30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کو نہیں چھوڑا جا ئے گا چہ جائیکہ کسی دُنیوی کام کے سبب اسے تَرک کر دیا جائے ۔ چنانچہ بہارِ شریعت میں ہے : قضا نمازیں نَوافِل سے اَہَمّ ہیں یعنی جس وقت نَفل پڑھتا ہے اُنہیں چھوڑ کر اُن کے بدلے قَضائیں پڑھے کہ بَرِیُّ الذِّمَّہ ہو جائے اَلبتہ تَراویح اور بارہ رکعتیں سُنَّتِ مُؤَکَّدہ کی نہ چھوڑے ۔ ([1]) اگر ستائیسویں کو (یا اس سے قبل) قرآنِ پاک خَتْم ہو گیا تب بھی آخر رَمَضان تک تَراویح پڑھتے رہیں کہ سُنَّتِ مُؤَکَّدہ ہے ۔ ([2])
تَراویح پڑھنے والوں کی خوش نصیبی
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! تَراویح اس قدر پیاری عبادت ہے کہ اسے جہاں مومنین ادا کرتے ہیں وہاں ملائکۂ عرش بھی اس میں حاضِر ہوتے ہیں ۔ چنانچہ منقول ہے کہ اللہ پاک کے عرش کے گِرد ” حَظِیْرَۃُ الْقُدْس“ نامی ایک جگہ ہے جوکہ نُور کی ہے ، اس میں اتنے فرشتے ہیں کہ جن کی تعداد اللہپاک ہی جانتا ہے ، وہ اللہ پاک کی عبادت کرتے ہیں اور ا یک لمحہ بھی غافل نہیں ہوتے ، جب رَمَضان کی راتیں آتی ہیں تو وہ اپنے ربّعَزَّ وَجَلَّ سے زمین پراُترنے کی اِجازت طَلب کرتے ہیں اور پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی اُمَّت کے ساتھ نمازِ تَراویح میں حاضِر ہوتے ہیں ، اگر کوئی ان کو چھوئے یا وہ اس کو مَس کریں تووہ ایسا سعادت مند ہو جائے گا کہ اس کے بعدکبھی بَدبخت نہ ہو گا ۔ اَمِیْرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جب یہ حدیث سُنی تو اِرشاد فرمایا : ہم اس فضل و اَجر کے زیادہ حق دار ہیں ۔ چنانچہ آپرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ماہِ رَمَضان میں لوگوں کو نمازِ تَراویح کے لیے جمع فرمایا ۔ ([3]) تَراویح میں چونکہ قرآنِ مجید سُنا جاتا ہے اور قرآنِ کریم اپنے سُننے والے کی قیامت کے دن شفاعت کرے گاچنانچہ
روزہ اور قرآن قیامت کے دن شَفاعت کریں گے
مدینے کے سُلطان ، رَحمتِ عالمیانصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ فَرحت نشان ہے : روزہ اور قرآن بندے کے لیے قیامت کے دن شَفاعت کریں گے ۔ روزہ عَرض کرے گا : اے ربّ ِکریمعَزَّوَجَلَّ!میں نے کھانے اور خواہشوں سے دن میں اِسے روک دیا ، میری شَفاعَت اِس کے حَقّ میں قَبول فرما ۔ قرآن کہے گا : میں نے اِسے رات میں سونے سے باز رکھا ، میری شَفاعَت اِس کے لئے قَبول کر ۔ پس دونوں کی شفاعتیں قبول ہوں گی ۔ ([4])
اِس حدیثِ پاک کے تحت مُفَسّرِشہیر ، حکیمُ الاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان فرماتے ہیں : یعنی روزہ اِفطار کرکے اس کی طبیعت آرام کی طرف مائل ہوتی تھی ، ہاتھ پاؤں میں سُستی پھیل جاتی تھی کہ نمازِ عشاء کی اذان کی آواز سنتے ہی تَراویح میں مجھے (قرآن کو) سننے آجاتا تھا لہٰذا یہاں تَراویح پڑھنے والے مُراد ہیں ، تہجد والے ہی مُراد نہیں کیونکہ تہجد تو سال بھر پڑھی جاتی ہے یہاں خُصُوصیت سے رَمَضان کا ذِکر ہے ۔ ([5])
عبادت میں لگتا نہیں دِل ہمارا
ہیں عصیاں میں بَدمست ہم یاالٰہی (وسائلِ بخشش)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع