30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کفالت کی تعریف کے متعلق تنویر الابصار اور درمختار میں ہے:’’ ھی ضم ذمۃ الکفیل الی ذمۃ الاصیل فی المطالبۃ مطلقاً بنفس اوبدین او عین کالمغصوب ونحوہ ‘‘ترجمہ:کفیل کے ذمہ کواصیل کے ذمہ کے ساتھ مطالبے میں ملا دینا، خواہ وہ مطالبہ نفس کا ہو یا دَین یا عین، مثلاً مغصوبہ چیز یا اس کی مثل کا۔
کفالت کی شرائط کےمتعلق دررالحکام،فتح القدیراورردالمحتارمیں ہے: واللفظ للاوّل : ”( قال أدفعه إليك أو أقضيه لا يكون كفالة إلا أن يذكر مايدل على الالتزام أو علق ) قال في الخلاصة.وفي فتاوى النسفي لو قال لصاحب الدين الدين الذي لك على فلان أنا أدفعه إليك أو أقضيه،لايكون كفالة ما لم يتكلم بما يدل على الالتزام بأن يقول كفلت أو ضمنت أو علي أو إلي أما لو قال تعليقا يكون كفالة نحو إن قال إن لم يؤد فلان فأنا أؤدي تصح “ ترجمہ :اگر کسی نے کہا(تیرافلاں پرجوقرض ہے)وہ میں تمہیں دوں گا یامیں اداکردوں گا،تویہ کفالت نہیں ہوگی،مگریہ کہ ایسے الفاظ ذکرکر ے،جوالتزام پردلالت کرتے ہوں یابطریقِ تعلیق الفاظ کہے ہوں۔ خلاصہ میں فرمایا :فتاویٰ نسفی میں ہے کہ اگرکسی نے قرض خواہ کوکہاکہ تمہاراجوقرض فلاں پر ہے،وہ میں دوں گایامیں اداکردوں گا،تویہ کفالت نہیں ہوگی، جب تک کہ ایسے الفاظ نہ بولے جوالتزام پردلالت کرتے ہیں،مثلاًمیں کفیل ہوں یامیں ضامن ہوں یامجھ پرلازم ہے یامیرے ذمہ ہے، لیکن اگر (التزام کے الفاظ نہیں بولے،بلکہ)بطریقِ تعلیق الفاظ کہے،مثلاً اگر(تمہاری رقم)فلاں ادانہ کرے،تومیں اداکردوں گا،تویہ کفالت صحیح ہو گی۔(1)
کفالت میں رقم کامطالبہ کس کس سے ہوسکتا،اس کے متعلق علامہ بُر ہانُ الدین
[1] …۔ (درر الحکام ، کتاب الکفالۃ ، ارکان الکفالۃ ، جلد 2 ، صفحہ 301 ، مطبوعہ داراحیاء الکتب العربیۃ )
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع