30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تعویذاتِ عطاریہ کے بستہ ذمہ دارکی حیثیت سے خیرخواہیِٔ اُمت کیلئے کوشاں ہوں ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں عمر بھر عقائدِ حسنہ (یعنی اچھےعقیدوں ) پر قائم اور اعمالِ صالحہ (یعنی نیک اعمال) پر دائم (یعنی استقامت سے عمل پیرا) رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفِرت ہو۔
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب! صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
{7} عاشقانِ رسول کی جماعت
باب المدینہ (کراچی، پاکستان) کے علاقہ کورنگی کراسنگ کے مقیم اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے میں باب المدینہ کے مشہور اسپتال ’’ لیاقت نیشنل ‘‘ میں ملازمت کرتا تھا۔ میرا گزر اکثر دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کے قریب سے ہوتا۔ کبھی سبز عمامے سجائے مدنی منّوں پر نظر پڑتی تو کبھی اجتماع میں آنے والی گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں دیکھتا۔ غالباً ۱۴۱۶ھ بمطابق 1996ء کی بات ہے کہ مجھے خیال آیا فیضانِ مدینہ باہر سے ہی دیکھتا ہوں کیوں نہ رمضان المبارک کی ستائیسویں شب وہیں عاشقانِ رسول کے ساتھ گزاری جائے۔ چنانچہ ڈیوٹی سے فارغ ہو کر میں فیضانِ مدینہ کی طرف آرہا تھا کہ راستے میں مجھے ایک شخص نے گھیر لیا۔ پوچھا کہاں جا رہے ہو؟ میں نے اپنا نیک ارادہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ فیضانِ مدینہ جارہا ہوں ، اس نے مجھے منع کرتے ہوئے سختی سے کہا وہاں مت جاؤ یہ لوگ صحیح نہیں ہیں ۔ اس طرح کی الٹی سیدھی باتیں کیں بالآخرمیں اس کی باتوں میں آگیا اور عشاء کی نماز کے لیے واپس ہسپتال کی مسجد کی طرف جانے لگا کہ راستے میں ایک بڑے میاں سے ملاقات ہوئی، جو کہ ہسپتال ہی میں کام کرتے تھے۔ انہوں نے واپسی کا سبب پوچھا تو میں نے ساری بات بیان کردی ۔ انہوں نے بہت پیار سے کہا بیٹا ! ایسی کوئی بات نہیں ہے وہاں تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلَّم کا ذکر ہوتا ہے، یہ تو عاشقانِ رسول کی جماعت ہے۔ تم ضرور جاؤ۔ بڑے میاں کے ان کلمات نے میرا دل باغ باغ کر دیا، میں نے اپنے دل میں ایک عجیب سی ٹھنڈک محسوس کی، نماز ادا کی اور فوراً عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ کی نورانی فضاؤں میں پہنچ گیا۔ ماہِ رمضان کی یہ عظیم رات فیضانِ مدینہ کے سنتوں بھرے ماحول میں اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی عبادت میں گزاری۔ یہاں مجھے رات گزارنے میں اتنا لطف آیا کہ ہر سال ستائیسویں شب فیضانِ مدینہ میں گزارنے کا پختہ ارادہ کر لیا۔ تادمِ تحریر ہر سال ستائیسویں شب فیضانِ مدینہ میں گزارتا ہوں ۔ اَلْحَمْدللّٰہ عَزَّوَجَلَّ فیضان مدینہ میں مانگی ہوئی دعائیں بھی قبول ہو رہی ہیں ۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفِرت ہو۔
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب! صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
{8} خیر خواہی کا قابلِ رشک جذبہ
صوبہ پنجاب (پاکستان) کے شہر سردار آباد (فیصل آباد) کے مضافات میں مقیم اسلامی بھائی کا بیان ہے: شبِ معراج کی بھینی بھینی سہانی رات تھی اور مجھے کسی اجتماع ذکر و نعت کے لیے کسی ایسی مسجد کی تلاش تھی کہ جہاں شب بیداری کا اہتمام ہو اور میں وہاں نیک و صالحین لوگوں کی صحبت میں بیٹھ کر اپنے پیارے رب عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کرکے اسے راضی کرسکوں ، چنانچہ میں اپنی منزل کو تلاشتا مختلف مساجد میں پہنچا مگر آہ ! بعض مساجد پر تو اس بابرکت رات بھی تالے پڑے تھے میں بڑا حیران ہوا کہ یہ لوگ ایسی رحمتوں بھری رات میں بھی برکتوں سے محروم ہیں ۔ بالآخر میں ایک جامع مسجد پہنچا سردی بھی بہت تھی میرے پاس کوئی گرم کپڑا بھی نہیں تھا مگر شب بیداری کر کے اپنے گناہوں کی معافی مانگنے اور نعت خوانی و بیان سننے کا جذبہ سردی پر غالب تھا۔ بہرحال اسی امید پر مسجد کے ہال میں پہنچا تو پتہ چلا کہ یہاں نعت خوانی و بیان کا سلسلہ ختم ہوچکا ہے۔ اب تو مجھے انتہائی افسوس ہوا۔ ابھی واپسی کا سوچ ہی رہا تھا کہ سبز عمامے اور سفید لباس میں ملبوس ایک اسلامی بھائی کو اپنی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع