30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دی جاتی ہے وہ ) واجب ہو گی جو آٹھ آنے سے زیادہ نہ ہوگی ۔ ([1])
اَرجنٹ کپڑوں کی وجہ سے دوسروں کے کپڑے لیٹ کرنا
سوال : بعض اوقات دَرزی کام کے دَوران کسی سے زیادہ (Extra) پیسے لے کر اس کے کپڑے جلدی (Urgent) سی دیتے ہیں جس کی وجہ سے دوسرے لوگوں کے کپڑے لیٹ ہوجاتے ہیں ۔ اس کے بارے میں کیا حکم ہے ؟
جواب : اس کی چند صورتیں ہو سکتی ہیں : (۱) دَرزی نے اپنے پاس کچھ زائد کاریگر رکھے ہیں جو urgent کام کرتے ہیں جس کی وجہ سے طے شُدہ کاموں میں حَرج نہیں ہوتا تو اِس طرح کا order لینے میں حَرج نہیں ۔ (۲) کاریگر تو زائد نہیں لیکن دَرزی کے پاس اِضافی کام کی گنجائش ہے تب بھی اِس طرح کا order لینے میں حَرج نہیں (۳) دَرزی اپنے کاریگروں سے اِضافی مُعاوضے پر زائد وقت طے کر کے urgent کام کرا لیتا ہے تب بھی حَرج نہیں (۴) اگر یہ صورتیں نہ ہوں تو پھر اَخلاقی طور پر ایسا order لینا غَلَط ہے ، جو پہلے آئیں ان کے سوٹ پہلے سی کر دیئے جائیں ۔ ہاں! جس جس تاریخ کا وعدہ ہے اس سے لیٹ نہ ہوتے ہو تو بیچ میں جلدی (Urgent) سی کر دینے میں بھی حَرج نہیں ۔ ([2]) لہٰذا دَرزی اَرجنٹ آرڈر لینے میں اِس بات کا خیال رکھے کہ جن لوگوں سے مُقَرَّرہ وقت پر سی کر دینے کا وعدہ کر رکھا ہے اور وقت پر سی کر دینے کی نیت بھی تھی تو اس میں اَرجنٹ آرڈر کی وجہ سے تاخیر نہ ہونے پائے ۔
طے ہونے کے باوجود زبردستی اُجرت کم دینا کیسا؟
سوال : سِلائی کی اُجرت طے ہونے کے باوجود سوٹ لیتے وقت زبردستی طے شُدہ رقم سے کم دینا کیسا ہے ؟
جواب : یہ سرا سر ظلم و زیادتی ہے اور ایسا کرنا حرام ، حرام اور سخت حرام ہے ۔ اِجارے کے وقت جو اُجرت طے ہوئی ، کام کے اِختتام پراس طے شُدہ اُجرت کا ادا کرنا ضَروری ہے کیونکہ یہ اَجیر کا حق ہے اور اس کے حق میں کمی کرنا اس کی حق تلفی ہے ، ایساکرنے والا قہرِ قہار و غضبِ جبار کامستحق ہے ۔ اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلِسنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن کی بارگاہِ عالی میں سُوال ہوا کہ ” اگر کوئی شخص کسی مزدور کو بَرائے مَزدوری سو کوس یا پچاس کوس کے فاصلہ پر لے
جائے ، بعد ازاں اس سے چار پانچ ماہ تک کام کرالے اور بَر وقت حِساب کے اس کو تیس روپے کے کام کے بیس روپے اور اس پر سختی کرے اور اسے پریشان کرے ، جائز ہے یا ناجائز؟“توآپرَحمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے جواباً اِرشاد فرمایا : حرام ، حرام ، حرام ، کبیرہ ، کبیرہ ، کبیرہ ۔ رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے : قیامت کے دِن تین شخصوں کا میں مدعی ہوں گا اور جس کامیں مدعی ہوں میں ہی اسی پر غالِب آؤں گا ، ایک وہ جس نے میرا عہد دیا پھر عہد شکنی کی ۔ دوسرا وہ جس نے کسی آزاد کو غُلام بناکر بیچ ڈالا اور اس کی قیمت کھائی ۔ تیسرا وہ جس نے کسی شخص کو مزدوری میں لے کر اپنا کام تو اس سے پورا کرا لیا اور مزدوری اسے پوری نہ دی ([3]) ۔ ([4])
لہذا اِجارے کے وقت جو اُجرت طے پائی اس کا ادا کرنا ضَروری ہے ۔ اگرکوئی طے شُدہ رقم سے کم دے تو جتنی رقم اس نے کم دی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع