30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اگر کپڑا لیتے وقت غالِب گمان یہ تھا کہ اس وقت تک سوٹ تیار نہ ہو سکے گا پھر بھی چپکے سے لے لیا اس صورت میں شَرعاً یہ دَرزی گنہگار ہوگا کہ وعدہ پورا کرنے کی اس کی نیت ہی نہ تھی ۔ حُضُورپُرنور ، شافع یومُ النشور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمنے اِرشاد فرمایا : وعدہ خِلافی یہ نہیں کہ آدمی وعدہ کرے اور اس کی نیَّت اسے پورا کرنے کی بھی ہو بلکہ وعدہ خِلافی یہ ہے کہ آدمی وعدہ کرے اور اس کی نیّت اسے پورا کرنے کی نہ ہو ۔ ([1]) ایک اور حدیثِ پاک میں ہے کہ جب کوئی شخص اپنے بھائی سے وعدہ کرے اور اس کی نیَّت پورا کرنے کی ہو پھر پورا نہ کر سکے تو اُس پر گناہ نہیں ۔ ([2])
اِسحدیثِ پاک کے تحت مُفَسّرِشہیر ، حکیمُ الاُمَّت حضرت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اگر وعدہ کرنے والا پورا کرنے کا اِرادہ رکھتا ہو مگر کسی عُذر یا مجبوری کی وجہ سے پورا نہ کرسکے تو وہ گناہ گار نہیں ، یو ں ہی اگر کسی کی نیَّت وعدہ خِلافی کی ہو مگر اِتفاقاً پورا کر دے تو گنہگار ہے اُس بَدنیّتی کی وجہ سے ۔ ہر وعدے میں نیّت کا بڑا دَخل ہے ۔ ([3])
حسد ، وعدہ خلافی ، جھوٹ ، چغلی ، غیبت و تہمت
مجھے ان سب گناہوں سے ہو نفرت یارسولَ اللّٰہ (وسائلِ بخشش)
بروکر کو کمیشن دینے کی جائز صورت
سوال : کچھ لوگ ہمارے پاس گاہک لے کر آتے ہیں اور اس کے عِوض ہم سے کمیشن مانگتے ہیں جبکہ گاہک کو کچھ پتا نہیں ہوتا تو کیا اس صورت میں ہم ان کو کمیشن دے سکتے ہیں؟
جواب : جن لوگوں سے پہلے سے طے کر رکھا ہے کہ گاہک لانے پر آپ کو اتنا کمیشن ملے گا تو کمیشن کا لین دَین بعض صورتوں میں جائز ہو گا اور بعض میں ناجائز ۔ جائز کی صورت یہ ہے کہ کمیشن لینے والے گاہک پر برابر محنت کریں ، اپنا وقت یا سرمایہ صَرف کریں کہ جس سے دوڑ دھوپ کرنا ثابت ہوتا ہو تو اس صورت میں بروکر کا گاہک لانے پر کمیشن لینا جائز ہو گا اور اس کے بَرخلاف اگر کسی نے خود آ کراس بروکر سے پوچھا کہ کون سا دَرزی آج کل صحیح ہے تو بروکرنے کہہ دیا : فُلاں دَرزی تومحض اِس مشورہ پر کمیشن لینے کا حق دار نہیں ہوگا جیساکہ فتاویٰ رضویہ میں ہے : ” اگر کسی کارندے (یعنی کام کرنے والے ) نے اس کام کے سلسلے میں جودوڑ دھوپ کی وہ اپنے آقا کی طرف سے تھی ، بیچنے والے کی طرف سے نہ تھی اگرچہ بعض زبانی باتیں بیچنے والے کی طرف سے بھی کی ہوں مثلاً آقا کو مشورہ دیا کہ یہ چیز اچھی ہے ، خرید لینی چاہیے یا اس میں آپ کا نقصان نہیں اور مجھے اتنے روپے مل جائیں گے اور سیٹھ نے خرید لی تو کارندہ (یعنی کام کرنے والا) بیچنے والے کی طرف سے کسی اُجرت کا مستحق نہیں کہ اُجرت آنے جانے ، محنت کرنے کی ہوتی ہے نہ کہ بیٹھے بیٹھے دو چار باتیں کہنے ، صلاح بتانے ، مشورہ دینے کی ۔ ہاں! اگر بیچنے والے کی طرف سے دوڑ دھوپ میں اپنا وقت صَرف کیا تو صرف اُجرتِ مثل کا حقدار ہوگا یعنی ایسے کام کے لیے اتنی کوشش کرنے پر جو مزدوری ہوتی ہے اس سے زائد نہ پائے گا اگرچہ بیچنے والے سے اس سے زیادہ کاطے ہوا ہو اور اگر کارندے (یعنی کام کرنے والے ) سے اُجرتِ مثل سے کم میں طے ہوا تھا تو جو طے ہوا تھا وہی ملے گا کہ یہ کمی کارندے کی اپنی رضامندی کے نتیجے میں ہوئی ہے ۔ “ ([4])
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع