30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کوشش اور جنَّتُ الفردوس میں بے حساب داخلے کی دُعا کرتے رہنا چاہئے ۔ ([1])
بڑی کوششیں کی گنہ چھوڑنے کی
رہے آہ! ناکام ہم یاالٰہی
مجھے سچی توبہ کی توفیق ديدے
پئے تاجدارِ حرم یاالٰہی (وسائلِ بخشش)
اِن قباحتوں سے بچنے کے لیے چند طریقے پیشِ خدمت ہیں : (۱) اِس طرح کے کام اسلامی بہنیں خود سیکھ لیں اور اپنے گھروں پر ہی اِس کی تَرکیب بنایا کریں ۔ (۲) اسلامی بہنیں کسی اسلامی بہن ہی سے اپنے کپڑے سِلانے کی تَرکیب بنائیں ۔ (۳) اگر ایسا ممکن نہ ہوتو گھر کی خاتون ناپ لے اور کوئی مَحرم جا کر دَرزی کو سِلوانے کے لیے دے آئے ۔ (۴) یا کوئی پُرانا لباس کسی محرم کے ذَریعے دَرزی کو دے دیا جائے جس کے مُطابق وہ نیا لباس تیار کر دے ۔ اسلامی بہنوں کو چاہیے کہ بات بات پر گھر سے باہَر نہ دوڑتی پھریں ۔ صِرف شَرعی مصلحت کی صورت میں پَردے کی تمام قُیودات کے ساتھ باہَر نکلیں ۔
کریں اسلامی بہنیں شَرعی پَردہ
عطا ان کو حیا شاہِ اُمَم ہو (وسائلِ بخشش)
ایک دَرزی کا دوسرے کی خامیاں بیان کرنا کیسا؟
سوال : کیا ایک دَرزی دوسرے دَرزی کی خامیاں بیان کر سکتا ہے ؟
جواب : جی نہیں ۔ کسی مسلمان کے اندر موجود خامی یا بُرائی کو بِلا اِجازتِ شَرعی پیٹھ پیچھے بیان کرنا ’’غیبت‘‘کہلاتا ہے جوکہ حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے ۔ قرآنِ مجید میں غیبت کرنے کی ممانعت آئی ہے اور یہ مَرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانے کے مُترادِف ہے ۔ چنانچہ اِرشادِ ربّ العبادہے :
وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًاؕ-اَیُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ یَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِیْهِ مَیْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُؕ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ رَّحِیْمٌ (۱۲)
ترجمۂ کنز الایمان : اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو کیا تم میں کوئی پسند رکھے گا کہ اپنے مَرے بھائی کا گوشت کھائے تو یہ تمہیں گوارا نہ ہوگا اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے ۔ (پ۲۶ ، الحجرات : ۱۲)
اگر وہ خامی یا بُرائی جس کوبیان کیا گیا وہ اس کے اندرموجود ہی نہ ہو اور اس دَرزی نے بِلاوجہ اس کی بُرائی کر ڈالی تو یہ بہتان ہے جو غیبت سے بھی بڑا گناہ ہے ۔ چنانچہ سرکارِعالی وقار ، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم نے اِستفسار فرمایا : کیا تم جانتے ہو غیبت کیا ہے ؟ عرض کی گئی : اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کا رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم بہتر جانتے ہیں ۔ فرمایا : (غیبت یہ ہے کہ) تم اپنے بھائی کا اِس طرح ذِکر کرو جسے وہ ناپسند کرتا ہے ۔ عرض کی گئی : اگر وہ بات اس میں موجود ہو تو؟فرمایا : جو بات تم کہہ رہے ہو اگر وہ اُس میں موجود ہو تو تم نے اس کی غیبت کی اور اگر اس میں نہ ہو تو تم نے اُس پر بہتان باندھا ۔ ([2])
یہبھی ہوسکتاہے کہ جس خامی یا بُرائی کو بیان کیا گیا ہو وہ اس سے توبہ کر چکا ہواب اس کے توبہ کرنے کے بعد اس کی بُرائی کو بیان کرنا اور اسے دوسروں کی نظرمیں ذَلیل و رُسوا کرنا یہ بھی گناہ ہے ۔ چنانچہ نبی ٔ اکرم ، نُورِ مجسم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع