30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہائے ! نافرمانیاں ، بَدکاریاں ، بے باکیاں
آہ! نامے میں گناہوں کی بڑی بھرمار ہے (وسائلِ بخشش)
کام کے دَوران اذان کا جواب دینے کا حکم
سوال : بعض اوقات کام بہت زیادہ ہوتا ہے ، ایسی صورت میں اذان کے وقت کام روک دیں یا جاری رکھیں؟
جواب : صَدرُالشَّریعہ ، بَدرُالطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِیفرماتے ہیں : جب اذان سنے تو جواب دینے کا حکم ہے ۔ ([1]) جب اَذان ہو تو اتنی دیر کے ليے سلام کلام اور جوابِ سلام ، تمام اَشغال مَوقوف کر دے یہاں تک کہ قرآنِ مجید کی تِلاوت میں اَذان کی آواز آئے تو تِلاوت موقوف کر دے اور اَذان کو غور سے سُنے اور جواب دے ۔ یوہیں اِقامت میں ۔ ([2]) دَورانِ اذان چلنا ، پھرنا ، کوئی چیز اُٹھانا ، رکھنا ، چھوٹے بچّوں سے کھیلنا اور اِشاروں میں گفتگو کرنا وغیرہ سب کچھ موقوف کر دینا ہی مناسب ہے ۔ ” راستے پر چل رہا تھاکہ ا ذان کی آواز آئی تو بہتر یہ ہے کہ اُتنی دیرکھڑا ہو جائے چُپ چاپ سُنے اور جواب دے ۔ “ ([3]) عُلمائے کِرام رَحِمَہُمُ اللّٰہ ُ السَّلَام نے یہاں تک فرمایا ہے کہ اذان کے دَوران کلام کرنے سے اِیمان کے سَلب ہوجانے کا اَندیشہ ہے ۔ ([4]) نیز اذان شعائرِ اِسلام سے ہے ۔ ([5]) اور شعائرِ اِسلام کا اَدب دِلی تقویٰ کی علامت ہے ۔ چنانچہ خُدائے رحمٰن عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے :
وَ مَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآىٕرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوْبِ(۳۲) (پ۱۷ ، الحج : ۳۲)
ترجمۂ کنز الایمان : اور جو اللہ کے نشانوں کی تعظیم کرے تو یہ دِلوں کی پرہیز گاری سے ہے ۔
لہٰذا جب اذان ہورہی ہوتو اتنی دیر کے لئے کام بالکل روک دیں اور اذان کا جواب دیں چاہے کام کا کتنا ہی بوجھ (Load) ہو ۔ اس میں آپ کا نقصان نہیں بلکہ فائدہ ہی فائدہ ہے اور وہ بھی آخرت کا ۔ دُنیوی مال و دولت پرنظر نہ رکھیے بلکہاللہ عَزَّوَجَلَّ کی رَحمت سے اذان کے جواب پر ملنے والے اَجرو ثواب پرنظر رکھیے ۔
سوال : اذان کا جواب دینے کی فضیلت بھی بیان فرما دیجیے ۔
جواب : اذان کا جواب دینے کی فضیلت پر مشتمل ایک رِوایت اور ایک حِکایت مُلاحظہ کیجیے اور رَحمتِ خُداوندی پرجھومئے : چنانچہ سرکارِ نامدار ، مدینے کے تاجدار صلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ خوشبودار ہے : اے عورَتو!جب تم بِلال کو اذان و اِقامت کہتے سُنو تو جس طرح وہ کہتا ہے تم بھی کہوکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہارے لئے ہرکلمہ کے بدلے ایک لاکھ نیکیاں لکھے گا اور ایک ہزار دَرَجات بُلند فرمائے گا اورایک ہزارگناہ مٹائے گا ۔ خواتین نے یہ سُن کرعرض کی : یہ تو عورَتوں کے لیے ہے ، مَردوں کے لیے کیاہے ؟ فرمایا : مَردوں کے لیے دُگنا ۔ ([6])
[1] بہار شریعت ، ۱ / ۴۷۲ ، حصہ : ۳
[2] بہارِ شریعت ، ۱ / ۴۷۳ ، حصہ : ۳
[3] فتاویٰ ھندیه ، کتاب الصلاة ، الباب الثانی فی الاذان ، ۱ / ۵۷
[4] جامع الرموز ، كتاب الصلاة ، فصل فی الاذان ، ۱ / ۱۲۴ باب المدینه کراچی
[5] تبیین الحقائق معه حاشیة الشیخ الشلبی ، ۱ / ۲۴۰ دار الکتب العلمية بیروت
[6] کنزالعُمّال ، كتاب الصلاة ، آداب المؤذن ، الجزء : ۷ ، ۴ / ۲۸۷ ، حدیث : ۲۱۰۰۵
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع