30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہاں تک آپہنچی کہ وہ قوّتِ گویائی سے بھی محروم ہوگئے ۔ ان کی اس حالت نے ہمیں فکر مند کردیا لہٰذا ہم انہیں مزید کسی اچھے ڈاکٹر کو دکھانے کے لئے حیدرآباد کے علاقے لطیف آباد میں موجود ایک آرتھو پیڈک سرجن کے پاس لے گئے اور اس کو دکھایا ۔ تقریباً 12 گھنٹے والد صاحب کو رکھنے کے بعد اس نے یہ کہہ کر ہم سے معذرت کرلی کہ یہ میرا کیس نہیں ہے آپ کسی اور کو دکھائیے ۔ اس سے ہماری پریشانی میں مزید اضافہ ہو گیا اور ہم پر خوف کے بادل منڈلانے لگے کہ نجانے والد صاحب کو کیا بیماری ہوگئی ہے ۔ ہم نے ایک دوسرے ہسپتال کی طرف رجوع کیا اور ڈاکٹروں کو دکھایا تو انہوں نے بتایا کہ خون کی بے انتہا کمی ہے لہٰذا فوری طور پر متعدد خون کی بوتلیں درکار ہیں چنانچہ خون کی بوتلوں کا انتظام کیا گیا اور یوں وہاں علاج کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا ۔
دورانِ علاج جب ان کے مختلف چیک اب کیے گئے اوران کی رپورٹیں سامنے آئیں توڈاکٹر نے ہمیں یہ مایوس کن خبر سنائی کہ نہ صرف ان کے دونوں گردے فیل ہوچکے ہیں بلکہ ان کو ھیپاٹائٹِس بھی ہو چکاہے، ساتھ ہی اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں کسی بڑے ہسپتال لے جانے کا بھی کہا ۔ یہ سنتے ہی ہمارے پیرو تلے زمین نکل گئی مگر ہم نے ہمت نہ ہاری اور اللہ عَزََّوَجَلَّکے بھروسے پر والد صاحب کو لے کر ایک دوسرے بڑے ہسپتال کی جانب روانہ ہوگئے، چنانچہ ان ہسپتال والوں نے والد صاحب کی سنگین حالت دیکھتے ہوئے انہیں ایمر جنسی وارڈ میں داخل کر لیا اور یوں وہاں بھی دواؤں کی زحمت اور خون کی بوتلوں کی کثرت نے ان کی جان کو ہلکان کیا، وہاں والد صاحب کا 15 دن قیام رہا اور ان کی طبیعت میں کچھ بہتری آئی، جس کے سبب ہماری بھی جان میں جان آئی ۔ بہرحال کئی ہفتوں علاج کے بعد ان کی حالت سنبھلنے پر ہسپتال والوں نے انہیں چھٹی دے دی اور گھر پر آرام کرنے کاکہا، یوں ابو جان کو گھر کا چین نصیب ہوا ۔
مگر یہ آرام بھی ان کے لئے عارضی ثابت ہوا چنانچہ ڈیڑھ ماہ بعد پھر والد صاحب کی طبیعت بگڑنے لگی اور اب کی بار تو انہیں قضائے حاجت میں بھی خون آنے لگا جو پھر مسلسل جاری ہوگیا اور ساتھ ہی کمزوری بھی ان پر حملہ آور ہوئی ۔ حالت کی ناسازی دیکھ کر ہم پھر انہیں ہسپتال لے کر روانہ ہوگئے ۔ جہاں ان کے علاج کی ترکیب بنی، مختلف نوعیت کے ٹیسٹ بھی ہوئے ۔ دورانِ علاج ایک رات والد صاحب کو خون کی الٹی ہوئی، ان کی آنکھیں اوپر کی طرف چڑھ گئی اور ان پر بے ہوشی طاری ہوگئی، بگڑتی حالت کے پیشِ نظر انہیں I.T.C وارڈ میں داخل کردیا گیا اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ انہوں نے پہچاننا بھی چھوڑدیا ۔ اس صورتحال نے سب کو پریشان کردیا، پھر جب بھائی جان کی ڈاکٹر سے بات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ آپ کے والد صاحب کے جسم میں وَین نامی رگ پھٹ چکی ہے جس کا علاج اب آپریشن سے بھی ممکن نہیں ہے اس لئے اب صرف دعا ہی کی جاسکتی ہے ۔ اس خبر نے سب پر ایک قیامت برپا کردی، ہمارے دل ٹوٹ گئے، ساری امیدیں دم توڑگئی، گھر میں ایک کہرام مچ گیا اور رونا دھونا شروع ہوگیا ۔ کیا کھانا، کیا پینا، کیا سونا سب ہمارے لئے بے معنی ہوگئے ۔ ہم پر یتیمی کے بادل منڈلانے لگے اور کسی بھی وقت ملنے والی متوقّع الم ناک خبر کے ڈر سے ہمارے کلیجے منہ کو آنے لگے ۔
ہم بے کسی اور بے بسی کے لمحات بسر کر رہے تھے کہ اسی دوران ہمارے مرجھائے دلوں پر ایک ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آیا، کیا دیکھتے ہیں کہ مجازِ عطار ( مجازِعطار سے مراد وہ اسلامی بھائی ہیں جن کو یہ اجازت دی جاتی ہے کہ وہ دیگر اسلامی بھائیوں کو امیرِاہلسنّت بانیِ دعوت اسلامی کے ذریعے غوث ُالاعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْاکْرَم کامرید بناسکتے ہیں ) والد صاحب کی عیادت کے لئے تشریف لے آئے ہیں ۔ انہوں نے ہماری ہمت بندھائی اور اللہ عَزَّ وَجَلَّکی ذات سے امید دلائی اور کرم بالائے کرم نگرانِ شوریٰ سے دُعا کی ترکیب بھی بنوائی ۔ انہی دنوں شہزادۂ عطار حضرت مولانا حاجی عبید رضا عطاری المدَنی سَلَّمَہُ الْغَنِیْاندرونِ سندھ تشریف لائے ہوئے تھے چنانچہ وہ بھی والد صاحب کی عیادت کے لئے تشریف لے آئے، انہیں دیکھ کر گویا ہمارے مردہ جسموں میں جان
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع