دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Currency Note kay Masail | کرنسی نوٹ کے مسائل

book_icon
کرنسی نوٹ کے مسائل

کوئی ولایت (GuardianShip) حاصل نہیں ، جیسا کہ"ہدایہ" اور" فتح القدیر" کے حوالے سے گزرچکاکہ بائع و مشتری(Seller  &  Purchaser)کو اختیار ہے کہ کم یا زیادہ جتنی قیمت چاہیں  مقررکرلیں ۔

                    سیدی اعلی حضرت علیہ رحمۃ ا لرحمن کے بیان کردہ مسئلے سے بعض کو سود(Usury)  کا اشتباہ ہو سکتا تھا چنانچہ آپ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن نے اس مسئلہ کی بھی وضاحت فرما دی کہ سود کی دو علتیں (Causes) ہیں ، ایک جنس اور دوسری قدر( یعنی کسی چیز کا مکیلی یعنی ناپ کر بکنایاموزونی یعنی وزن سے بکنا)، اگرکسی چیزکے کسی دوسری چیزسے تبادلے میں  قدر (Dimension) اور جنس (Species) دونوں  یکساں ہوں تو کمی بیشی اور ادھار دونوں  حرام  ۔  اور اگر جنس و قدر میں  سے کوئی ایک علت پائی جائے تو کمی بیشی حلال اور ادھار حرام، اورنوٹ کی نوٹ سے خریدوفروخت میں  سود کی دوعلتوں  میں  سے صرف ایک علّت یعنی جنس پائی جاتی ہے ، لہذا کمی بیشی جائز اور ادھار ناجائز ہے ۔

             چنانچہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  نے کثیر کتب ِ فقہیہ کی روشنی میں  نوٹ کا کم اور زیادہ پر بیچنا جائز ثابت کیا اور مولانا عبد الحئ صاحب لکھنوی کا فتویٰ جو اس کے خلاف تھااس کی اصلاح فرمائی ۔ اورآگے چل کر قوانینِ شرعیہ کی روشنی میں ایسے چھ شرعی حیلے (Stratagems) بیان کیے کہ جن پر عمل کرکے کثیر منافع حاصل کیے جا سکتے ہیں  اور سود سے بھی بچا جا سکتا ہے  ۔  چنا نچہ اگر فقہاء کرام کے بیان کردہ اُن طریقوں  پر ہمارے ارباب حل و عقد توجہ فرمالیں  تو آج نہایت آسانی سے بینکنگ کے نظام کو شریعتِ مطہرہ کے عین مطابق زیادہ منافع بخش بنایا جاسکتا ہے  ۔

سوال نمبر۱۲ :  کیا یہ صورت کہ زیدجب عمرو سے قرض لینا چاہے تو عمرو کہے کہ چاندی کے روپے تو میرے پاس نہیں  البتہ دس کا نوٹ چاندی کے بارہ روپوں  کے عوض تجھے ایک سال تک قسطوں  (Instalment) پر بیچتا ہوں  اس شرط پر کہ تم ہر مہینہ مجھے ایک روپیہ بطور قسط ادا کروگے جائز ہے ؟ یا پھر یہ صورت سودکا حیلہ ہونے کی و جہ سے منع ہے ، اور اگر یہ صورت جائز ہے تو اس میں  اور سود میں  کیا فرق ہے کہ یہ حلال اور وہ حرام ہے ، حالانکہ دونوں  سے مقصود (Intended) زائد مال کا حصول ہے ۔

جواب : مذکورہ سوال کا جواب دیتے ہوئے سیدی اعلی حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن ارشاد فرماتے ہیں   : "اگر دونوں  حقیقۃً بیع ہی کی نیت سے لین دین کریں  اور قرض کی نیت نہ کریں  تو یہ صورت جائز ہے ، نیز اس صورت میں  کمی بیشی اور مدت معیّنہ (Term) تک اُدھار بھی جائز ہے " ۔ کیونکہ نوٹ کاغذ کی جنس سے ہے اور روپے چاندی کی جنس سے ، چنانچہ دونوں  کی جنسیں  مختلف ہوئیں  اور ان میں  قدر بھی مشترک نہیں ؛ کیونکہ دونوں  ہی گِن کر بکنے والی چیزیں ہیں ، اور گِن کر بکنے والی اشیاء میں سودنہیں  ہوتا، جیسا کہ شروع میں  تفصیل سے بیان کیا جا چکاہے لہذاان دونوں کے تبادلے میں  کمی بیشی اوراُدھاردونوں  ہی جائز ہیں ۔  جیسا کہ ہم ان سب باتوں  کی تحقیق بیان کر آئے اور قسط بندی بھی ایک قسم کی مدت معیّن کرنا ہی ہے یہ بھی جائز ہے ، ہاں …! اگر دس کا نوٹ قرض دیا اور شرط کرلی کہ قرض لینے والا بارہ یا گیارہ روپے اب یا کچھ مدت بعد قسط بندی سے یا بلا قسط واپس دے تو یہ ضرور حرام اور سود ہے ؛ کیونکہ یہ ایک قرض ہے جس سے نفع حاصل کیا گیا  ۔  اور بے شک ہمارے رسولُ اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ : ((کل قرض جر منفعۃ فھو ربا))

            ترجمہ : ’’ جو قرض کوئی نفع کھینچ کر لائے وہ سود ہے ‘‘ ۔ (کنز العمال ، کتاب الدین والسلم ، رقم الحدیث : ۱۵۵۱۲، ج۶ ، ص ۹۹)

     گویا اس صورت میں  تجارت جائز اور قرض ناجائز ہے ۔

     اس کے بعد کتبِ حدیثیہ و فقہیہ کی روشنی میں  امام اعظم ابو حنیفہ اور صاحبین رَحِمَہُمُ اللہ کے نظریات واضح فرمائے اور ہر پہلو سے مسئلہ کی حقیقت کو روشن کردکھایا ۔  سود کی حدبندی کرکے جائز طریقوں  پر نفع حاصل کرنے کی صور تیں  بھی تحریر فرما دیں اور اس اعتراض "تو اس میں  اور سود میں  کیا فرق ہے کہ یہ حلال اور وہ حرام ہے ؟" کا جواب بھی ارشاد فرمادیا ۔  

      اب آیئے ! سیدی اعلی حضرت ، امام اہلسنت، امام احمد رضا خان علیہ رحمۃالرحمن کے اس مبارک رسالے  ’’کفل الفقیہ الفاھم في أحکام قرطاس الدراھم‘‘ کا ترجمہ بنام’’کرنسی نوٹ کے شرعی احکامات‘‘ ملاخطہ فرمائیں   ۔

شعبۂ کتب أعلی حضرت

المدینۃ العلمیۃ

کفل الفقیہ الفاہم في أحکام قرطاس الدراھم

سوال : "اللہ تَعَالٰی آپ کی عمر دراز فرمائے "کرنسی نوٹ کے بارے میں  آپ کیا فرماتے ہیں  ؟اس سے متعلق چند باتیں  دریافت کرنی ہیں ۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن