30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مَرْغِینانی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہ (سالِ وفات:593ھ/1196ء) لکھتے ہیں:’’ الکفالۃ ضربان:کفالۃ بالنفس وکفالۃ بالمال،فالکفالۃ بالنفس جائزۃ والمضمون بھااحضار المکفول بہ۔۔۔واما الکفالۃ بالمال فجائزۃ معلوماًکان المکفول بہ اومجھولاوالمکفول لہ بالخیاران شاء طالب الذی علیہ الاصل و ان شاء طالب کفیلہ ‘‘ترجمہ:کفالت کی دو قسمیں ہیں:کفالت بالنفس اورکفالت بالمال،کفالت بالنفس درست ہے اوراس میں مکفول بہ کوحاضر کرنے پرضمانت دی جاتی ہے۔۔۔ اورکفالت بالمال بھی جائزہے،خواہ مال کی مقدارمعلوم ہو یا مجہول اورمکفول لہ کواختیار ہے،چاہے اُس سے مطالبہ کرے،جس پر اصل مطالبہ ہے اوراگرچاہے،تواس کے کفیل سے مطالبہ کرے۔(1)
اصیل کے رقم ادا نہ کرنے یافرار ہونے پرکفیل(ضمانت دینے والے)سے قرض کی رقم کامطالبہ کیاجاسکتاہے،جیساکہ فتاوی رضویہ میں ہے:”ہاں اگرزیدنے یہ کہاکہ یہ نہ دے ،تومیں ادا کروں گا،توبلاشبہ بکراس قدر روپیہ کازید(کفیل)سے مطالبہ کرسکتاہے۔“(2)
کسی کومحض قرض دینے کامشورہ دیا،لیکن اس کی طرف سے کفیل نہیں بنا،تو یہ ذمہ دار نہیں،جیساکہ فتاوی رضویہ میں ایک سوال کے جواب میں امام اہلسنت رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”کفالت بالمال کامطالبہ ہندہ کوخالدپراصلاً نہیں پہنچتا ،بوجوہ:وجہ اول :خالد نے یہ نہ لکھا کہ اگر زید بھاگ جائے ،تو ہندہ کے دَین یا مال یا زر دعوٰی یا اس قدرروپے کامیں ذمہ دار ہوں،بلکہ مطالبہ کاذمہ دارہوااورمطالبہ ودین میں فرق بدیہی ہے۔(3)
[1] …۔ (ھدایہ، كتاب الكفالة ، جلد3، صفحہ87،مطبوعہ داراحیاء التراث العربی، بیروت)
[2] …۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد17،صفحہ654،مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن،لاھور)
[3] …۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد17،صفحہ659،مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن،لاھور)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع