30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
گاہک کو بتائے بغیر اُجرت وُصُول کرلینا
سوال : اگرکوئی شخص گاہک کو 500روپے سِلائی بتا کر دَرزی کو 400 روپے دے اور 100 روپے اپنی محنت کے رکھ لے تواس کا ایسا کرنا کیساہے ؟
جواب : مذکورہ صورت میں گاہک کو 500 روپے اُجرت بتا کر 400 روپے دَرزی کو دینا اور گاہک و دَرزی کو بتائے بغیر 100روپیہ خاموشی سے اپنی جیب میں ڈال لینا شَرعی اِعتبار سے دُرُست نہیں ۔ اِس مسئلے کا حَل یہ ہے کہ اگر شخصِ مذکور نے اس کام میں تگ و دو اور محنت و کوشش کی ہے اور اُجرت بالکل طے نہ ہوئی تھی جیسا کہ سُوال سے ظاہر ہو رہا ہے تو اُسے اُجرتِ مثل ہی ملے گی اور دَلال کے لیے اپنی مَرضی سے گاہک کو بتائے بغیر 100روپیہ رکھ لینا جائز نہ ہوگا ۔ ہاں! اگر اُجرت طے ہوئی تھی اور وہ اُجرتِ مِثل سے زائد تھی تو اُجرتِ مِثل کا حق دار ہو گا اور طے شُدہ اُجرت ، اُجرتِ مِثل سے کم تھی تو اسے کم ہی دی جائے گی اور اگر اس نے کوئی محنت و کوشش نہیں کی تو محض زبانی دو چار باتیں کرنے سے اُجرت کا حقدار نہ ہوگا ۔ اُجرت کا مستحق ہونے کے لیے کچھ نہ کچھ محنت و کوشش ہونا ضَروری ہے جیساکہ حضرتِ سیِّدُنا اَبُو خَلدہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : میں نے حضرت عِکرمہ اور اَبُو العالیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے سُوال کیا کہ میں درزی کا کام کرتا ہوں ، کپڑوں کی کٹائی کرتا ہوں اور پھر جتنی اُجرت میں نے وُصُول کی ہوتی ہے اس سے کم اُجرت میں (دوسرے کو سِلائی کے لیے ) دے دیتا ہوں تو انہوں نے کہا : کیا تم ان کپڑوں میں کچھ کام (محنت و کوشش) بھی کرتے ہو؟ فرماتے ہیں : میں نے کہا : ہاں ! میں کپڑوں کو کاٹتا ہوں اورپھر آگے دے دیتا ہوں ۔ انہوں نے کہا : اِس میں حَرج نہیں ۔ ([1])
غیر مِعیاری کپڑے تیار کرنے میں تاوان کی صورت
سوال : کاریگر بسااوقات ہمارے مِعیار کے مُطابق مال تیار نہیں کرتے تو کیا اس صورت میں ہم ان سے تاوان (یعنی جرمانہ) لے سکتے ہیں؟نیز اگر دَرزی کپڑے خراب کر دے تو اس سے رقم وُصُول کر سکتے ہیں یا نہیں؟
جواب : اِس مسئلے میں اَجیرِ خاص اور اَجیرِ مُشترک کے اَحکام جُدا جُدا ہیں ۔ وہ اَجیرجو کسی خاص وقت میں ایک ہی شخص کے کام کرنے کا پابند ہو ’’اَجیرِ خاص‘‘ کہلاتا ہے جیسے دَرزی حضرات تنخواہ دے کر اپنے پاس کاریگر رکھتے ہیں ، اور وہ اَجیر جس کے لئے کسی خاص وقت میں فَردِ واحد کا کام کرنا ضَروری نہ ہو اور عام لوگوں کا کام بھی کر سکتا ہو تو اسے ’’اَجیرِ مشترک یا اَجیرِ عام‘‘کہتے ہیں جیسے وہ دَرزی جس سے عام لوگ اپنے کپڑے سِلواتے ہیں ۔
اَجیرِمُشترک کے ضَمان کے بارے میں صَدرُ الشَّریعہ ، بَدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : اَجیرِ مُشترک کے فعل سے اگر چیز ضائع ہوئی تو تاوان واجب ہے مثلاً دھوبی نے کپڑا پھاڑ دیا اگرچہ قصداً نہ پھاڑا ہو چاہے اُسی نے خود پھاڑا یا اُس نے دوسرے سے دھلوایا اُس نے پھاڑا ، بہرحال تاوان واجب ہے اور اس صورت میں دُھلائی کا بھی مستحق نہیں ۔ ([2]) ہاں! اگر اَجیرِمُشترک کے کسی فعل کے بغیر وہ چیز ضائع ہو گئی تو اس بارے میں اَجیر کے صالح ، فاسِق اور مستور الحال (جس کا صالح یا فاسق ہونا معلوم نہ ہو) ہونے کے اِعتبار سے مختلف اَحکام ہیں ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع