30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بہارِشریعت اور دیگر کئی دینی کتب موجود ہیں جن کے مطالعہ کی وقتاً فوقتاً سعادت حاصل ہوتی رہتی ہے۔ تادمِ تحریر (اپنے علاقے میں ) مجلس رابطہ بالعلماء والمشائخ کے ذمہ دار کی حیثیّت سے دعوتِ اسلامی کے مدنی کاموں میں ترقی و عرج کیلئے کوشاں ہوں اور ایک مسجد میں امامت و خطابت کے فرائض بھی سرانجام دے رہا ہوں۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے مدرسۃ المدینہ (بالغان) میں پڑھنے اور عاشقانِ رسول کی صحبت کی برکت سے فلموں کا جنونی تائب ہو کر سنّتوں بھری زندگی بسر کر نے والے خوش نصیبوں کی فہرست میں شامل ہو گیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ تبلیغِ قراٰن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت قراٰنِ پاک کی تعلیم عام کرنے کے لئے جہاں مدنی منّوں اور مدنی منّیوں کے لئے مدارس المدینہ (للبنین وللبنات) قائم کیے ہیں ( جہاں فِی سَبِیْلِ اللہ قراٰنِ مجید کی تعلیم دی جاتی ہے) ۔ وہیں بڑی عمر کے مسلمانوں کے لیے جو کسی وجہ سے کلام الہٰی پڑھنے سے محروم رہے یاپھر درست پڑھنا نہیں جانتے انہیں تجوید کے ساتھ قراٰنِ پاک پڑھانے کے لیے بھی مدارس المدینہ (بالغان) کی ترکیب بنائی ہے۔ جو مختلف مساجد میں عموماََ بعد نمازِ عشاء لگتے ہیں جس میں بڑی عمر کے اسلامی بھائی تجوید و قرأت کے ساتھ قراٰنِ پاک پڑھنے کے ساتھ ساتھ نماز، روزہ، وضو، غسل، نمازِجنازہ کے بنیادی مسائل اور سنّتیں اور دعائیں سیکھتے ہیں۔ آپ بھی زندگی کی بقیہ سانسوں کو غنیمت جانتے ہوئے اپنے علاقے کی مسجد میں لگنے والے مدرسۃ المدینہ (بالغان) میں پڑھنے یا پڑھانے کی نیت کر لیجئے۔ قراٰنِ کریم کی تعلیم وتعلم اور تلاوت کے فضائل کے کیا کہنے!
حضرت سیدنا ابو اُمَامَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : میں نے نبیٔ کریم، رء وف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم کو فرماتے ہوئے سنا: ’’ قرآن پڑھا کرو کیونکہ یہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کی شفاعت کرے گا۔ ‘‘ (مسلم، کتاب صلاۃ المسافرین، باب فضل قراء ۃ القرآن وسورۃ البقرۃ، ص ۴۰۳، حدیث: ۸۰۴)
حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سرور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’ جس نے قرآن پڑھا اور اسے یاد کرلیا، اس کے حلال کو حلال جانا اور حرام کو حرام جاناتو اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے جنت میں داخل فرمائے گا اوراس کے گھر والوں سے ایسے دس افراد کے حق میں اس کی شفاعت قبول فرمائے گا جن پر جہنم واجب ہوچکی ہوگی۔ ‘‘ (ترمذی ، کتاب فضائل القرآن، باب ماجاء فی فضل قاری القرآن، ۴ / ۴۱۴، حدیث: ۲۹۱۴)
یہی ہے آرزو تعلیمِ قراٰن عام ہو جائے
ہر اک پرچم سے اونچا پرچمِ اسلام ہو جائے
{3} کرکٹ کا جنونی کیسے سُدھرا؟
کھاریاں (گجرات، پاکستان) کے علاقے کوٹلہ ارب علی خان کے مقیم اسلامی بھائی کا تحریر کردہ مکتوب کچھ یوں ہے : تبلیغِ قراٰن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول سے وابستگی سے قبل میری عملی حالت ناگفتہ بہ تھی۔ نمازوں کی فکر تھی نہ ہی تلاوتِ قراٰن کا کوئی ذوق و شوق تھا۔ الغرض شیطان کے ہاتھوں کھلونا بن کر رہ گیا تھا۔ فکرِ آخرت سے غافل نوجوانوں سے دوستی تھی جسکی وجہ سے بہت سی برائیوں کا شکار ہو چکا تھا۔ رات گئے تک دوست نما دشمن لڑکوں کے ساتھ آوارہ گردی کرنا، فلمیں ڈرامے گانے باجے دیکھنا سننامیری زندگی کا حصہ بن چکے تھے۔ جب تک دوچار گانے سن نہ لیتا رات مجھے نیند نہ آتی۔ مزید کرکٹ کھیلنے دیکھنے کا بھی جنونی تھا۔ افسوس سانسوں کے ’’ انمول ہیرے ‘‘ اس فضول کھیل کے شوق میں برباد کررہاتھا۔ کھیل کود کی محبت نے میرا دل پڑھائی سے اچاٹ کردیاتھا۔ صبح سویرے گھرسے اسکول جاتا مگر دورانِ پڑھائی چوری چھپے کھیل کے میدان میں پہنچ جاتا اور اسکول کی چھٹی کے وقت گھر کا رخ کرتا۔ والدین یہی سمجھتے کہ میں پڑھ کر آرہاہوں مگرافسوس میں خود ہی اپنے مستقبل کو برباد کر رہا تھا۔ جس دن میچ ہوتا، اسکول سے چھٹی کرلیتا اور سارا دن TV اسکرین کے سامنے بیٹھ کر میچ دیکھ کر اپنا قیمتی وقت ضائع کرتا۔
میری پُرخار زندگی میں نیکیوں کی بہار کچھ اس طرح آئی کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ َّکے فضل وکرم سے ایک دن مجھے اپنی گناہوں بھری زندگی پر ندامت ہونے لگی کہ افسوس! زندگی کے قیمتی ایام اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی میں گزار دیے۔ یقینا ایک دن مجھے مرنا ہے، اندھیری قبر میں اترناہے ، اگر یونہی زندگی کے ’’ انمول ہیرے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع