30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سوال : دَرزی کسے کہیں گے ؟
جواب : ” دَرزی‘‘اسی شخص کو کہا جائے گا جس نے یہ کام بطورِ پیشہ اِختیار کیا ہو یعنی اس کا ذَریعۂ مَعاش ہی درزی کا پیشہ ہو ۔ محض اپنے کپڑوں میں پیوند لگا لینے یا ضَرورتاً اپنے لیے ایک آدھ کپڑا سی لینے سے کوئی شخص دَرزی نہیں کہلا سکتا جیسا کہ حضرتِ سیِّدُنا اِمام فخرُ الدِّین رازی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِی فرماتے ہیں : کوئی کام ایسا شخص سرانجام دے جو اس کے مناسب نہیں یا اس کا کام نہیں جیسے بادشاہ کپڑا سیتا ہے تویہ ضَرور کہا جائے گا کہ بادشاہ نے کپڑا سِیا مگر اسے دَرزی نہیں کہیں گے ۔ اِسی طرح اگر کوئی شخص کسی شے پر کشیدہ کاری کرتا ہے حالانکہ یہ اس کا پیشہ نہیں ہے تو یوں کہیں گے کہ وہ کشیدہ کاری کرتا ہے مگر اسے کشیدہ کار نہیں کہہ سکتے ۔ ([1])
یہی وجہ ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا اِدریسعَلَیْہِ السَّلَام کے لیے خَیَّاط (یعنی دَرزی) کا لفظ کتابوں میں آیا ہے لیکن ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم کے لیے کسی رِوایت میں یہ اَلفاظ نہیں ملتے حالانکہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم خود اپنے مُبارَک کپڑے سی لیتے تھے جیساکہ اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے سُوال کیا گیا کہ حضور نبیٔ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم گھر میں کیا کام کیا کرتے تھے ؟ تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے فرمایا : آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم خود اپنے کپڑے سی لیتے ، پاپوش مُبارَک گانٹھ لیتے اور وہ کام کر لیتے تھے جو مَرد اپنے گھروں میں کرتے ہیں ۔ ([2])
سوال : کیا قرآن و حدیث میں دَرزی یا اس کے پیشے کا کوئی تذکرہ ملتا ہے ؟
جواب : عربی زبان میں درزی کے لیے ’’خَیَّاط‘‘ کالفظ اِستعمال ہوتا ہے جبکہ کپڑے سینے کو ’’خِیَاطَت‘‘ کہا جاتا ہے ۔ اِسی طرح دھاگے کے لیے ’’خَیْط‘‘اور سُوئی کے لیے ’’خِیَاط‘‘ کا لفظ اِستعمال ہوتا ہے جیساکہ قرآنِ مجید میں ہے :
وَ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ۪ (پ۲ ، البقرة : ۱۸۷)
ترجمۂ کنز الایمان : اور کھاؤ اور پیؤ یہاں تک کہ تمہارے لئے ظاہر ہو جائے سفیدی کا ڈورا (دھاگا) سیاہی کے ڈورے سے پوپھٹ کر ۔
اِسی طرح پارہ 8 سورۃُ الاَعراف کی آیت نمبر 40 میں اِرشاد ہوتا ہے :
وَ لَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ حَتّٰى یَلِجَ الْجَمَلُ فِیْ سَمِّ الْخِیَاطِؕ
ترجمۂ کنز الایمان : اور نہ وہ جنَّت میں داخل ہوں جب تک سُوئی کے ناکے اونٹ نہ داخِل ہو ۔
بخاری شریف کی رِوایت میں ایک دَرزی کا تذکرہ ملتا ہے کہ جس نے حضورِ اَکرم ، نُورِ مجسم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم کی دعوت کی اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمنے اس کی دعوت کو قبول فرمایا ۔ چنانچہ حضرتِ سیِّدُنا اَنَس بِن مالِک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ بیان فرماتے ہیں کہ ایک دَرزی نے رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم کی کھانے کی دعوت کی ۔ میں بھی حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم کے ساتھ گیا ۔ جو کی روٹی اور شوربا حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم کے سامنے لایا گیا جس میں کدّو اور خشک کیا ہوا نمکین گوشت تھا ۔ کھانے کے دَوران میں نے حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم کو دیکھا کہ پیالے کے کناروں سے کدّو کی قاشیں تلاش کر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع