30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یانہیں ؟
جواب : بھاری کڑھائی یا کام والے كُرتے یا لباس سے اگر پَردے کے شَرعی تقاضے پورے ہو جاتے ہیں تو ان کاپہننا جائزہے ۔ صرف بھاری کام کا ہونا وجہِ ممانعت نہیں ہو سکتا جب تک کہ کوئی اور شَرعی وجہ نہ ہو نیز بھاری کام والے لباس پہننے پرعورتوں کو مجبور نہیں کیا جاتا بلکہ وہ خود اپنی مرضی اور شوق سے پہنتی ہیں ۔
مَردوں کے لیے خالص ریشم کا اِستعمال کرنا کیسا؟
سوال : مَردوں کے لئے خالص ریشم اِستعمال کرنے کا کیا حکم ہے ؟
جواب : یاد رہے کہ اَصلی ریشم (Pure Silk) اور مَصنوعی ریشم میں بڑا فرق ہے ، اس لحاظ سے ان کے حکم میں بھی فرق ہے ۔ اگر خالص سِلک سے مُراد اصلی ریشم ہی ہے تو بِلاشُبہ عورتوں کے لئے مُطلقاً (بغیر کسی قید کے ) جائز ہے جبکہ مَردوں کے لئے چار انگل کی چوڑائی سے زیادہ حرام ہے اور ” اگر اس سے مُراد مَصنوعی ریشم ہے کہ جس کے ریشے اگرچہ بناوٹ وچمک اور نَرمی و لطافت میں کتنے ہی بڑھ کر ہوں مَردوں کے لیے حلال ہوگا ۔ اصلی اور نقلی ریشم کی پہچان کپڑا دیکھ کر یا ان کا تار جلا کر واقفین کے ذَریعے کی جا سکتی ہے ۔ “ ([1]) اب عام طور پر ریشم کے کپڑے اِنتہائی کم یاب ہیں ۔
ريشم اور سونا دونوں کا اِستعمال مَردوں کے لیے حرام ہے جیسا کہ علیُّ المُرتَضٰی شیرِخُدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے رِوایت ہے کہ میں نے حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم کو دیکھاکہ حضور نے اپنے دائیں ہاتھ میں ریشم اور بائیں ہاتھ میں سونا لیا پھر فرمایا : بیشک یہ دونوں میری اُمَّت کے مَردوں پر حرام ہیں ۔ ([2]) ہاں!اگرخالص ریشمی کپڑا نہ ہو بلکہ ریشم کی گوٹ لگی ہو تو اس کی
چار انگل تک مَردوں کے لیے اِجازت ہے جیساکہ حضرتِ سیِّدُنا عمر فارقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے خطبہ میں اِرشاد فرمایاکہ نبیٔ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم نے ریشم کی ممانعت فرمائی ہے ، مگر دو یا تین یا چار اُنگلیوں کی برابر یعنی کسی کپڑے میں اتنی چوڑی ریشم کی گوٹ لگائی جاسکتی ہے ۔ ([3])
صَدرُ الشَّریعہ ، بَدرُالطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں : مَردوں کے کپڑوں میں ریشم کی گوٹ چار انگل تک کی جائز ہے اس سے زیادہ ناجائز ، یعنی اس کی چوڑائی چار انگل تک ہو ، لمبائی کا شمار نہیں ۔ اِسی طرح اگر کپڑے کا کنارہ ریشم سے بُنا ہو جیسا کہ بعض عمامے یا چادروں یا تہبند کے کنارے اِس طرح کے ہوتے ہیں ، اس کا بھی یہی حکم ہے کہ اگر چار انگل تک کا کنارہ ہو تو جائز ہے ورنہ ناجائز ۔ ([4]) یعنی جبکہ اس کنارہ کی بناوٹ بھی ریشم کی ہو اور اگر سُوت کی بناوٹ ہو تو چار انگل سے زیادہ بھی جائز ہے ۔ ([5])
سوال : زنانہ سِلائی (Ladies Tailoring) کا کام کرنے والے اپنے آپ کو بَدنگاہی سے کیسے بچاسکتے ہیں؟
جواب : فی زمانہ اپنے آپ کو بَدنگاہی سے بچانا بہت مشکل ہے ، بالخصوص زنانہ سِلائی (Ladies Tailoring) کا کام کرنے والے تو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع