30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عُلَمائے کرام (رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام) نے اسے کفر بتایا ۔ مولیٰ (عَزَّ وَجَلَّ) کو شایاں ہے کہ اپنے محبوب بندوں کو جس عبارت سے تعبیر (یعنی جو چاہے ) فرمائے (مگر) دوسرا کہے تو اُس کی زَبان گُدّی کے پیچھے سے کھینچی جائے ۔ ) لِلّٰهِ الْمَثَلُ الْاَعْلٰىؕ (پ۱۴ ، النحل : ۶۰) (ترجَمۂ کنز الایمان : ” اللہ (عَزَّوَجَلَّ) کی شان سب سے بلند ۔ “بِلاتشبیہ یوں خیال کرو کہ زید نے اپنے بیٹے عَمرو کو اُس کی کسی لغزِش یا بھول پر مُتَنَبِّہ (یعنی خبر دار) کرنے ، اَدب دینے ، حَزم و عَزم و اِحتیاطِ اَتَم (یعنی آداب و اِحتیاط) سکھانے کے لئے مَثَلاً بیہودہ ، نالائق ، اَحمق ، وغیرہا اَلفاظ سے تعبیر کیا (کہ) باپ کو اِس کا اِختیار تھا ۔ اب کیا عَمرو کا بیٹا بکر یا غُلام خالد انھیں اَلفاظ کو سَنَد بنا کر اپنے باپ اور آقا عَمرو کو یہ اَلفاظ کہہ سکتا ہے ؟حاشا! (ہرگز نہیں ) اگر کہے گا (تو) سخت گستاخ و مَردود و ناسزا ومستحقِ عذاب و تعزیر و سزا ہو گا ۔ جب یہاں یہ حالت (یعنی عام باپ بیٹوں کا یہ مُعامَلہ ) ہے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رِیس کر کے اَنبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی شان میں ایسے لفظ کا بکنے والا کیونکر سخت شدید و مَدید عذابِ جہنَّم وغَضَبِ اِلٰہی کا مستحق نہ ہوگا ۔ وَالْعِیَاذُ بِاللہِ تَعَالٰی ۔ اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت نے مزید آگے چل کر یہ نقل فرمایا ہے کہ امام اَبُو عبدُ اللہ محمد عبدری اِبنُ الحاج مَدخَل میں فرماتے ہیں : ہمارے عُلَماء رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی فرماتے ہیں کہ جو شخص اَنبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میں سے کسی نبی کے بارے میں غیرِتلاوت و حدیث میں یہ کہے کہ انہوں نے نافرمانی یا خِلاف ورزی کی تو وہ کافر ہے ۔ اس (طرح کی باتوں) سے ہم خدا کی پناہ مانگتے ہیں ۔ ([1])
آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام گندُم نہ کھاتے تو...؟
سوال : یہ کہنا کیسا ہے کہ آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام گندم نہ کھاتے تو ہم بَد بخت نہ ہوتے ؟
جواب : ایسا کہنا کُفر ہے ۔ ([2])
آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کوقربانی کا بکرا کہنا کیسا؟
سوال : یہ کہنا کیسا کہ جب اللہ پاک نے آدمیوں کو دُنیا میں بسا نا ہی تھا تو پھرحضرتِ سیِّدُنا آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو قربانی کا بکرا کیوں بنایا؟
جواب : ایسا کہنا صَریح کفر ہے ۔ اِس قولِ بدتر اَز بَول میں اللہ پاک پر بھی اِعتراض ہے اور حضرتِ سیِّدُنا آدم صَفِیُّ اللہ عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی بھی گستاخی ۔
سوال : دَرزی کا کام کس نبی عَلَیْہِ السَّلَام کے دور سے چلا آ رہا ہے ؟نیز سب سے پہلے سِلے ہوئے کپڑے کس نے پہنے ہیں؟
جواب : دَرزی کا کام حضرتِ سیِّدُنا اِدریس عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دور سے ہوا اور آپ عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ہی سب سے پہلے لباس سِیا اور سِلا ہوا لباس پہنا ۔ تفسیرِ کبیر میں ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا اِدریس عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام وہ پہلی ہستی ہیں جنہوں نے کپڑا سِیا اور سِلا ہوا لباس پہنا ۔ اس سے قبل لوگ لباس کے لیے کھالیں وغیرہ اِستعمال کرتے تھے ۔ ([3]) حضرتِ سیِّدُنا اِدریس عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام جب کپڑے میں سُوئی داخِل کرتے تو اللہ پاک کی تسبیح فرماتے اور جب کپڑے سے سُوئی باہر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع