30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خاص پوچھی گئی صورت کا جواب یہ ہے کہ یہ اگر اَجیر مُشترک (جیسے عام دَرزی) تھا تو مِعیار کے مُطابق کام نہ کرنے کی دو صورتیں ہیں : (۱) کپڑا بالکل دُرُست نہ سیا تو اس صورت میں اس پر تاون ہوگا ۔ (۲) سیا تو دُرُست مگر ناپ میں ایک آدھ انگل کی کمی بیشی کر دی تو اس صورت میں تاوان نہیں ہوگا اور اُجرت کا مستحق ہوگا جیساکہ بہارِ شریعت میں ہے : درزی سے کہہ دیا کہ اتنا لمبا اور اتنا چوڑا ہو گا اور اتنی آستین ہو گی مگر سی کر لایا تو اس سے کم ہے جتنا بتایا اگر ایک ایک آدھ انگل کم ہے معاف ہے اور زیادہ کم ہے تو اسے تاوان دینا پڑے گا ۔ ([1])
اور اگر اَجیرِ خاص (جیسے تنخواہ دار کاریگر) تھا اور اس نے جان بوجھ کر کپڑے خراب کر دئیے تو اس پر تاوان ہوگا ورنہ نہیں جیساکہ بہار ِ شریعت میں ہے : اَجیرِ خاص کے پاس جو چیز ہے وہ اَمانت ہے اگر تلف ہو جائے تو ضمان واجب نہیں اگرچہ اس کے فعل کی وجہ سے تلف ہوئی مثلاً اَجیرِ خاص نے کپڑا دھویا اور اس کے (لکڑی یا پتھر کی سل وغیرہ پر) پٹکنے یا نچوڑنے سے پھٹ گیا ، اس پر ضمان واجب نہیں اور اَجیرِ مُشترک سے ایسا ہو تو واجب ہے ۔ ( جس کا مفصل ذِکر گزر چکا ہے ۔ ) ہاں !اگر اَجیرِ خاص نے قصداً اس چیز کو فاسِد و خراب کر دیا تو اس پر تاوان واجب ہو گا ۔ ([2])
مذاق کرنے والے دَرزی کیلئے بھی دُعائے خیر
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اگربالفرض کسی دَرزی نے آپ کے کپڑے خراب کربھی دیئے تو آپ بحث وتکرار یا لڑائی جھگڑے کے بجائے صبر کر کے خوب خوب اَجر و ثواب کماتے ہوئے شیطان کے اس وار کو ناکام بنا دیجئے کیونکہ اب لڑائی جھگڑا کرنے سے آپ کے کپڑے دُرُست نہیں ہو جائیں گے بلکہ آپ کا وقار مجروح ہو گا لہٰذا حُسنِ اَخلاق کا دامن تھامتے ہوئے ، اپنے اَسلافِ کِرام رَحِمَہُمُ اللّٰہ ُ السَّلَام کی پیروی کرتے ہوئے اس کے ساتھ نرمی سے پیش آئیے ۔ اس سے نہ صرف اس کو اپنے کئے پرنَدامت ہوگی بلکہ وہ آپ کا گرویدہ بھی ہو جائے گا ۔ اِس ضِمن میں ایک دِلچسپ حکایت سنیے :
منقول ہے کہ ایک بار حضرتِ سیِّدُنا امام شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ الْکافی نے کسی درزی سے قمیص سِلوائی ۔ وہ آپ رَحمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے مقام و مرتبہ سے ناواقف تھا ۔ اس نے مذاق کرتے ہوئے دائیں آستین اتنی تنگ کر دی کہ اس میں آپ رَحمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا ہاتھ بمشکل داخِل ہوتا اور بائیں اتنی کشادہ کر دی کہ اس میں سر بھی داخِل ہوسکتا تھا ۔ جب قمیص آپ رَحمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی خِدمت میں پیش کی گئی تو آپرَحمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھے جزائے خیر عطا فرمائے ! تنگ آستین وُضو میں اوپر چڑھانے کے لئے بہتر ہے اور کھلی آستین کتاب رکھنے کے لئے موزوں ہے ۔ ‘‘اِسی دَوران خلیفۂ وقت کا قاصِد دَس ہزار دِرہم لے کر آپ رَحمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی خِدمت میں حاضِر ہوا ۔ دَرزی کے پاس ہی اس کی آپ رَحمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے مُلاقات ہوگئی ۔ آپرَحمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے قاصِد کو فرمایا : ’’اس دَرزی کو کپڑوں کی سِلائی دے دو ۔ ‘‘جب دَرزی نے قاصِد سے آپ رَحمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے متعلق پوچھا تواس نے بتایا : ’’یہ حضرتِ سیِّدُنا امام شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْکافی ہیں ۔ ‘‘یہ سنتے ہی وہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پیچھے ہو لیا اور قدم بوسی کرکے معذرت کی پھر آپ رَحمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی خِدمت میں ہی رہنے لگا اور آپ رَحمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے حلقۂ اَحباب میں شامل ہو گیا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع