30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شاید ہی اپنے آپ کو بَد نگاہی اور دِیگر گناہوں سے بچا سکیں کیونکہ انہیں لیڈیز کا ناپ لینے کے لیے دیکھنے کے ساتھ ساتھ چُھونا بھی پڑتا ہے تو یوں ان کے لیے زیادہ آزمائش ہے ۔ بہرحال زنانہ سِلائی (Ladies Tailoring) کا کام کرنے والے ہوں یا کوئی اور ہر ایک کے لیے اپنی نگاہ کی حفاظت کرتے ہوئے بَدنگاہی سے بچنا ضَروری ہے لہٰذا ہر ایک کو حکمِ قرآنی پر عمل کرتے ہوئے اپنی نگاہیں نیچی رکھنی چاہئیں جیسا کہ اِرشادِ ربّ العباد ہے :
قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ (پ۱۸ ، النور : ۳۰)
ترجمۂ کنز الایمان : مسلمان مَردوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں ۔
حدیثِ قدسی میں ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ اِرشاد فرماتا ہے : نظر ابلیس کے تیروں میں سے ایک زَہر میں بجھاہواتِیر ہے پس جو شخص میرے خوف سے اسے تَرک کر دے تو میں اسے ایسا اِیمان عطا کروں گاجس کی مٹھاس وہ اپنے دِل میں پائے گا ۔ ([1]) حضرتِ علّامہ اَبُو الْفَرَج عبدُ الرَّحمٰن بِن جَوزی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی نقل کرتے ہیں : عورت کے مَحاسِن ( یعنی حُسن و جمال ) کو دیکھنا ابلیس کے زَہر میں بجھے ہوئے تیروں میں سے ایک تیر ہے ، جس نے نامَحرم سے آنکھ کی حفاظت نہ کی اُس کی آنکھ میں بروزِ قِیامت آگ کی سَلائی پھیری جائیگی ۔ ([2])
میں نیچی نگاہیں رکھوں کاش اکثر
عطا کر دے شرم و حیا یاالٰہی (وسائلِ بخشش)
زنانہ سِلائی کرنے والوں کے لیے بَدنگاہی سے بچنے کی یہ صورت ہو سکتی ہے کہ یہ خود ناپ لینے کے بجائے سلے ہوئے کپڑوں سے ناپ کی تَرکیب بنائیں یاپھر اپنے گھر کی کسی اسلامی بہن کے ذَریعے ناپ لے لیاکریں ۔ اپنے آپ کو بَدنگاہی سے بچانے ، آنکھوں کا قفلِ مدینہ لگانے ، گناہوں سے پیچھا چھڑانے اورنیکیوں کا حَریص بنانے کا ایک بہترین ذَریعہ عاشقانِ رسول کی مَدَنی تحریک دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول کے ساتھ وابستہ ہونا بھی ہے ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ مَدَنی ماحول کی بَرکت سے نہ جانے کتنوں کی زندگیوں میں مَدَنی اِنقلاب بَرپا ہو گیا اور وہ گناہوں کے گھٹا ٹوپ اندھیروں سے نکل کر نیکیوں کی شاہراہ پرگامزن ہو چکے ہیں آپ کی تَرغیب و تحریص کے لیے ایک دَرزی اسلامی بھائی کی مَدَنی بہار پیشِ خدمت ہے :
ایک اسلامی بھائی کے بیان کا خُلاصہ ہے : میں جن دِنوں پنجاب میں دَرزی کا کام کرتاتھا ، میرا کِردار مَعَاذَ اللہ اِنتہائی خَراب تھا ، نَماز کی بالکل توفیق نہ تھی ، لڑائی بھڑائی تقریباً روزہ مَرّہ کا معمول تھا ، جھوٹ ، غیبت ، وعدہ خِلافی ، غصَّہ ، گالم گلوچ ، چوری ، بَدنگاہی ، فلمیں ڈرامے دیکھنا ، گانے باجے سُننا ، راہ چلتی لڑکیوں کو چھیڑخانی کرنا ، ماں باپ کو سَتانا ، اَلغرض وہ کون سی بُرائی تھی جو مجھ میں نہ تھی ۔ میری بَداَعمالیوں سے تنگ آ کر میرے گھر والوں نے مجھے بابُ المدینہ ( کراچی) بھیج دیا ۔ میں نے بابُ المدینہ (کراچی) کے ایک کارخانے میں مُلازمت اِختیار کر لی ، وہاں لڑکیاں بھی کام کرتی تھیں ، اس لئے میری عادتیں مزید بگڑ گئیں ۔ میں اس قَدَربُرا بندہ تھا کہ کبھی کبھی توخود اپنے آپ سے گِھن آتی تھی ۔ ایک روز مجھے پتا چلا کہ میرے ماموں زاد بھائی دعوتِ اسلامی کے جامعۃُ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع