30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پڑھنا ، ہمیشہ نہ پڑھنا ، رِیا کاری سے پڑھنا وغیرہ ۔ “ اِسی طرح پارہ 30سورۃُ الماعون کی آیت نمبر 4اور5میںاللہ پاک اِرشاد فرماتا ہے :
فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَۙ (۴) الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَۙ (۵)
ترجمۂ کنزالایمان : تو ان نمازیوں کی خرابی ہے جو اپنی نماز سے بھولے بیٹھے ہیں ۔
اِس آیتِ مُبارَکہ کے تحت تفسیرنورُالعرفان میں ہے : ” نماز سے بھولنے کی چند صورتیں ہیں : کبھی نہ پڑھنا ، پابندی سے نہ پڑھنا ، بِلاوجہ مسجد میں نہ پڑھنا ، صحیح وقت پر نہ پڑھنا ، بِلاوجہ بغیر جماعت پڑھنا ، نماز صحیح طریقہ سے ادا نہ کرنا ، شوق سے نہ پڑھنا ، سمجھ بوجھ کر ادا نہ کرنا ، کَسل و سُستی ، بے پروائی سے پڑھنا ۔ اِسی لیے فقہاء فرماتے ہیں کہ آستین چڑھا کر ، رومال کاندھے یا سر پر لٹکا کر ، بٹن کھلے چھوڑ کر نماز پڑھنا منع ہے کہ یہ سُستی اور بے پروائی کی علامت ہے ۔ “
نماز روزہ کسی صورت بھی تَرک نہ کیجیے
رَمَضانُ المبارک میں دَرزیوں کے لیے بڑی آزمائش ہوتی ہے ، بہت سے درزی تَراویح بلکہ عیدکی نمازسے بھی محروم رہتے ہوں گے ، اِسی طرح رَمَضانُ المبارک کے آخری اَیّام میں مٹھائیاں بنانے والے بھی نماز روزے سے محروم ہو جاتے ہوں گے ۔ ان لوگوں کو چاہیے کہ اپنے کام میں تخفیف (یعنی کمی) کر دیں مگر نماز روزہ کسی صورت میں بھی تَرک نہ کریں ۔ اگر کوئی شخص آدھا گھنٹہ بھی کوئی ایسا محنت والا کام کرتا ہے جس کی وجہ سے اس کے لیے روزہ رکھنا دُشوار ہوجاتا ہے تو وہ آدھا گھنٹہ بھی ایسا محنت والاکام نہ کرے بلکہ آرام کرے اور روزہ رکھے کہ روزہ فرض ہے ۔ یہی معاملہ نماز کا ہے کہ لاکھوں روپے کے گاہک چھوٹتے ہوں پَروا نہ کریں ، وقت پر نماز ادا کریں کہ نماز فرض ہے اور اگر کوئی شَرعی عُذر نہیں تو جماعت کے ساتھ نماز ادا کریں کہ باجماعت نماز ادا کرنا واجب ہے ۔ گاہک ہاتھ سے نکل جانے کے خیال سے یا کام کے لالچ میں جماعت تَرک کرنے کی اِجازت نہیں ۔
کانٹا مِرے جگر سے غمِ روزگار کا
یوں کھینچ لیجیے کہ جگر کو خبر نہ ہو (حدائقِ بخشش)
یاد رکھئے !جان بوجھ کر ایک نماز بھی قضا کر دینا گناہِ کبیرہ ، حرام اورجہنم میں لے جانے والاکام ہے ۔ چنانچہ سردارِ دوجہان ، محبوبِ رَحمٰنصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے : جو جان بوجھ کر نماز چھوڑ دے اس کا نام جہنم کے اس دَروازے پر لکھ دیا جاتا ہے جس سے وہ داخِل ہو گا ۔ ([1]) اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اَہلسنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں : عُذرِ شَرعی کے بغیر اتنی تاخیر کہ وقت چلاجائے اور قضا کرنی پڑے بیشک حرام ، فِسق اور کبیرہ گناہ ہے ۔ اس کو عذاب دینا یا بخش دینا اللہ (عَزَّ وَجَلَّ) کی مشیت (یعنی مرضی) کے سپرد ہے اور کوئی مسلمان دوزخ میں دُنیا کی عمر یعنی سات ہزارسال سے زیادہ نہیں رہے گا ۔ ([2])
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 1250 صفحات پر مشتمل کتاب ، ’’بہارِ شریعت‘‘جلد اوّل صَفْحَہ 700پر ہے : بِلا عُذرِ شَرعی نماز قضا کر دینا بہت سخت گناہ ہے ، اُس پر فرض ہے کہ اُس کی قضا پڑھے اور سچے دِل سے توبہ کرے ، توبہ یا حجِ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع