دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Darziyon k baray may swal jawab (Q-42) | دَرزیوں کےبارے میں سُوال جواب-قسط:42

book_icon
دَرزیوں کےبارے میں سُوال جواب-قسط:42

بھی غیبت کریں گے ، بولیں گے کہ ”   کتنا بیوقوف ہے ، جو مانگا  دے کر چلا گیا ، یہ دُنیا میں کیسے کامیاب ہوگا“ وغیرہ وغیرہ ، یہ سب غیبت ہی کی صورتیں ہیں ۔

بعضاوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ گاہک کے جانے کے بعددَرزی اپنے ساتھیوں سے کہتا ہے  : اس نے جیسے تیسے اُجرت تو کم کروا لی مگر پیسے نکالنا ہم بھی جانتے ہیں ۔ اب وہ  اُجرت والی کمی پوری کرنے کے لیے  کبھی  غیر مُناسب سِلائی کرتا ہے  تو کبھی اَدھورا کام کرتا ہے یا خیانت و بَد دِیانتی کرتے ہوئے ناقص میٹریل لگا دیتا ہے  حالانکہ وہ  گاہک سے پوری اُجرت وُصُول کر چکا ہوتا ہے یا کپڑے واپس دیتے ہوئے  وُصُول  کرے گا ۔  اللہپاک سب مسلمانوں کو نیک بنائے اور ایک دوسرے کے  حقوق  کا خیال رکھنے کی توفیق عطا فرمائے  ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم   

بدگمانی ، جھوٹ ، غیبت ، چغلیاں

                        چھوڑ دے تو رب کی نافرمانیاں  (وسائلِ بخشش)

بہرحال  اگر ہمیں  زبان کا قفلِ مدینہ لگانا نصیب ہوجائے تو بہت ساری آفتوں سے نجات مل سکتی ہے ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ  عاشقانِ رسول کی مَدَنی تحریک دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ اسلامی بھائی زبان کاقفلِ مدینہ لگاتے بلکہ  ” یوم قفلِ مدینہ“بھی مَناتے ہیں ۔ آپ بھی ہر مَدَنی ماہ کی پہلی پیر کودعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ رِسالے  ” خاموش شہزادہ “ کا مُطالعہ  کیجئے  اور بُری باتوں سے تو ہمیشہ  بچنا ہی  چاہیے ، اِس کے ساتھ ساتھ فضول باتوں سے بھی بچ کر  ” یومِ قفلِ مدینہ“منائیے مگر قفلِ مدینہ کا یہ مطلب ہر گز  نہیں کہ جائز بات بھی نہ کی جائے  جیسے کسی نے سلام کیا  یا چھینک کے بعد ” اَلْحَمْدُ لِلّٰہ“ کہا یااذان کی آواز  سنائی دی  تو ان کا جواب دیا جائے گا حتّٰی کہ جن چیزوں کا جواب دینا واجب ہے تو ان کا  جواب نہ دینے کی وجہ سے گناہ گار ہوں گے ۔ زبان کے  قفلِ مدینہ کا مقصد  اپنی  زبان کو فضول باتوں سے روکنا ہے کہ فضول گوئی سے خاموشی بہتر ہے اور نیکی  کی دعوت وغیرہ دینا خاموشی سے بہتر ہے ۔

زَبان اور آنکھوں کا قفلِ مدینہ

                   عطا ہو پئے مصطفے ٰ یاالٰہی     (وسائلِ  بخشش)

رَسید پر لکھی ہوئی تحریر کا حکم

سوال :  اکثر دَرزیوں کی رَسید پر لکھا  ہوتا ہے کہ ’’تین ماہ کے اندر اندر اپنا سوٹ لے جائیں ورنہ ہماری ذِمَّہ داری نہیں ہوگی ۔ ‘‘کیا اِس طرح  لکھ دینے سے  تین ماہ کے بعد ان کی ذِمَّہ داری ختم ہو جاتی ہے ؟

جواب : دَرزی کو جوکپڑے سینے کے لیے دیئے جاتے ہیں وہ اس کے پاس  وَدیعت یعنی اَمانت ہوتے ہیں اور وَدیعت  کا حکم یہ ہے کہ اس کی حفاظت کی جائے گی تاوقتیکہ مالک کے حوالے کر دی جائے اور مالک فوت ہوجائے تو اس کے وُرَثاءکے حوالے کی جائے گی اور اگر ان میں سے کوئی بھی نہ ملے تو تب بھی بطورِ وَدیعت اپنے پاس محفوظ رکھے گایہاں تک کہ اگر دَرزی نے جان بوجھ کر اسے ضائع کر دیا تو اس پر ضَمان (تاوان) لازم ہوگا ۔  دَرزی ، دھوبی  یا دِیگر پیشہ ور حضرات اگرچہ اپنی رسیدوں پر لکھوا بھی دیں کہ’’اپنا سامان مقررہ مدت تک لے جائیں ، تین ماہ کے بعد ہماری کوئی  ذِمَّہ داری نہ ہوگی ۔ ‘‘تب بھی وہ ذِمَّہ دار رہیں گے ، تین ماہ کیا  بالفرض تین سو سال کے بعد بھی مالک لوٹ آئے تو اسے اس کی اَمانت واپس کرنا ہو گی ۔  دَرزی حضرات سوچیں گے کہ وہ تین سو سال  تک  کیسے

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن