30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہے ، خواہ نماز میں ہو یا نہیں ، تنہا ہو یا کسی کے سامنے ، بِلاکسی غرضِ صحیح کے تنہائی میں بھی کھولنا جائز نہیں اور لوگوں کے سامنے یا نماز میں تو سَتر بالاجماع فرض ہے یہاں تک کہ اگر اندھیرے مکان میں نماز پڑھی ، اگرچہ وہاں کوئی نہ ہو اور اس کے پاس اتنا پاک کپڑا موجود ہے کہ سَتر کا کام دے اور ننگے پڑھی بالاجماع نہ ہو گی ۔ “ ([1]) یہی وجہ ہے کہ سو فیصد مسلمان لباس پہنتے ہیں جو خود کپڑے سیتے ہیں یا کسی دَرزی کی خِدمات حاصِل کرتے ہیں اَلبتہ غیر مسلموں میں کچھ قبیلے ضَرور ایسے ہیں جو کپڑے نہیں پہنتے یا مکمل سَتر ڈھانپنے کو ضَروری نہیں سمجھتے ۔ اِسلام میں ” مَرد کے لیے ناف کے نیچے سے لے کر گھٹنوں کے نیچے تک جبکہ عورت کے لیے چہرے کی ٹکلی ، دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں اور دونوں پاؤں کے تلووں کے علاوہ پورے وُجُود کو چھپانا فرض ہے ۔ “ ([2]) البتہ اگر دونوں ہاتھ (گِٹّوں تک) ، پاؤں (ٹخنوں تک) مکمل ظاہر ہوں تو ایک مُفْتٰی بِہ قول پر نماز دُرُست ہو گی ۔ ([3])
لباس کے ذَریعے سَتر پوشی کی اِبتدا
سوال : لباس کا اِستعمال کب سے شروع ہوا؟
جواب : لباس کا آغاز حضرتِ سیِّدُنا آدم صَفِیُّ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے ہوا ۔ جنَّت میں آپ عَلَیْہِ السَّلَام کا لباس قدرتی ناخن کا بنا ہوا تھا ۔ جب آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے ممنوعہ دَرخت کا پھل کھایا اور یہ لباس آپ عَلَیْہِ السَّلَام سے لے لیا گیا تو آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے اپنے وُجُود کو پتوں سے چُھپانے کی تَرکیب فرمائی جیساکہ قرآنِ مجید کے پارہ 8 سورۃُ الاَعراف کی آیت نمبر 22 میں خُدائے رَحمٰن عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے :
فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِؕ-
ترجمۂ کنز الایمان : پھر جب انہوں نے وہ پیڑ چکھا ان پر اُن کی شرم کی چیزیں کھل گئیں اور اپنے بدن پر جنَّت کے پتے چپٹانے لگے ۔
اِس آیتِ مُبارَکہ کے تحت تفسیرِ خازن میں ہے کہ جنَّت میں حضرتِ سیِّدُنا آدم صَفِیُّ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا لباس ناخن کا تھا مگر جب دَرخت سے کچھ کھایا تو ان کے بَدن ظاہر ہو گئے اور انہوں نے اِنجیر کے پتوں سے سَتر پوشی شروع کردی حتّٰی کہ وہ کپڑوں کی مانند ہو گئے ۔ مزید اسی میں ہے کہ یہ آیتِ مُبارَکہ اِس بات پر دَلیل ہے کہ ابنِ آدم کا سَتر کھلا رہنا ناپسندیدہ ہے ۔ یہی وجہ ہے جب حضرت آدم و حوا عَلَیْہِمَا السَّلَام پر کھلے سَتر کی قباحت (یعنی بُرائی) ظاہر ہوئی تو انہوں نے جلدی سے اپنا سَتر چُھپا لیا ۔ ([4])
” آدمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے نافرمانی کی“کہنا کیسا؟
سوال : ” سب سے پہلے حضرتِ آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے نافرمانی کی“یہ کہنا کیسا ؟
جواب : تلاوتِ قرآنِ کریم یا قِراءتِ حدیثِ پاک کے سِوا اپنی طرف سے حضرتِ سیِّدُنا آدم صَفِیُّ اللہ عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام خواہ کسی نبی کو مَعصِیَّت کی طرف منسوب کرنا سخت حرام بلکہ ایک جماعتِ عُلَمائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام نے اسے کفر بتایا ۔ چُنانچِہ اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اَہلسنَّت مولانا شاہ امام اَحمد رَضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : غیرِتِلاوت میں اپنی طرف سے سَیِّدُنا آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف نافرمانی وگناہ کی نسبت حرام ہے ۔ ائمَّۂ دِین (رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْن) نے اس کی تَصریح فرمائی بلکہ ایک جماعتِ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع