30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یہ بات ذہن میں رکھ کرکسی کو وقت دیں گے تو اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ گناہ سے بچت رہے گی ۔ رہی بات حالات کے خراب ہونے کی توحالات ہر روز خراب نہیں ہوتے ۔ اگر آپ کے علاقے میں حالات خراب تھے تو گاہک کو پتا ہوگا کہ اتنے دن سے حالات خراب ہیں ، دُکان بند پڑی ہے ، روز ہڑتالیں ہورہی ہیں تو ایسی صورتِ حال میں گاہک کوسمجھانا اِتنا دُشوار نہیں ہوتا بشرطیکہ سمجھانا بھی آتا ہو اوراگرسمجھانا نہیں آتا اور اَبے تبے کر کے بات کی تو آپ سو فیصدی سچے بھی ہوں گے تب بھی وہ آپ کی بات پریقین نہیں کرے گا اور یہی خیال کرے گا کہ آپ خواہ مخواہ ٹالم ٹول کر رہے ہیں لہٰذا اپناکردار اور گفتار کو ستھرا رکھیے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ گاہک مان جائے گا ۔
اَخلاق ہوں اچھے مِرا کردار ہو ستھرا
محبوب کا صَدقہ تو مجھے نیک بنا دے (وسائلِ بخشش)
آپ اگر عاشقانِ رسول کی مَدَنی تحریک دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول کے ساتھ وابستہ ہوکرنمازوں کی پابندی کریں گے اور زبان کو سلیقے سے چلائیں گے تو آپ کے گاہک آپ سے مطمئن رہیں گے کہ یہ نیک آدمی ہے ، اس کے چہرے پر نیکیوں کا نُور ، داڑھی کی بہار اور سر پر عمامے شریف کا تاج ہے ، یہ جھوٹ نہیں بول سکتا ۔ یوں اِعتماد کی فَضا قائم رہے گی اور اگر آپ قینچی کی طرح زبان چلائیں گے تو کوئی بھی آپ کی بات پر یقین نہیں کرے گا ۔
گاہک سے کیا گیا وعدہ پورا نہ کرنے کے بارے میں حکم
سوال : دَرزی حضرات عیدین یا شادی بیاہ کے مَواقع پر گاہکوں (Customers) سے سِلائی کے لیے کپڑے وُصُول کرلیتے ہیں اور واپسی کا وقت بھی دے دیتے ہیں حالانکہ انہیں یقین ہوتا ہے کہ مُقَرَّرہ وقت پر کپڑے نہیں دے سکیں گے ، ایسی صورت میں گاہکوں (Customers) کوبار بار دھکے کھلانا کیساہے ؟
جواب : عیدین اور شادی بیاہ کے مَواقع پرایسا بہت ہوتاہے ۔ بے چارے دَرزی لالچ کے مارے بہت سے آرڈرز لے لیتے ہیں لیکن جب دینے کا وقت آتاہے تو مختلف حیلے بہانوں سے گاہکوں کو ٹَرخانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ گاہک مطمئن ہوتے ہیں کہ وقتِ مُقَرَّرہ پرانہیں کپڑے تیارمل جائیں گے لیکن جب لینے کے لیے جاتے ہیں تواب انہیں’’صبح کو آجانا ، شام کو آجانا ، کل آ جانا‘‘وغیرہ وغیرہ جملے کہہ کر ٹالنے کی کوشش کی جاتی ہیں جس سے گاہکوں کو شدید تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور مسلمانوں کو تکلیف پہنچانا حرام ہے ۔ حدیثِ پاک میں ہے : جس نے کسی مسلمان کو اَذِیَّت دی اُس نے مجھے اَذِیَّت دی اور جس نے مجھے اَذِیَّت دی اُس نے بِلاشُبہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کو اَذِیَّت دی ۔ ([1]) لہٰذا دَرزیوں کو اپنے گاہکوں کے ساتھ کئے گئے وعدے کی پاسداری کرتے ہوئے وقتِ مقررہ پر کپڑے تیار کر کے ان کے حوالے کر دینے چاہییں ۔ اِرشادِ ربّ العباد ہے :
وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴) (پ۱۵ ، بنی اسرائیل : ۳۴)
ترجمۂ کنز الایمان : اور عہد پورا کرو بیشک عہد سے سوال ہونا ہے ۔
گاہک سے کپڑا وُصُول کرتے وقت اگر غالِب گمان یہ تھا کہ وقتِ مُقَرَّرہ پر دے دوں گا اور اس کے لئے کوشش بھی کی لیکن پھربھی وقت پر نہ دے سکا تو اب یہ وعدہ خِلافی نہیں کیونکہ کپڑالیتے وقت عموماً غالِب گمان پرہی واپس کرنے کا وقت دیا جاتا ہے اور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع