دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Darziyon k baray may swal jawab (Q-42) | دَرزیوں کےبارے میں سُوال جواب-قسط:42

book_icon
دَرزیوں کےبارے میں سُوال جواب-قسط:42

مُعَظَّم ہے  : جس نے اپنے بھائی کو ایسے گناہ پر عار دِلائی (یعنی شرمندہ کیا) جس سے وہ توبہ کر چکا ہے ، تو مَرنے سے پہلے وہ خود اس گناہ میں مبتلا ہوجائے گا ۔  ([1]) ہاں! اگر واقعتاً اس میں ایسی خامی یا  بُرائی ہے کہ جس  سے لوگوں کو نقصان پہنچ رہا ہے  تو  مشورہ لینے پر اپنے مسلمان بھائیوں کو نقصان سے بچانے کی اچھی نیت سے  اس  کی اس  بُرائی کا تذکرہ کر دے تو یہ گناہوں بھری  غیبت نہیں بلکہ اپنے مسلمان بھائی کی خیر خواہی ہے اور مشورہ مانگنے پر اگر مشورہ دینا چاہے تو صحیح مشورہ دینا واجب اور اس صورت میں بِلا اِجازتِ شَرعی عیب چھپانا خیانت ہے  ۔ عقلمند وہ ہے جو دوسروں کے عُیُوب دیکھنے ، ٹوہ میں پڑنے اور بیان کرنے کے بجائے اپنے عیبوں پرنظر کرے اور انہیں دور کرنے میں لگ جائے ۔  

کسی کی خامیاں دیکھیں نہ میری آنکھیں اور

سنیں نہ کان بھی عیبوں کا تذکرہ یاربّ    (وسائلِ بخشش)

غیبت  کے مختلف راستے

سوال : موجودہ ماحول میں دَرزیوں (Tailors / Dress Makers) میں غیبت کن کن راستوں سے داخِل ہو سکتی ہے ؟

جواب : اِنسان کو غیبت پر اُبھارنے والا شیطان ہے  جو اِنسان کی رَگوں میں خون کی طرح گردِش کر رہا ہے  ۔ یہ کم بخت اپنے فَن میں اتنا  ماہِر ہے کہ مختلف طریقوں سے  غیبت جیسے مہلک مَرض میں اِس طرح مبتلا کر دیتا ہے کہ کانوں کان خبر تک نہیں ہوتی مثلاً کسی دَرزی کے پاس گاہک آیا ، اس نے بھاؤ کم کروایا (یعنی Bargaining کی) اور کہا کہ وہ اتنی سِلائی دے گا ۔  تھوڑی بحث کے بعد اُجرت طے ہو گئی ۔  عین ممکن ہے کہ گاہک کے جانے کے بعد ایک دَرزی دوسرے درزی کو یا سیٹھ اپنے ماتحت کو بتائے  : یار!یہ چمڑا ہے ، بڑی مشکل سے قابو میں آیا ہے  ۔ اِس طرح اِس نے دو جملے بول کر گاہک کی غیبت کر دی اور  گناہگار ہوا ۔   

غیبت و چغلی کی آفت سے بچیں

                      یہ کرم یا مصطفٰے فرمائیے          (وسائلِ بخشش)

بھاؤ کم کروانا سُنَّت ہے

یاد رکھئے ! بھاؤ کم کرانا کوئی معیوب یا خِلافِ مُرَوَّت کام نہیں بلکہ سُنَّت ہے ۔ اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اَہلسنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں :  بھاؤ (میں کمی) کے لئے حجت (بحث وتکرار) کرنا بہتر ہے بلکہ سُنَّت سِوا اس چیز کے جوسفرِ حج کے لئے خریدی جائے ، اس (سفرِ حج کی خریداریوں) میں بہتر یہ ہے کہ جو مانگے دے دے ۔ ([2]) اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت نے سفرِ حج کے لئے خریدی جانے والی چیز میں بھاؤ کم نہ کروانے کا جو فرمایا ہے وہ افضل اور بہتر ہے ۔ اگر کوئی اس میں بھی بھاؤ کم کرواتا ہے تو وہ گنہگار نہیں ہے ۔ اب ہوسکتا ہے کہ دَرزی کے پاس آنے والا گاہک اتنا سمجھدا ر اور پرہیزگار آدمی ہو کہ سُنَّت پر عمل کرنے کی نیت سے اس نے  بھاؤ کم  کروایا  ہو اور دَرزی نے ’’یہ چمڑا ہے ، کنجوس ہے ، ہوشیار بنتاہے ‘‘وغیرہ وغیرہ اُلٹی سیدھی باتیں کہہ کر  نہ جانے  کتنی غیبتوں ، تہمتوں اور بدگمانیوں کا اِرتکاب  کر ڈالا ہو ۔  اِن سب باتوں سے بچنے کے لیے  علمِ دِین حاصِل کرنا ضَروری ہے ۔ ہمارے مُعاشرے  کے تقریباً  تمام شُعبہ جات  میں خریداری کے وقت  بھاؤ کم  کروانے کو بہت معیوب اور خِلافِ مُرَوَّت خیال کیا جاتا ہے اور بعض اوقات گاہک کو خوب بُرا بھلا بھی کہا جاتا ہے  اور اس کی خوب  غیبت کی جاتی ہے ۔ اگر گاہک  مُنہ مانگی رقم دے کر چلا جائے   تب 



[1]    ترمذی ، کتاب صفة القيامة ، باب (ت : ۱۱۸) ، ۴ / ۲۲۶ ، حدیث : ۲۵۱۳ دارالفکربیروت 

[2]   فتاویٰ رضویہ ، ۱۷ /  ۱۲۸ 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن