30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نکالتے تو اللہ پاک کی حمد بجا لاتے ۔ ([1])
دَرزی کا پیشہ اِختیار کرنا کیسا؟
سوال : دَرزی کا پیشہ اِختیار کرنا کیسا ہے ؟
جواب : دَرزی کا پیشہ کسبِ حلال کے ذَرائع میں سے ایک عُمدہ ذَریعہ ہے ۔ حدیثِ پاک میں ہے : دَرزی کا پیشہ اِختیار کرنا نیکوکار مَردوں اور سُوت کاتنا نیکوکار عورتوں کا کام ہے ۔ ([2]) اَنبیائے کِرام عَلَیْہِمُ السَّلَام نے مختلف پیشے اِختیار فرما کر ہمارے لیے سُنَّت قائم فرما دی لہٰذا ہمیں رِزقِ حلال کے حُصُول کے لیے اِن پیشوں کو اِختیار کرنے میں کسی قسم کی عار (شرم) محسوس نہیں کرنی چاہیے اور نہ ہی اِن پیشوں یا اِن پیشوں کے اِختیار کرنے والوں کو کم تر سمجھنا چاہیے ۔
مُفَسّرِِشہیر ، حکیمُ الاُمَّت حضرت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : کسی پیغمبر نے نہ سُوال کیا ، نہ ناجائز پیشے کئے ، ہر نبی نے کوئی نہ کوئی حلال پیشہ ضَرور کیا ۔ چنانچہ آدم عَلَیْہِ السَّلَام نے اَوَّلاً کپڑا بُننے کا کام کیا اور بعد میں آپ کھیتی باڑی میں مشغول ہو گئے ۔ ہر قسم کے بیج جنَّت سے ساتھ لائے تھے ان کی کاشت فرماتے تھے ۔ ان کے سِوا سارے پیشے کئے ۔ نوح عَلَیْہِ السَّلَام کا ذَریعۂ مَعاش لکڑی کا کام (بڑھئی کا پیشہ) تھا ۔ حضرت اِدریس عَلَیْہِ السَّلَام دَرزی گری فرماتے تھے ۔ حضرت ہُود اور حضرت صَالح عَلَیْہُمَا السَّلَام تجارت کرتے تھے ۔ حضرت اِبراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کا مشغلہ کھیتی باڑی تھا ۔ حضرت شعیب عَلَیْہِ السَّلَام جانور پالتے اور ان کے دودھ سے مَعاش حاصِل کرتے تھے ۔ حضرت لُوط عَلَیْہِ السَّلَام کھیتی باڑی کرتے تھے ۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے چند سال بکریاں چرائیں ، حضرت داؤد عَلَیْہِ السَّلَام زِرہ بناتے تھے ۔ حضرت سلیمانعَلَیْہِ السَّلَام اتنے بڑے بادشاہ ہو کر دَرختو ں کے پتوں سے پنکھے اور زَنبیلیں بنا کر گزر فرماتے تھے ۔ حضرت عیسیٰعَلَیْہِ السَّلَام سیرو سیاحت میں رہے ، نہ کہیں مکان بنایا ، نہ نکاح کیا اور فرماتے تھے کہ جس نے مجھے ناشتہ دیا ہے وہ ہی شام کا کھانا بھی دے گا ۔ حضور سیِّد عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم نے بکریاں بھی چرائی ہیں اور حضرت خدیجہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے مال کی تجارت بھی فرمائی ۔ غرض ہر قسم کی حلال کمائیاں سُنَّتِ اَنبیاء عَلَیْہِمُ السَّلَام ہیں ، اس کو عار جاننا نادانی ہے ۔
مَزید فرماتے ہیں : عُلَمائے کِرام نے فرمایا کہ جا ئز پیشو ں میں تَرتیب ہے کہ بعض سے بعض اعلیٰ ہیں ۔ جن پیشو ں سے دِین ودُنیا کی بَقا ہے دو سرے پیشو ں سے اَفضل ہیں ۔ چنا نچہ (۱) بہترصَنعت دِینی تصنیف اور کتاب ہے کہ اس سے قرآن و حدیث اور سارے دِینی عُلُوم کی بَقا ہے ۔ (۲) پھر آٹے کی پِسائی اور چاول کی صاف کرائی کہ اس سے نفسِ اِنسان کی بَقا ہے ۔ (۳) پھر رُوئی دُھنائی ، سُوت کتائی اور کپڑا بننا ہے کہ اس سے سَتْر پوشی ہے ۔ (۴) پھر دَرزی گر ی کا پیشہ بھی کہ اس کا بھی یہی فائدہ ہے ۔ (۵) پھر روشنی کا سامان بنانا کہ دُنیا کو اس کی بھی ضَرورت ہے ۔ (۶) پھر مِعماری ، اِینٹ بنانا (بھٹہ) اورچُونے کی تیاری ہے کہ اس سے شہر کی آبادی ہے ۔ رہی زَرگری ، نَقاشی ، کار چو بی ، حَلوہ سازی ، عِطر بنانا یہ پیشے جائز ہیں مگر ان کا کوئی خاص دَرَجہ نہیں کیونکہ فقط زینت کے
سامان ہیں ۔ خُلاصہ یہ ہے کہ بیکار رہنا بڑا جُرم ہے اور ناجائز پیشے کرنا اس سے بڑھ کر جُرم ، رب تعالیٰ نے ہاتھ پاؤں وغیرہ بَر تنے کے لئے دیئے ہیں نہ کہ بیکار چھوڑنے کے لئے ۔ ([3])
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع