خرابیاں زیادہ ہیں، پہلے لاٹھىاں چلتى تھىں پھر پتھرمارتے تھے پھر گولىاں مارنا شروع ہوئے اور اب بم دھماکے کیے جاتے ہیں! موجودہ سیاست بہت خطرناک ہوچکی ہے یہی وجہ ہے کہ ملک کی اکثریت غیر سیاسی ہے اس کا اندازہ ووٹوں سے لگالیجیے کہ کتنے لوگ ہیں جو اپنا ووٹ کاسٹ کرنے کے لیے آتے ہیں؟ اَوَّل تو ایک تعداد کے ووٹ ہی نہیں ملتے کہ وہ ہیں بھی یا نہیں؟پھر جن کے ووٹ ہوتے بھی ہیں تو ان میں سے کتنے لوگ اپنا ووٹ کاسٹ کرنے کے لیے آتے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ لوگ اپنا ووٹ ہی کاسٹ نہیں کرتے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ملک کی اکثریت غیر سیاسی ہے۔
کیا دعوتِ اسلامی کبھی سیاست میں آسکتی ہے؟
اگر سىاست مىں پاکىزگى کى کوئی لہر آگئى اور خلفائے راشدىن کے دور کی سىاست شروع ہوئی تو اِنْ شَآءَ اللّٰہ سب سے پہلا سىاستدان ”الىاس قادرى“ ہوگا۔ یاد رکھیے! سیاست فِىْ نَفْسِہٖ بُرى چىز نہىں ہے، لىکن موجودہ سیاست میں بہت سارے گناہ شامل ہوچکے ہیں اور بغىر گناہ کے سىاست کرنا مشکل ہوگیا ہے، لہٰذا دعوتِ اِسلامى (موجودہ) سیاست میں شامل نہىں ہو سکتی۔ مىں نے برسوں پہلے مرکزى مجلس شورىٰ کو لکھ کر دے دىا ہے کہ ”تمہىں دعوتِ اسلامى کو توڑنا یا ختم کرنا ہو تو اس کے لیے اعلان مت کرنا کہ ہم دعوتِ اسلامى ختم کرتے ہىں بلکہ ىہ اعلان کردینا کہ ہم (موجودہ) سىاست مىں آتے ہىں! دعوتِ اسلامی خود ہى ختم ہوجائے گی۔“ مىرے جىتے جى اچھى سىاست کى کوئى فضا بن جائے اس کی اُمید کم ہے، اب لگتا یہی ہے کہ اچھى سىاست حضرتِ سَیِّدُنا اِمام مہدى رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کے دور مىں ہی آئے گی کہ وہ خلیفۂ راشد ہیں۔(2) بہرحال دعوتِ اِسلامی کی یہی پالیسی ہے کہ وہ کبھی بھی (موجودہ) سیاست میں نہیں آئےگی۔
کیا یومِ دعوتِ اِسلامی پر کیک کاٹ سکتے ہیں؟
سُوال:کىا ہم ىومِ دعوتِ اِسلامى کى خوشى مىں کىک کاٹ سکتے ہىں؟
جواب: میں کىک کاٹنے سے منع کرتا ہوں کہ کىک کورَواج نہ دىا جائے۔ بعض لوگ جشنِ ولادتِ مُصطَفٰے کے موقع پر کیک کاٹتے ہیں اور کیک پر لکھا ہوتا ہے ” عىد مىلادُ النبى“ کبھی نعلِ پاک بنا ہوتا ہے یا اس طرح کے مقدس الفاظ لکھے ہوتے ہیں اور یہ لوگ چھرى ہاتھ مىں پکڑ کر اسے کاٹتے ہیں! اس کو کون عقل مند ادب کہے گا؟ اس کے علاوہ اگر کسی کی ولادت کا دن ہوتا ہوگا تو وہ بھی کیک کاٹنے کا اہتمام کرتا ہوگا، خوب تالیاں بجتی ہوں گی، میوزک چلتا ہوگا،عورتوں، مردوں کا مخلوط نظام ہوتاہوگا اس کے ساتھ ساتھ غبارے بھی پھوڑے جاتے ہوں گے ظاہر ہے غبارے مفت تو نہیں آتے پیسوں کے غبارے لاکر انہیں پھوڑ دیا جاتا ہے اور یوں پیسے ضائع ہوجاتے ہیں۔ اسی لیے میں مشورہ دیتا ہوں کہ کیک کاٹنے کی ضرورت ہی نہیں ہے تاکہ کیک کے ذرات ضائع ہونے سے بچیں اور ایسی حرکات نہ ہوسکیں۔
یومِ وِلادت کیسے منایا جائے؟
سالگرہ بھلے منائىں لیکن منانے کا طریقہ دُرُست اِختیار کریں مثلاً تلاوتِ قرآن پاک ہو ، نعت شرىف پڑھی جائے، دعائے خىر کى جائے، اگر کھانا کھلانا ہے تو لنگر کِھلادىا جائے، غوثِ پاک رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ یا خواجہ غرىب نواز رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کى نىاز کھلا دى جائے۔ اگر نىاز کى نىت نہ بھى کریں تو کوئی حرج نہیں کہ مسلمانوں کو کھانا کھلانا بھی ثواب کا کام ہے اگر اچھى نىت ہوگی تو ثواب ملے گا۔ اس کے برعکس غبارے پھوڑنا یا کیک کاٹنا نہ تو بچے کى عمر لمبى ہونے کى کوئى علامت ہےاور نہ ہی اس سے بچہ نىک بنے گا۔ یادرہے! میں نے کىک کاٹنے یا کھانے کو ناجائز نہىں کہا، کىک کاٹنا اور کھانا حلال ہے ۔
امیر ِاہلِ سُنَّت بچوں کا یوم ِوِلادت کیسے مناتے ہیں؟
ہم بچوں کے یومِ ولادت پر تلاوتِ قرآنِ پاک اور نعت خوانی کا اہتمام کرتے ہیں، سارے دعوتِ اِسلامی والے بھی ایسا کرتے ہوں ضروری نہیں، جو مجھ سے محبت کرتے ہیں وہ یوم ولادت ایسے ہی مناتے ہوں گے جیسے میں مناتا ہوں۔ لىکن دعوتِ اسلامى والے کئی اسلامی بھائی ایسے ہوتے ہیں جن کی گھر میں نہیں چلتى ان کو مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے،باہر تو بندہ کیسے بھی رہے لیکن گھر مىں کسى اور کى چل رہی ہوتی ہے جب ایسا ہوگا تو ظاہر ہے کىک بھى کٹیں گے غبارے بھى پھوٹیں گے۔اگر گھر کی اسلامى بہن کا ذہن بن جائے تو اِنْ شَآءَ اللّٰہ ان سب پر روک لگائی جاسکتی ہے۔
دعوتِ اِسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کیوں بنائی گئی؟
سُوال :آپ کو ”مرکزی مجلسِ شوریٰ “ بنانے کا خیال کب اور کیسے آیا؟
جواب:پہلے کافی عرصے تک دعوتِ اسلامی کا کام بغیر مرکزی شوریٰ کے ہی چلتا رہا، اسلامی بھائی مِل جُل کر کام کرتے تھے، جب اِسلامی بھائیوں کی عمریں زیادہ ہونے لگیں اور کام خوب پھیلنا شروع ہوگیا تو خیال آیا ہمارے بعد دعوتِ اِسلامی کا کیا ہوگا؟ جس تحریک میں One men show (ایک شخص) کی پالیسی ہوتی ہے اس کے ڈوبنے کا پورا اندیشہ ہوتا ہے، لہٰذا شوریٰ کا قیام ضروری ہوگیا اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہ مرکزى مجلسِ شُورىٰ بن گئى۔ (3)
دعوتِ اِسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے 26 اراکین ہیں جن کے پاس ملک و بیرونِ ملک کی مختلف ذمہ داریاں ہیں۔ نیز اراکینِ شوریٰ میں اِضافے کی گنجائش بھی موجود ہے کیونکہ یہ حضرات بھی بوڑھے ہورہے ہیں اور بڑھاپے میں امراض بھی لاحق ہوجاتے ہیں، پھر زندگی و موت کا تو کسی کو نہیں پتا اگرچہ جوان کے بارے میں بھی نہیں کہا جاسکتا کہ یہ کب تک زندہ رہے گا؟ لیکن بوڑھے کی موت کا زیادہ خطرہ رہتا ہے، نیز بڑھاپے میں اىسے امراض آجاتے ہىں کہ دماغ پہلے جیسا کام نہىں کرتا، اعضاء بھی جواب دے جاتے ہىں اور زیادہ بھاگ دوڑ نہیں ہو پاتى۔ بہرحال شوریٰ میں اضافے کی گنجائش موجود ہے اِنْ شَآءَ اللّٰہ اس میں اضافہ ہی ہوگا۔
مَدَنی مذاکرے کا سلسلہ کب شروع ہوا؟
سُوال:مَدَنى مذاکرے کا آغاز کب سے ہوا اور آپ کے ذہن مىں سُوالات کے جوابات دىنے کا خیال کیسے آیا؟ (حاجی حسان عطاری کا سُوال)
جواب:مجھے شروع سے ہی شرعی مسائل مىں دلچسپى تھی اسی شوق کی وجہ سے میرامفتیِ اعظم پاکستان مفتى وقارُ الدىن قادری صاحب رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے پاس آنا جانا لگا رہتا تھا، میں دعوتِ اسلامی بننے سے پہلے بہارِ شرىعت کا درس بھی دىتا تھا اور لوگ جو سُوالات کرتے تھے ان کے جوابات دیتا تھا۔ یوں یہ سلسلہ دعوتِ اسلامی بننے سے پہلے کا چلا آرہا ہے پھر جب دعوتِ اِسلامى بنی اس مىں بھى ىہ سلسلہ چلتا رہا، البتہ پہلے اس کا کوئی نام نہیں تھا ”مَدَنی مذاکرہ “ نام بہت بعد میں دیا گیا ہے۔ اللہ پاک اس کو قبول فرمائے اور مجھے غلطیوں سے محفوظ رکھے، میری حتَّی الامکان کوشش ہوتی ہے کہ میں یہ سلسلہ علمائے کرام کی موجودگى مىں کروں تاکہ غلطى ہوجائے تو ان سے اصلاح کروائی جاسکے۔
مدرسۃُ المدینہ اور جامعۃ ُالمدینہ کیسے وُجود میں آئے؟
سُوال: چونکہ دعوتِ اِسلامی نیکی کی دعوت عام کرنے کے لیے بنائی جانے والی تحریک ہے تو یہ اِرشاد فرمائیے جب دعوتِ اِسلامى وُجود میں آئی کىا اُس وقت آپ کے ذہن مىں تھا کہ دعوتِ اسلامى مدارس اور جامعات بھى قائم کرے گى؟
جواب:جب دعوتِ اِسلامی وُجود میں آئی تو اُس وقت مدارس اور جامعات کا تصور تک نہىں تھا، لیکن جب کام بڑھا اور اسلامی بھائی جمع ہونا شروع ہوئے تو ہم نے سوچا نئے آنے والے اسلامی بھائیوں کو قرآن پاک کی تعلیم بھی دینی چاہیے کیونکہ یہ مناسب نہیں ہے کہ اسلامی بھائی صرف داڑھی اور عمامہ سجائیں اور انہیں قرآنِ پاک پڑھنا نہ آتا ہو! حالانکہ قرآنِ پاک دُرُست پڑھنا ایک ضروری چیز ہے، لہٰذا ہم نے اس کے لیے مدرسۃُ المدىنہ بالغان شروع کیے۔ پھر اللہ پاک نے اسباب بنائے تو (بچوں اور بچیوں کے لیے)مدارسُ المدینہ بھى شروع ہوگئے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ مدرسۃُ المدىنہ سے ہزاروں بلکہ لاکھوں بچے بچیاں حفظِ قرآن اور ناظرہ قرآن پڑھ کرفارغ ہوچکے ہیں۔ (4) نیز ہزاروں خوش نصیبوں نے جامعۃُ المدینہ سے درسِ نظامی یعنی عالم کورس مکمل کرلیا ہے۔ (5)
دعوتِ اِسلامی کروڑوں لوگوں کی محسن ہے!
سُوال:دعوتِ اِسلامی سے بے شمار اسلامی بھائی اور اسلامی بہنیں وابستہ ہیں ، یہ سب روزانہ دو گھنٹے دعوتِ اِسلامی کے مَدَنی کاموں کےلیے نہیں دیتے، اگر یہ نیت کرلیں کہ اِنْ شَآءَ اللّٰہ روزانہ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی کاموں کے لیے دو گھنٹے دیں گے“ تو اس سے کیا فوائد حاصل ہوں گے اِرشاد فرمادیجیے۔ (نگرانِ شوریٰ کا سُوال)
جواب: اگر سارےاسلامی بھائی اور اسلامی بہنیں روزانہ دعوتِ اِسلامی کو دو گھنٹے دیں تو بھی کم ہے! جو محسن ہوتا ہے اس کا جتنا شکرىہ ادا کیا جائے کم ہوتا ہے، دعوتِ اِسلامى ہزاروں کى نہىں بلکہ لاکھوں کروڑوں کى محسن ہے۔ کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جنہیں دعوتِ اسلامی کی وجہ سے دُرُست مسلک کا پتا چلا،اپنے مذہب کے بارے میں صحیح معلومات حاصل ہوئیں، بے نمازى نماز پڑھنے لگے، داڑھی منڈوں نے داڑھیاں رکھ لیں،ننگے سر گھومنے والوں نے عمامہ شریف سجالیا، بدمعاشىاں کرنے والے عاجزىاں کرنے لگے اور جمعہ کی نماز تک نہ پڑھنے والے مساجد کے امام بن گئے۔ آج معاشرے مىں جتنے عمامے والے نظر آرہے ہىں چاہے وہ کوئی بھی ادارہ چلارہے ہوں ان کی اکثریت پر دعوتِ اِسلامى کا احسان ہے، عمامے کا تصور تقریباً ختم ہوگیا تھا بڑے بوڑھے اور بزرگ لوگ سرپر کپڑا لپیٹ لیتے تھے یا بعض مشائخ عِظام اور مشہور علمائے کرام عمامہ شرىف پہنتے تھےان کے علاوہ کوئی غیر مشہور عالمِ دین یا عوامی شخص عمامہ پہنتا ہو تو وہ شاذ و نادر ہے، لیکن اب بہت بڑی تعداد ہے جو عمامہ شریف پہنتی ہے۔
دعوتِ اِسلامى نے زُلفوں والی سُنَّت ادا کرنے کا تصور دىا اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کئی اِسلامی بھائی یہ سُنَّت ادا کررہے ہیں،معاشرے میں داڑھى رکھنا عام نہیں تھا حتّٰی کہ جب میری داڑھی آئی تو بعض نادان لوگ مجھے طرح طرح کی باتیں کرکے ڈراتے تھے مثلاً ”تم داڑھی رکھو گے تو یہ ہوجائے گا! اگر تم داڑھى رکھ کر منڈواؤ گے تو تمہارے ساتھ کچھ ہوجائے گا،فلاں نے داڑھی رکھ کر منڈوا دى تھى تو اسے یہ یہ تکالیف آئیں۔“ لىکن اَلْحَمْدُ لِلّٰہ مىں ڈٹا رہا کسی کی باتوں پر کان نہیں دھرے اور داڑھی رکھ لی، نیز میں نے زُلفىں بھی دعوتِ اسلامی بننے سے پہلے ہی رکھ لی تھیں،ایسا نہیں ہے کہ میں نے دعوتِ اِسلامی کی وجہ سے زلفیں رکھی ہوں، میرا شروع سے جذبہ تھا کہ میں یہ سب چیزیں کروں۔مجھے دیکھ کر میرے بعض دوستوں نے بھی زُلفیں اور داڑھیاں بڑھا لی تھیں گویا زُلفیں اور داڑھی رکھنے کی تحریک دعوتِ اسلامى بننے سے پہلے ہى شروع ہوچکی تھی۔ خیال رہے ! میں یہ نہیں کہہ رہا کہ لوگوں کو داڑھی صرف میں نے ہی رکھوائی ہے، داڑھی تو پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم کی سُنَّت ہے پہلے بھی ہزاروں لاکھوں لوگوں نے داڑھی رکھی ہوئی تھی، لیکن میری مراد یہ ہے کہ ہمارے آس پاس کے لوگوں میں داڑھی والے سُنّی بہت کم تھے،آپ چاہیں تو بڑی عمر والے حضرات سے تصدیق کروالیجیے وہ بتائیں گے کہ الیاس صحیح کہہ رہا ہے۔ ہوسکتا ہے یہ بات نئی نسل کو سمجھ نہ آئے کہ انہوں نے آنکھ کھولی تو والد صاحب کو داڑھی رکھے ہوئے دیکھا اور ان کی دیکھا دیکھی خود بھی داڑھی رکھ لی، لیکن غور کریں ان کے والد صاحب کو داڑھی کس نے رکھوائی؟ کہیں نہ کہیں دعوتِ اِسلامی کا فیضان نظر آجائے گا۔
اللہ کا کرم ہے کہ دعوتِ اسلامى نے لوگوں کو تبدیل کیا ہے ان کو شعور تک نہىں تھا کہ ”شریعت“ کیا ہوتی ہے، لیکن اب یہ اور ان کی نسلیں کئی حج اور عمرے کرچکے ہیں، ورنہ نوجوان طبقہ حج نہىں کرتا تھا صرف بوڑھے حضرات حج کرنے جاتے تھے، اب اللہ پاک کى رَحمت سے پاکستان کے بے شمار نوجوان حج کرتے نظر آتے ہیں۔ خیال رہے میں یہ نہیں کہہ رہا کہ حج کا شعور بھی دعوتِ اسلامی نے دیا ہے بلکہ میری مراد یہ ہے کہ اىک تعداد ہے جس کا دعوتِ اسلامى سے وابستہ ہونے کی وجہ سے حج کرنے کا ذہن بنا ہے، یہ لوگ آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم کے کرم سے ”مدىنہ مدىنہ“ کرتے ہىں سال مىں دو دو تىن تىن بار مدىنے پہنچ جاتے ہیں۔ بہرحال دعوتِ اسلامی نے بہت کچھ دیا ہے، نمازى بناىا ہے ، عاشقِ رسول بناىا ہے، عشقِ رسول کى چاشنی دی ہے، اتنے سارے انمول احسانات کے باوُجود کوئی کہے کہ میں ہفتہ وار اجتماع مىں نہیں جاؤں گا، مَدَنى قافلے مىں سفر نہیں کروں گا، مَدَنى اِنعامات (6) کا رسالہ کھول کر بھی نہیں دىکھو ں گا، زُلفىں نہىں رکھوں گا، عمامہ شریف نہىں باندھوں گا یا میں مَدَنی انعامات پر عمل نہیں کروں گا وغیرہ تو کیا یہ صحیح ہوگا؟ حالانکہ کسی کو بھی اىسى باتىں نہیں کرنی چاہئیں۔
ہمارے اسلامی بھائی چاہیں تو بہت کچھ کرسکتے ہیں، اپنے اندر کچھ کر گزرنے کی ہمت پیدا کریں پھر دیکھیں کیسا کمال ہوتا ہے۔مدنی کاموں کے لیے روزانہ دو گھنٹے دینے کی گزارش کی جاتی ہے اس میں دعوتِ اِسلامی کے اکثر مَدَنی کام ہوسکتے ہیں مثلاً مدرسۃُ المدینہ بالغان، ہفتہ وار اجتماع، اسلامی بھائیوں کے ساتھ مل کر لوگوں کو نیکی کی دعوت دینا اور سنتیں سکھانا وغیرہ سب کچھ ہوسکتا ہے بس ذہن بننے کی دیر ہے۔
1…… یہ اجتماع 25 اور26 نومبر 1982 ء کو ہوا تھا۔ (شعبہ ملفوظاتِ امیرِ اہلِ سُنَّت)
2…… مستدرک للحاکم، کتاب الفتن والملاحم،باب لاتسبوا اھل الشام...الخ، ۵/ ۷۶۶-۷۶۷ ، حدیث: ۸۷۰۲ ماخوذاً دار المعرفة بيروت۔ بہارِ شریعت، ۱/۲۵۷، حصہ:۱ مکتبۃ المدینہ کراچی۔
3…… دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کا قیام 20 ستمبر 2000ء مىں ہوا تھا جس میں اراکین کی تعداد 10 تھی اور اس کے نگران قاری محمد مشتاق عطاری رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ تھے۔ (شعبہ ملفوظات امیرِ اہلِ سُنَّت)
4…… اب تک حفظ و ناظرہ قرآن مکمل کرنے والے بچوں اور بچیوں کی تعداد تقریباً تیس لاکھ 65 ہزار ہے۔(شعبہ ملفوظات امیرِ اہلِ سُنَّت)
5…… اب تک تقریباً 12 ہزار طلبا و طالبات درسِ نظامی مکمل کرچکے ہیں۔ (شعبہ ملفوظات امیرِ اہلِ سُنَّت)
6…… شیخِ طریقت، امیرِ اہلِ سُنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اس پُرفتن دور میں آسانی سے نیکیاں کرنے اورگناہوں سے بچنے کے طریقۂ کار پر مشتمل شریعت وطریقت کا جامِع مجموعہ بنامِ ”مَدَنی انعامات“ بصورتِ سُوالات عطافرمایاہے۔اسلامی بھائیوں کیلئے 72،اسلامی بہنوں کیلئے 63، طَلَبۂ علمِ دین کیلئے 92 ،دینی طالِبات کیلئے 83، بچوں اور بچیوں کے لیے 40 اور خصوصی اِسلامی بھائیوں(یعنی گونگے بہروں) کیلئے 27 مَدَنی اِنعامات ہیں۔بے شمار اِسلامی بھائی، اسلامی بہنیں اورطلبا مَدَنی انعامات کے مطابق عمل کرکے روزانہ ”فکرِمدینہ “ یعنی اپنے اعمال کا جائزہ لے کر مَدَنی اِنْعامات کے پاکٹ سائز رسالے میں دیئے گئے خانے پُر کرتے ہیں۔ اس کی برکت سے پابند ِ سنت بننے ، گناہوں سے نفرت کرنے اور ایمان کی حفاظت کے لیے کڑھنے کا ذہن بھی بنتا ہے۔ یہ رسالہ دعوتِ اِسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی کسی بھی شاخ سے ہدیۃً حاصل کیا جاسکتا ہے۔ (شعبہ ملفوظات امیرِ اہلِ سُنَّت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع