30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نے کاٹ دیئے تو یہ ناجائز بھی نہیں ۔ اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اَہلسنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن کی خدمتِ بابرکت میں اِسی طرح کا سُوال ہوا کہ ” نیا کپڑا یا جُوتا اِستعمال کرنے پرکیا پڑھے اورکون سے روز اِستعمال کرے نیز دَرزی کوکون سے روز سِلنے کو دے ؟“تو آپرَحمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے جواباً اِرشاد فرمایا : بِسْمِ اللہ کہہ کر پہنے اور پہن کر پڑھے : اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ کَسَانِیْ ھٰذَا وَرَزَقَنِیْہِ مِنْ غَیْرِ حَوْلٍ مِّنِّیْ وَلَا قُوَّۃٍ سب تعریف اور ستائش اس اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جس نے مجھے یہ لباس پہنایا اور میری قوت و طاقت کے بغیر مجھے اس کے پہننے کی توفیق بخشی ۔ ([1]) اور کپڑے کے اِستعمال یا دَرزی کو دینے کے لئے کوئی خصوصیت نہیں ۔ ہاں!منگل کے دِن کپڑا قطع نہ کیا جائے ۔ مولا علی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا : جو کپڑا منگل کے روز قطع کیا جائے وہ جلے یا ڈوبے یا چوری ہو جائے ۔ ([2]) سِلائی کرنے والے اسلامی بھائیوں اور اسلامی بہنوں کو چاہیے کہ وہ منگل کے دِن کپڑے کاٹنے کے بجائے کسی اور دِن کاٹ لیاکریں ۔
دُکانوں میں چہرے والی ڈَمی لگاناکیسا؟
سوال : دُکانوں میں چہرے والی ڈَمی لگانا کیسا ہے ؟
جواب : ایسی مَردانہ ڈمی جس کا چہرہ بالکل مِٹاہوا ہویا بالکل ہموار (Plain) ہوتو یہ جائز ہے جبکہ عورت کی بغیر چہرے کے بھی ڈَمی نہ لگائی جائے کیونکہ اس میں عورت کے بعض اَعضاء کا اُبھار بھی نمایاں ہوتا ہے جو کہ بَدنگاہی کا باعِث ہے لہٰذا عورت کی بغیر چہرے کے ڈَمی کی بھی اِجازت نہیں ، اَلبتہhanger وغیرہ پر عورتوں کے کپڑے لٹکانے میں حَرج نہیں ۔ اِسی طرح دُکانوں میں نُمائش کے لیے مختلف لباس پہنے ہوئے ماڈلز کی تَصاویر لگائی جاتی ہیں یہ بھی ناجائز ہیں اَلبتہ عورتوں کی تَصاویر سے خالی صرف کڑھائی یا گلے وغیرہ کے مختلف نمونوں یا ڈیزائنوں کے تصویری اَلبم رکھے ہوں تو ان میں حَرج نہیں ۔
بنا دے مجھے نیک نیکوں کا صَدقہ
گناہوں سے ہر دَم بچا یاالٰہی (وسائلِ بخشش)
کام کی ٹینشن کی وجہ سے نماز روزہ تَرک کرنا کیسا ؟
سوال : رَمَضانُ المبارک اور بقر عید کے موقع پر کام کے بوجھ (Burdon) کی وجہ سے نماز اور روزے چھوڑ دینا کیسا ہے ؟
جواب : کام کے بوجھ (Burdon) کی وجہ سے نماز و روزہ تَرک کر دینا اِنتہائی خطرناک مُعاملہ ہے ۔ عیدُ الفطر ہو یا عیدُ الاَضحیٰ ، اپنی شادی ہو یاکسی عزیز کی ، کسی کی فوتگی ہو یا اپنے ہی گھر میں کسی کی میت ، کسی بھی صورت میں نماز میں سُستی کرنے یا قضا کر دینے کی اِجازت نہیں ۔ نمازوں کو ضائع کرنے والوں کے متعلق اِرشادِ ربّ العباد ہے :
فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّبَعُوا الشَّهَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّاۙ (۵۹) )پ۱۶ ، مریم : ۵۹)
ترجمۂ کنز الایمان : تو ان کے بعد ان کی جگہ وہ ناخلف آئے جنہوں نے نمازیں گنوائیں (ضائع کیں) اور اپنی خواہشوں کے پیچھے ہوئے تو عنقریب وہ دوزخ میں غَی کا جنگل پائیں گے ۔
اِس آیتِ مُقَدَّسہ کے تحت مُفَسّرِشہیر ، حکیمُ الاُمَّت حضرت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ” اِس سے معلوم ہوا کہ نمازوں میں سُستی تمام گناہوں کی جڑ ہے ، اس سُستی کی کئی صورتیں ہیں : نمازنہ پڑھنا ، بے وقت پڑھنا ، بِلاوجہ بغیرجماعت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع