30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رَنگ جائز ہیں ، اِن دونوں رَنگوں کے سِوا باقی ہر قسم کے رنگ زَرد ، سُرخ ، دَھانی ، بسنتی ، چمپئی ، نارنجی وغیرہا مَردوں کو بھی جائز ہیں ۔ اگرچہ بہتر یہ ہے کہ سُرخ رنگ یا شوخ رنگ کے کپڑے مَرد نہ پہنے ، خُصُوصاً جن رنگوں میں زنانہ پن ہو مَرد اس کو بالکل نہ پہنے اور یہ ممانعت رنگ کی وجہ سے نہیں بلکہ عورتوں سے تشبہ ہوتا ہے اس وجہ سے ممانعت ہے لہٰذا اگر یہ عِلَّت نہ ہو تو ممانعت بھی نہ ہوگی ، مثلاً بعض رنگ اس قسم کے ہیں کہ عمامہ رنگا جاسکتا ہے اور کُرتہ پاجامہ اسی رنگ سے رنگا جائے یا چادر رنگ کر اوڑھیں تو اس میں زنانہ پن ظاہر ہوتا ہے تو عمامہ کو جائز کہا جائے گا اور دوسرے کپڑوں کو مکروہ ۔ ([1]) رہی بات جنتیوں کے لباس کی تو قرآن وحدیث میں جنتیوں کے سبز لباس ہونے کا ذِکر ہے چنانچہ اِرشادِ ربّ العباد ہے :
یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ یَلْبَسُوْنَ ثِیَابًا خُضْرًا مِّنْ سُنْدُسٍ وَّ اِسْتَبْرَقٍ (پ۱۵ ، الکھف : ۳۱)
ترجمۂ کنز الایمان : وہ اس میں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور سبز کپڑے کریب (ریشم کے باریک) اور قنادیز (موٹے ) کے پہنیں گے ۔
اِسی طرح پارہ 29 سورۃُ الدَّھر کی آیت نمبر 21میں اِرشاد ہوتاہے :
عٰلِیَهُمْ ثِیَابُ سُنْدُسٍ خُضْرٌ وَّ اِسْتَبْرَقٌ٘- ترجمۂ کنز الایمان : ان کے بَدن پر ہیں کریب کے سبز کپڑے اور قنادیز کے ۔
حدیثِ پاک میں بھی جنتیوں کے سبز لباس ہونے کا ذِکر ہے چنانچہ نبیٔ رَحمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عظمت نشان ہے : کوئی بھی مسلمان شخص کسی بھی مسلمان کو ننگے ہونے کی وجہ سے کپڑا پہنائے گاتو اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے جنَّت کے سبز لباس پہنائے گا ۔ ([2]) حضرتِ سیِّدُنا علّامہ محمد بِن عَلَّان شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ الْقَوِی فرماتے ہیں : سبز رنگ کی شَرافت کے لیے یہی کافی ہے کہ یہ جنتیوں کا لباس ہے ۔ ([3]) معلوم ہوا کہ جنتیوں کا لباس سبز ہو گا ۔
٭…٭…٭…٭
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع