30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کھلانے یاکھانے میں شرعاً کوئی حرج نہیں،تاہم پھر بھی اس سے بچنا چاہیےکہ بارہا ایساہوتاہےکہ کوئی ایک فردکھلا دے،تودیگرافرادکومروّت میں کھلاناپڑتاہے اوریوں نوبت ممنوع کام تک پہنچ جاتی ہے،لہٰذاتقوی واحتیاط کاتقاضایہی ہے کہ اس سے بھی بچاجائے۔
رشوت کی مذمت کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشادفرمایا:
سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ اَكّٰلُوْنَ لِلسُّحْتِ
ترجمہ کنز العرفان :بڑے جھوٹ سننے والے بڑے حرام خور ۔(1)
اس آیت مبارکہ کی تفسیرمیں مفسّرقرآن امام ابوبکراحمدبن علی جَصَّاص رازی حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہ (سالِ وفات:370ھ/ 980ء) لکھتے ہیں:” اتفق جمیع المتاولین لھذہ الآیۃ علی ان قبول الرشا حرام و اتفقو انہ من السحت الذی حرمہ اللہ تعالی “ترجمہ:اس آیت کےتحت کلام کرنے والے تمام مفسرین اس بات پر متفق ہیں کہ رشوت کاقبول کرنا حرام ہے اوراس بات پر(بھی)اتفاق ہے کہ رشوت بھی،سُحت سے ہی ہے،جسے اللہ تبارک و تعالیٰ نے حرام فرمایا ہے۔(2)
حضرت عبد اللہ ابن عمرو رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے:’’ لعن رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم الراشی والمرتشی ‘‘ترجمہ: رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے رشوت لینے والے اور دینے والے پر لعنت فرمائی۔(3)
رشوت کی تعریف بیان کرتے ہوئے ،علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہ (سالِ وفات:1252ھ/1836ء) لکھتے ہیں:” الرشوۃ:ما یعطیہ الشخص الحاکم وغیرہ لیحکم لہ او
[1] …۔ (پارہ06،سورۃ المائدۃ آیت :42)
[2] …۔ (احکام القرآن للجصاص،جلد2،صفحہ607،مطبوعہ کراچی)
[3] …۔ (سنن ابو داؤد، باب فی کراھیۃ الرشوۃ،جلد5 ،صفحہ 433،مطبوعہ دار الرسالةالعالمية)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع