30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دوسریبات یہ ہے کہ کسی دوسرے کی وجہ سے گناہ کا اِرتکاب کرنا اور ان سب کا گناہ اپنے سر لینا یقیناً بہت بڑی نادانی ہے ۔ ہاں! اگر کوئی کاریگر گانوں کا رَسیا ہے تو اس پر اِنفرادی کوشش کر کے اس کی اِصلاح کر دیں ۔ اس کے لیے سیٹھ کا خود اپنا مَدَنی ذہن ہو گا تو اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ معاملات جلد دُرُست ہو جائیں گے کیونکہ عموماً کاریگر خود آلات لہو و لعب اپنے ساتھ نہیں لاتے بلکہ پہلے سے جاری نظام کے تحت کارخانے میں موجود ہوتے ہیں جس کی وجہ سے مُعاملہ جُوں کا توں چلتا رہتاہے وَرنہ کاریگروں میں اتنی مجال نہیں ہوتی کہ کسی سیٹھ کو غَلَط کام پر مجبور کریں اور وہ ان کے سامنے بے چارہ بے بس ہو کر رہ جائے ۔
میں گانے باجوں اور فلموں ڈراموں کے گنہ چھوڑوں
پڑھوں نعتیں کروں اکثر تلاوت یَارَسُوْلَ اللّٰہ (وسائلِ بخشش)
کپڑے کے بچے ہوئے ٹکڑے اِستعمال میں لانا
سوال : گارمنٹس کے شعبے میں ایک پارٹی کی طرف سے مختلف کپڑوں کے پیک شُدہ یا کھلے تھان آتے ہیں جن سے 50یا 60 پیس (Piece) تیار کرنے ہوتے ہیں ۔ کام مکمل ہونے کے بعد کپڑوں کے چھوٹے بڑے ٹکڑے بچ جاتے ہیں جو کبھی اِستعمال میں آ جاتے ہیں اورکبھی نہیں ۔ بعض اوقات مالک کہہ دیتا ہے کہ ٹھیک ہے آپ رکھ لیں ، ہمارے پیس پورے ہو چکے ہیں ۔ اب اس صورت میں بچ جانے والے ٹکڑوں کو اپنے اِستعمال میں لا سکتے ہیں یا نہیں؟
جواب : کپڑا سینے کے بعد جو کترن بچتی ہے عام طور پر عُرف یہی ہے کہ اس کو واپس نہیں لیا جاتاتو اسے رکھنے میں حَرج نہیں اوربڑے ٹکڑوں میں جہاں یہ عُرف ہو کہ لوگ انہیں بھی واپس نہیں لیتے توانہیں بھی رکھ سکتے ہیں اور جہاں لوگ واپس لیتے ہوں وہاں واپس دینے پڑیں گے ۔ ہاں !اگر مالک معلوم ہونے کے بعد کہتاہے کہ ٹھیک ہے ، ہمارا کام پورا ہوگیا ہے ، اب جو بچاہے وہ تم رکھ لوتو اب پورا تھان بھی بچ گیا اور آپ نے اِجازت کے ساتھ رکھ لیا تو کوئی حَرج نہیں ۔ یاد رکھئے !اِجازت دو طرح سے ہوتی ہے صَراحۃً یا دَلَالۃً ۔ صَراحۃً اِس طرح کہ مالک کہہ دے جو ٹکڑے بچے ہیں وہ آپ رکھ لیں تو یہ مالک کی طرف سے صَراحۃً اِجازت ہوگی اور دَلالۃً اِجازت یوں ہوتی ہے مثلاًاس کے ساتھ بارہا اِس طرح کامُعاملہ رہا کہ مُعاہدہ سے بچ جانے والے ٹکڑے واپس نہیں لیتا یا اس کو معلوم ہے کہ بقیہ ٹکڑے رکھ لئے جاتے ہیں اس کے باوجود وہ خاموش رہتاہے تو یہ دَلالۃً اِجازت سمجھی جاتی ہے کیونکہ اگراِجازت نہ ہوتی تو وہ اس کا مُطالبہ کرتا ۔
یہاں یہ بات ذہن نشین کر لیجئے کہ اِجازت صَراحۃً یا دَلالۃً سیٹھ ہی کی طرف سے ہو ۔ عام طور پر سیٹھ خود نہیں آتا بلکہ کسی نوکر کوبھیج دیتا ہے ۔ نوکر اگر کہے کہ رکھ لو تو اس کا یہ کہنا کافی نہ ہوگا کیونکہ نوکر کی جیب سے کچھ نہیں جاتا لہٰذا سیٹھ ہی سے رابطہ کرنا ہوگا نیز آرڈر کے بعد بڑے ٹکڑوں کا بچنا بھی سیٹھ کے علم میں ہو کیونکہ عموماً چھوٹے ٹکڑوں کا تو اسے علم ہوتا ہے اور اس نے پہلے سے اِجازت دے دی ہو تو وہ بھی چھوٹے ٹکڑوں ہی کی اِجازت ہو گی لہٰذا بڑے ٹکڑوں یا تھان بچنے کی صورت میں نئے سرے سے اِجازت دَرکار ہوگی جس میں بڑے ٹکڑوں یا تھانوں کی صَراحت ہو وَرنہ یہ مالک کو واپس کرنا ہوں گے ۔
دیکھا گیا ہے کہ گارمنٹس کی فیکٹریوں سے ایسے بڑے بڑے ٹکڑوں کی گانٹھیں نکلتی ہیں جوبچوں کے سُوٹ بنانے والوں کو مہیا (Supply) کی جاتی ہیں اور ان سے خاطر خواہ رقم ہاتھ آتی ہے ۔ اس لحاظ سے ” آم کے آم ، گٹھلیوں کے دام“ والے اس دور میں جب کچرا بھی کسی نہ کسی اِستعمال میں لایا جا رہا ہے ، سیٹھ کا بڑے بڑے قابلِ اِستعمال ٹکڑوں (Cut Pieces) کے حوالے سے کھلی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع