دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Darziyon k baray may swal jawab (Q-42) | دَرزیوں کےبارے میں سُوال جواب-قسط:42

book_icon
دَرزیوں کےبارے میں سُوال جواب-قسط:42

مگر افسوس! صَد کروڑ افسوس! آج مسلمان اَغیار  کے فیشن کے مُطابق چلنے میں فخر محسوس کرتا ہے ، انگریزوں کی طرح ننگے سر ، انہیں کی طرح داڑھی مونچھ صاف ، انہیں کی طرح پتلون کے اَندر قمیص ، گلے میں کالر بلکہ مَعَاذَ اللہ ٹائی (پھندا)  ڈالنے میں اپنی عزّت تَصَوُّر کرتا ہے گویا کہ انگریزی لباس میں ملبوس رہنا ہی اس کے نزدیک  عین سعادت ہے بلکہ اب تو نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ سُنَّت کے مُطابق لباس اور اِسلامی وَضع قطع بعض نام نہاد مسلمانوں کو ایک آنکھ نہیں بھاتی ۔

اچھوں کی نقل کی بدولت نجات مل گئی

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! غیروں کی نقالی سے مُنہ موڑتے ہوئے اپنے پیارے آقا ، مکی مَدَنی مصطفے ٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم کی پیاری پیاری سُنَّتوں سے اپنا رِشتہ جوڑ لیجیے کہ اچھوں کی نقل اچھی اور بُروں کی نقل بُری ہوتی  ہے ۔ چنانچہ حضرتِ سَیِّدُنا علّامہ علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْبَارِی فرماتے ہیں : جو شخص کفار ، فُسّاق اور فُجّار  کے ساتھ لباس وغیرہ میں مُشابہت کرے وہ گناہ میں انہی کی مِثل ہے اور جوشخص نیکو کاروں کی مُشابہت اِختیار کرے وہ بھلائی میں انہی کی مِثل ہے ۔ منقول ہے کہ   ” جب اللہ عَزَّوَجَلَّ نے فرعون اور اس کی قوم کو غرق کیا تو ان کاوہ بہروپیا بچ گیا جو حضرتِ سَیِّدُناموسیٰ کَلِیْمُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ساتھ  لباس اور بول چال میں نقل کیا کرتا تھا ۔  فرعون اور اس کی قوم اس کی ان حَرکات و سکنات سے ہنسا کرتے تھے ۔ حضرتِ سَیِّدُنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کی : اے میرے رب عَزَّوَجَلَّ!یہ تو دوسرے فرعونیوں کے مقابلے میں مجھے زیادہ اَذِیَّت دیتا تھا!اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اِرشاد فرمایا  : ہم نے اسے اس لیے غرق نہیں کیا کہ اس نے تمہارے جیسا لباس پہنا ہوا ہے اورہم محبوب کی سی  صورت اِختیار کرنے والے کو بھی عذاب نہیں دیتے ۔ “غور کیجیے کہ جس نے باطل طریقے سے اَہلِ حق کے ساتھ مُشابہت اِختیار کی تو اُسے نجات مل گئی اور وہ  غرق ہونے سے بچ گیا تو اس کا کیا عالَم ہوگا جو تعظیم وتکریم کی نیت سے اَنبیائے کِرام عَلَیْہِمُ السَّلَام اور اَولیائے کِرامرَحِمَہُمُ اللّٰہ ُ السَّلَام کے ساتھ مُشابہت اِختیار کرے گا ۔  ([1])

بہرحال سُنَّت کے مُطابق سفید لباس پہنا جائے کہ ” آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم کا مبارَک لباس اکثر سفید کپڑے کا ہوتا تھا ۔ “ ([2]) حدیثِ پاک میں سفید لباس پہننے کی تَرغیب بھی اِرشاد فرمائی گئی ہے  ۔ چنانچہ  حضرتِ سَیِّدُنا سمرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے رِوایت ہے کہ حضورِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا :  سفید لباس پہنو کیونکہ یہ زیادہ صاف اور پاکیزہ ہے اور اپنے مُردوں کو بھی اسی میں کفناؤ ۔  ([3]) سُنَّت (طریقوں میں سے ایک طریقہ) یہ (بھی) ہے کہ دامن کی لمبائی آدھی پنڈلی تک ہو اور آستین کی لمبائی زیادہ سے زیادہ انگلیوں کے پوروں تک اور چوڑائی ایک بالِشت ہو ۔  ([4])

جنتیوں کا لباس کیسا ہو گا؟

سوال : کس رنگ کے کپڑے پہننے چاہئیں؟ نیز جنتیوں کا لباس کیسا ہو گا؟

جواب : صَدرُ الشَّریعہ ، بَدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں : کسم یا زَعفران کا رنگا ہوا کپڑا پہننا مَرد کو منع ہے گہرا  رنگ ہو کہ سُرخ ہوجائے یا ہلکا ہو کہ زَرد رہے دونوں کا ایک حکم ہے ۔ عورتوں کو یہ دونوں قسم کے



[1]    مرقاةُ  المفاتیح ، ۸ / ۱۵۵ ، تحت الحدیث : ۴۳۴۷ ملتقطًا دار الفکر بیروت  

[2]   کَشْفُ الْاِلْتِباس فِی اسْتِحْبابِ اللِّباس ، ص۳۶  دار احیا ء العلوم  باب المدینه  کراچی

[3]    ترمذی ، کتاب الادب ، باب ما جاء فی لبس البیاض ، ۴ / ۳۷۰ ، حدیث : ۲۸۱۹ 

[4]    رَدُّالْمُحتار ، کتاب الحظر والاباحة ، فصل فی اللبس ، ۹  / ۵۷۹ 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن